امیتابھ ٹی وی سیريل میں نظر آئیں گے

امیتابھ بچن
،تصویر کا کیپشنامیتابھ بچن نے اپنی منفرد شناخت ہر میدان میں قائم کی ہے

ٹیلی ویژن پر امیتابھ بچن کا آنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ سے لے کر ’بگ باس‘ اور ٹی وی اشتہارات ہر جگہ امیتابھ بچن چھائے رہتے ہیں لیکن بہت جلد ان کو ایک نئے رول میں دیکھا جا سکتا ہے۔

امیتابھ بچن ایک ٹی وی سيریل میں اداکاری کرتے نظر آئیں گے جن کی تخلیقی ہدایت انوراگ کشیپ دے رہے ہیں۔

دیگر سیریلز کے مقابلے یہ سیریل محدود قسطوں پر مبنی ہوگا۔ اس سیریل کے بنانے میں امیتابھ بچن کی کمپنی شراکت دار ہے۔

اگرچہ امیتابھ، انوراگ یا ٹی وی چینل میں سے کسی نے بھی فی الحال سيریل کی کہانی یا اس کے مرکزی خیال کے بارے میں بات نہیں کی ہے لیکن امیتابھ بچن نے بتایا کہ وہ گزشتہ چھ ماہ سے اس پروجیكٹ پر کام کر رہے ہیں۔

اب جب کہ ٹی وی پر سیریل کی سیلاب آیا ہوا ہے جن میں سے کچھ پروگرام تو پچھلے کئی سالوں سے مسلسل جاری ہیں ایسے میں امیتابھ کا سیریل کتنا مختلف ہو گا یا پھر وہ بھی بھیڑ کا حصہ بن کر رہ جائے گا؟

اس پر امیتابھ نے کہا: ’ٹی وی پر بہت سارے سیریئلز چل رہے ہیں جو کامیاب بھی ہیں اور ہم اس کی تعریف کرتے ہیں لیکن ہم کچھ ایسی کہانی بنانا چاہتے ہیں جو قدرے مختلف ہو اور جو ناظرین کے سامنے پہلے کبھی نہیں آئی ہو۔‘

امیتابھ بچن نے گیٹسبی میں ایک مختصر سا کردار نبھایا ہے
،تصویر کا کیپشنامیتابھ بچن نے گیٹسبی میں ایک مختصر سا کردار نبھایا ہے

امیتابھ بچن کے مطابق بھارتی فلم کی طرح ہی ٹی وی بھی آہستہ آہستہ بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت بنانے کی کوشش میں کامیاب ہوگا۔

ہندوستانی سینما کے سو سالہ سفر پر بات کرتے ہوئے امیتابھ نے کہا ’کئی سالوں تک مغرب میں ہمارے سنیما کو کس نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ ہم سب جانتے ہیں وہ ہمارے یہاں کے عام آدمی کے سینما کی محبت کو جانتے ہی نہیں تھے۔ لیکن آج ہمارے اداکاروں کو پوری دنیا میں تسلیم کیا جاتا ہے۔‘

بچن کے مطابق کسی مقابلے کی فکر کیے بغیر ٹی وی پر بھی کچھ مختلف اور بالکل بنیادی کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے جس کی مغرب میں بھی تعریف کی جا سکے۔

بھارتی شائقین کی بات کرتے ہوئے امیتابھ نے کہا ’ہماری آبادی جس پر طعنہ کشی ہوتی کہ بہت زیادہ ہے، میں تو سمجھتا ہوں اس آبادی کی وجہ سے ہی ٹی وی چل رہا ہے۔ دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں ہے جہاں پر 460 ٹی وی چینلز ہوں اور ابھی 840 مزید چینلوں کی درخواست حکومت کے پاس رکھی ہوئی ہے۔‘