زبیر احمد، محمود اعوان کے نئے شعری مجموعے

    • مصنف, انور سِن رائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

نام کتاب: سد

شاعر: زبیر احمد

صفحات: 96

قیمت: 150 روپے

ناشر: سانجھ پبلیکیشنز، 2/46 مزنگ روڈ، لاہور

sanjhpks@gmail.com

پنجابی ادب اور شاعری کے پڑھنے والوں میں بہت کم لوگ ہوں گے جو زبیر احمد کے نام سے واقف نہ ہوں۔ اس مجموعے سے پہلے ان کا ایک شعری مجموعہ ’دم یاد نہ کیتا‘ 1996 میں شائع ہو چکا ہے اور کہانیوں کے بھی دو مجموعے آ چکے ہیں۔ ایک مجموعہ ’مینہ بوہے تے باریاں‘ کے نام سے اور ایک ’کبوتر بنیرے تے گلیاں‘ کے نام سم سے۔

زبیر احمد کے اس مجموعے میں 63 نظمیں ہیں۔ اکثر نظمیں غنائی اور حقیقت پسندانہ مصوری سے بہت قریب ہیں۔

یوں بھی لکھنے کے بارے میں ان کا تصور یادداشت کی بازیافت، فراموش کی تلاش، سیکھے ہوئے سے نجات، یعنی کاتے ہوئے کو بار بار کاتنا، پھر سے سینا، سی کر پہننا اور برتنا ہے۔

لکھنا ان کے لیے: نہ جینے میں جینا، انتہائی پیچھے جا کر بالکل آگے آنا، الٹا تیرنا، چوبارے میں پر بیٹھ کر اندھی گلیوں سے گذرنے والوں کو دیکھنا، آنکھ کو اس کے لیے خالی رکھنا جسے ان دیکھی سے آنا ہے اور ان سے دوستی ہے جو ابھی پیدا نہیں ہوئے۔

اس لکھنے یا تثور ِ شعر کی ان کے ہاں کئی شکلیں ہیں: ایک نظم ہے، ’تاری وال‘۔ میں یہ نظم آپ کو اردو میں سناتا ہوں:

میں نے تاری وال نہیں دیکھا

شاید کبھی دیکھ بھی نہ پاؤں گا

ماں باتیں کیا کرتی تھی

صبح جب سائرن بجتا

تمھارا ماموں تاری وال چل دیتا

وہاں کارخانے تھے

میاں جی کمبل لاتے تھے

باتوں باتوں میں ماں تاری وال کی سیر کراتی

کیسا تھا تاری وال

کیسی تھی وہاں کی ہوا

آج لاہور شہر کے بادلوں میں

تاری وال کی سی ہوا بہہ رہی ہے

مٹی کتنا لمبا فاصلہ کرتی ہے

زبیر کی شاعری میں آپ کو نجم حسین سیّد کا قرب بھی محسوس ہو سکتا ہے لیکن بہت قریبی نہیں، ان کے ہاں اتنی پیچیدگی نہیں ہے لیکن نظم بنانے کے انداز کو نجم حسین سید نے جیسے اردو کی آزاد نظم اور غزل سے الگ کیا ہے، یہ اس سے قریب ہیں۔ خاص طور پر پہلی ہی نظم، جس کے عنوان کو اس مجموعے کا نام بنایا گیا ہے

ہر اس پڑھنے والے کو زبیر کی شاعری ضرور لطف دے گی جو بہت زیادہ توقعات نہیں بندھے گا۔ لیکن جیسے جیسے آپ اس شاعری کو پڑھیں گے یہ آپ میں اپنے جگے بناتی چلی جائے گی۔

محفوظ مستقبل کی قیمت

نام کتاب: وینی لکھیا دن

شاعر: محمود اعوان

صفحات: 144

قیمت: 200 روپے

ناشر: سانجھ پبلیکیشنز، 2/46 مزنگ روڈ، لاہور

sanjhpks@gmail.com

محمود اعوان کا نام یقینی طور پنجابی پڑھنے والوں کے لیے بھی کم و بیش اتنا ہی مانوس ہو گا جتنا پاکستان کی کسی بھی اور زبان کا ادب پڑھنے والوں کے لیے ہو سکتا ہے۔

اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ کل وقتی ادیب یا شاعر نہیں ہیں اور نہ ہی غالبًا شاعری ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ لیکن ان کے بارے میں زبیر احمد اورمشتاق صوفی نے جو کچھ لکھا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جیسے جوانی میں عشق ہو جاتا ویسے ہی جو پڑھتے لکھنے والوں سے قریب رہتے ہیں انھیں پڑھنے کا چسکا لگ جاتا اور اگر یہ چسکا لت بن جائے تو تعلیم وغیرہ تو ایک طرف رہ جاتی ہے اور ادب سر چڑھ آتا ہے۔

اس مرحلے پر جو خود پر قابو نہیں رکھ پاتے وہ آخر کار مس فٹ قرار پاتے ہیں۔ لیکن محمود اعوان کا معاملہ یہ نہیں ہے۔ وہ 1977 میں پیدا ہوئے اور 2000 میں الیکڑیکل انجینئرنگ کر لی اور ملازمت شروع کر دی۔ 2002 میں ان کا پہلا مجموعہ ’رات سمندر کھیڈ‘ شائع ہوا اور 2005 میں پاکستان سے چلے گئے۔ اب آئر لینڈ میں رہتے ہیں۔

اس تفصیل کو سامنے رکھیں تو کوئی ٹیڑھ دکھائی نہیں دیتی۔ جیمز جوائس اور سموئل بیکٹ کو پڑھتے پڑھتے محمود اعوان ڈبلن میں جا بسے، ان کا مستقبل یہاں بھی تاریک نہ ہوتا لیکن شاید وہاں جیسا محفوظ بھی نہ ہوتا۔ لیکن جو وہ چھوڑ گئے ہیں اس کا انت ان پر نہیں بیتا، امیدوں اور مکانات کا انجام سامنے نہیں آیا تو اُس کی ایک کسک تو دل سے جائے گی نہیں۔

وہی کسک ان کی اُس شاعری میں موجود ہے جسے انھوں نے اِس مجموعے میں جمع کیا ہے۔ وہ کم کم کیوں لکھتے ہیں اس کا اندازہ ان کی نظمیں پڑھ کر بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ کسک کی شاعری مسلسل اذیت اور درد کی نہیں۔

لیکن ایک بات ہے کہ محمود اعوان کی شاعری میں زندگی کی سچائی ہے، وہ اس سچائی سے آگاہ بھی ہیں اور اس کا رنج بھی اٹھاتے ہیں۔ اس کی مثال ان کی نظم ’نی مائے‘ ہے جس کا حوالہ زبیر احمد نے بھی دیا ہے:

نی مائے ہُن بھیڑ لے بوہا

پے گئیاں نے شاماں

بہہ جا اندر منجی اُتے

کھول کے چٹے وال

میں نئی اونا!

میز اُتے میں چھڈ آیا ساں

ادھ کھلے اخبار

کچیاں پکیاں یاداں

نسدے بھجدے ساہ

رکھ دیویں او شیلفاں اندر

تے مینوں نہ لبھیں

میں نئی لبھنا

گلیاں ملکاں خاباں اندر

واواں دے ہتھ

کوئی چٹھی نہ گھلیں میڈے ناں دی

پکھو واپس اوندے تک کے

پیڑ لکائیں ہانہہ دی

اب آپ خود دیکھ لیں کہ جو محمود اعوان یہاں سے جاتے ہیں وہ کن خوشیوں اور دردوں میں رہتے ہیں۔ ایسی کئی نظمیں مجموعے میں شامل ہیں۔

یہ نظمیں ان لوگوں کو ضرور پڑھنی چاہیں جن کے پیارے کہیں باہر جا کر بس گئے ہیں یا باہر جانے والے ہیں۔ اور ہاں مشتاق صوفی نے ان کے اور ان کی شاعری کے بارے میں لکھا ہے کتاب کے بیک ٹائٹل پر اچسے پڑھنا نہ بھولیے گا۔