’کہانی اچھی ہو تو جسم کی نمائش منظور‘
- مصنف, صائمہ اقبال
- عہدہ, بی بی سی، دہلی
جاوید اختر کیوں روپڑے؟

گزشتہ دنوں معروف شاعر اور سکرپٹ رائٹر جاوید اختر اپنے آنسو نہیں روک پائے اور رو پڑے۔ اس کی وجہ تھی ان کے بیٹے فرحان اختر کی فلم ’بھاگ ملکھا بھاگ‘۔
فرحان اختر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے والد کے اشکبار ہونے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلم بھارت کے مشہور رنر اور ایتھلیٹ ملکھا سنگھ کی زندگی پر مبنی ہے۔
انھوں نے کہا ’فلم کو دیکھ کر پاپا کو شاید اپنی پریشانیوں کے صبر آزما دن یاد آگئے۔ ملکھا سنگھ کو جس قسم کی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا اور جس طرح سے اپنی تمام مشکلات کو پیچھے چھوڑتے ہوئے انھوں نے جیت حاصل کی ان کے اسی جذبے اور اس کے خلاف جدوجہد دیکھ کر پاپا کی آنکھوں میں آنسو آگئے‘ انہیں اپنی صبر آزما جدوجہد کے دن یاد آگئے۔
’کہانی اچھی ہو تو جسم کی نمائش منظور‘

فلم ’گینگز آف واسع پور‘، ’لو شوتے چکن کھرانا‘ اور’ایک تھی ڈائن‘ میں اپنی خوبصورتی اور اداکاری کے لیے شہ سرخیوں میں آنے والی اداکار ہما قریشی کو فلموں میں جسم کی نمائش سے کوئی اعتراض نہیں۔
لیکن اس کے ساتھ ان کی شرط یہ ہے کہ جسم کی نمائش فلم کی کہانی سے مطابقت رکھتی ہو۔
بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’ایک اچھی فلم کے لیے مجھے یہ منظور ہے۔ لیکن محض سنسنی پھیلانے کے لیے میں جسم کی نمائش نہیں کروں گی۔اگر فلم کو صرف جسم کی نمائش کے ذریعے فروخت کیا جائے گا تو وہ مجھے کسی طور قبول نہیں ہوگا۔‘
ان کے مطابق وہ کہانی کی مانگ کے مطابق نمائش کرنے سے پرہیز نہیں کریں گي۔
خوبصورتی کی تعریف میں کیا حجاب؟

بالی وڈ میں اپنے قدم جمانے کی کوشش میں لگے اداکار رنویر سنگھ کا نام بار بار مختلف اداکاراؤں کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ فلم انڈسٹری کے بعض حلقوں میں انہیں ’فلرٹ‘ یعنی دل پھینک کا خطاب بھی دے دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رنویر سنگھ نے اپنی اس شناخت پر بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا ’مجھے اس سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ میں خوبصورتی کی تعریف کرنے سے خود کو روک نہیں پاتا۔ مجھے کوئی اچھا لگتا ہے تو میں کہہ دیتا ہوں۔ اس لیے شاید لوگ مجھے فلرٹ کہتے ہیں۔‘
رنویر سنگھ آئندہ ہفتے سوناکشی سنہا کے ساتھ فلم ’لٹیرا‘ میں نظر آنے والے ہیں۔ ان کی فلموں میں ’بینڈ باجا بارات‘، ’لیڈیز ورسز رکی بہل‘ شامل ہیں۔







