کتابی سلسلہ اسالیب کا سالنامہ، یادگار اشاعت

    • مصنف, انور سِن رائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

نام کتاب: کتابی سلسلہ اسالیب سالنامہ

ترتیب: عنبرین حسیب عنبر

صفحات: جلد اوّل 672، جلد دوم 640

قیمت: مکمل سیٹ، 2000 روپے

ناشر: اسالیب پبلی کیشنز، 147 سی، بلاک جے، نارتھ ناظم آباد، کراچی 74700

ای میل:asaleebkarachi@hotmail.com

کتابی سلسلہ اسالیب کا یہ سالنامہ دو جلدوں پر مشتمل ہے۔ ترتیب کے اعتبار سے یہ کتاب نمبر چار اور پانچ ہے۔ اس پر جولائی 2011 تا دسمبر 2012 لکھا ہوا ہے لیکن یہ دونوں کتابیں یا شمارے 2013 میں شائع ہوئے ہیں۔ ان دوجلدوں کے 13 سو کے لگ بھگ صفحات پر پھیلی ہوئی تحریروں کی فہرست ہی دی جائے تو خاصی جگہ درکار ہو گی جب کہ ان میں ایسی تحریریں ہیں، جنھیں بلا تامل تخلیق قرار دیا جا سکتا ہے۔

کتابی سلسلہ اسالیب کی شمارہ چار

اسالیب کے سالنامے کا پہلا حصہ اداریے کے بعد سات حصوں پر مشتمل ہے۔ ان حصوں میں حمد ونعت، میر و غالب، مضامین، گفتگو، فن فنکار ونگارشات، طنز و مزاح اور خصوصی گوشہ کے عنوانات قائم کیے گئے ہیں۔ لیکن ان سے پہلے ادیبوں شاعروں ایک سیاہ و سفید اور اکہتر چار رنگی تصاویر ہیں۔

حمد و نعت سرشار صدیقی کا کلام ہے۔

<link type="page"><caption> سیمنٹ انجینئر سے مستنصر حسین تارڑ تک</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/entertainment/2013/05/130501_ilf_sessions_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

میر و غالب کے عنوان سے قائم کیے گئے حصے میں، ڈاکٹر اسلم انصاری، سحر انصاری، سید جمیل مظہر، پرتو روہیلہ، زبیر رضوی، ڈاکٹر محمد ضیاالدین شکیب اور ڈاکٹر علی احمد فاطمی کے مضامین ہیں جو ایک سو ستائیس صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں سحر انصاری کا مضمون ’میر کی بد زبان شاعری‘ مختصر ہونے کے باوجود صرف میر کے ایک فراموش پہلو کی طرف ہی توجہ نہیں دلاتا بلکہ اردو ادب میں آنے والی ایک بڑی تبدیلی کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے۔ یہ مضمون ظفر اقبال سے اختلاف کرنے والوں کو ضرور پڑھنا چاہیے۔

’مضامین‘ کے نام سے قائم کیے گئے حصے میں سحر انصاری، رضا علی عابدی، رضی مجتبٰی، سلیم یزدانی، محمد سہیل عمر، محمد حمید شاہد، ڈاکٹر ناصر عباس نیّر، ڈاکٹر باقر رضا، ایم خالد فیض اور تصنیف حیدر کی تحریریں ہیں۔ اس حصے کےعنوان سے یہ نہیں سمجھا جانا چاہیے کہ پہلے حصے کی تحریریں یا اس کے بعد کے حصوں کی تحریریں مضامین کے معیار کی نہیں ہیں۔

اس حصے میں سحر انصاری، رضا علی عابدی، رضی مجتبٰی، اور سلیم یزدانی کے مضامین معلوماتی نوعیت کے ہیں، ان میں رضا علی عابدی نے ’عالمی انجمن ترقیِ اردو‘ کی ضرورت کے لیے اپنی پرانی تجویز یاد دلائی ہے۔ اب اگر اُس پر عمل کیا بھی گیا تو جس نوع کی گروہ بندیاں اور مفادات پرستی اردو کے مختلف حلقوں میں ہے اس میں اس تجویز کا حال کیا ہو گا، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

سہیل عمر اور ناصر عباس نیّر کے مضامین انتہائی بحث طلب ہو سکتے ہیں۔ ان مضامین جو اصطلاحیں استعمال کی گئی ہیں ان کے معنی کے تعین پر اختلاف کے ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ محمد حمید شاہد اور تصنیف حیدر کے مضامین بہت جاندار ہیں، ایم خالد فیض کا مضمون سیفو کے بارے میں پائے جانے والے تصور کی انتہائی درکار اصلاح میں مددگار ہوگا، جبکہ ڈاکٹر خالد فیاض کا مضمون صرف ادب پڑھنے والوں ہی کے لیے نہیں ذرائع ابلاغ کے لوگوں کے لیے بھی اہم ہے اگر انھیں پڑھنے سے بھی دلچسپی ہو تو۔

’گفتگو‘ کے حصے میں عنبرین حسیب عنبر کی انتظار حسین اور شمیم حنفی سے گفتگو ہیں جن میں دونوں ادیبوں نے خود اپنے اور دوسروں کے تصورات کے بارے میں بہت سے پہلو اجاگر کیے ہیں لیکن کوئی ایسی بات نہیں کی جو وہ اس سے پہلے نہ کر چکے ہوں۔

’فن، فنکار اور نگارشات‘ کے عنوان سے قائم کیے جانے والے حصے میں پروفیسرگوپی چند نارنگ، ڈاکٹر معین الدین عقیل، محمود شام، ڈاکٹر علی احمد فاطمی، ڈاکٹر ممتاز احمد خاں، ڈاکٹر ضیا الحسن، زیب ازکار حسین، عشرت ظفر، خالد معین، فاضل جمیلی اور عنبرین حسیب عنبر نے مختلف کتابوں پر تبصرے کیے ہیں۔

ڈاکٹر نارنگ اور ڈاکٹر عقیل کے مضامین میں البتہ بالترتیب جاوید اختر اور نورالسعید کی مکمل شخصیتیں بھی سامنے آتی ہیں۔ باقی تبصرے بھی کتابوں کے تعارف کے لیے ناکافی اور رسمی انداز کے نہیں۔

’طنز و مزاح‘ کے حصے میں سعید آغا کی منظومات، انجم انصاری اور عمر واحدی کی نثری تحریری ہیں۔

اسالیب کے سالنامے کی پہلی جلد میں سب سے جاندار اور غالبًا بہت دنوں تک یادگار رہ جانے والا حصہ ’خصوصی گوشہ‘ کے نام سے قائم کیا گیا ہے۔ یہ اکیسویں صدی کے اردو ادب کے بارے میں ہے۔ اس میں پروفیسر سحر انصاری نے اردو نظم، مبین مرزا نے جدید اردو افسانے، ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے دو الگ الگ مضامین میں مزاح اور زبان، ڈاکٹر ضیاالحسن نے اردو عزل، امجد طفیل نے اردو ناول اور اردو تنقید اور مشرف عالم ذوقی نے ہندوستان کے اردو فکشن کا جائزہ لیا ہے۔

مشرف عالم ذوقی کے مضمون کو پڑھ کر ہی اندازہ ہوتا ہے کہ دیگر مضامین میں ہندوستان کا حصہ کمزور اور کم و بیش نہ ہونے کے برابر ہے۔ جبکہ مشرف عالم ذوقی کا مضمون کچھ تنگ نظری کا احساس دلاتا ہے۔

مبین مرزا کا مضمون بھی اگرچہ اپنے گرد وپیش سے سے بہت دور نہیں جاتا اور انھیں خود بھی اس کا احساس ہے کہ ایسے کسی بھی مطالعے میں تمام تصاضے پورے نہیں کیے جا سکتے۔ اگرچہ انھیں وسائل بھی دستیاب ہیں لیکن ظاہر جب تمام باتیں ایک مضمون میں ہی سمیٹنی ہوں تو ضرور کچھ نے کچھ چھوڑنا بھی پڑے گا اور پھر لکھنے والا اپنے دائرۂ تفہیم و ترجیح سے آگے نہیں جا سکتا۔ اس کا اطلاق ضیاالحسن کے مضمون پر بھی ہوتا ہے۔

البتہ امجد طفیل کی کوشش نسبتًا اُس اخلاص سے زیادہ بھر پور محسوس ہوتی ہے جس کی ایک نقاد سے توقع کی جانی چاہیے۔

ڈاکٹر سحر انصاری کا جائزہ، ان معنوں میں اس حصے کا سب سے کمزور ٹکڑا ہے کہ انھوں نے اپنے جائزے میں کچھ نظموں کو موضوع بنایا ہے اور اگر ان کے مضمون کے عنوان ’اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں اردو نظم‘ کے تناظر میں پڑھا جائے تو صورتِ حال خاصی خراب دکھائی دیتی ہے۔

اس میں وہ امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا تک تو گئے ہیں لیکن ہندوستان کی نظم کا ان کے مضمون میں کوئی ذکر نہیں۔ کیا اس سے یہ سمجھا جائے کہ ہندوستان میں اردو نظم نے اکیسویں صدی میں آتے ہی دم توڑ دیا ہے۔ مضمون میں یا تو سحر انصاری صاحب کی محبت اور تعلق کی خُو بُو زیادہ ہے یا انھوں نے اس عرصے میں ان کا مطالعہ انتہائی محدود رہا ہے جب کہ یہ بات ان کی اپنی ساکھ اور شناخت کے برخلاف ہے۔

اسالیب ،5 سالنامہ جلد دو

جلد دو 638 صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں اداریے اور نعت کے حصوں کے علاوہ افسانوں، شاعری، تراجم، فلم، ٹی وی، موسیقی، اداکاری، کتابوں پر تبصرے، خطوط، ایک سفر نامہ اور تین خصوصی مطالعے شامل ہیں۔

خصوصی مطالعوں میں رضیہ فصیح احمد، احفاظ الرحمٰن اور صابر وسیم شامل ہیں۔

رضیہ فصیح احمد کے حصے میں ان سے ایک گفتگو ہے جو عنبرین حسیب نے کی ہے۔ پروفیسر سحر انصاری نے ان کی افسانے نگاری پر ایک مختصر مضمون لکھا ہے، مبین مرزا، آصف فرخی اور فاطمہ حسن نے ان کے ناولوں کے جائزے لیے ہیں اور آخر میں ان کے نام جمیل الدین عالی، رام لعل، جیلانی بانو، قدرت اللہ شہاب، جمیلہ ہاشمی، ابنِ انشا اور انور سدید کے خطوط ہیں۔

سحر انصاری، مبین مرزا اور آصف فرخی کے خیالات میں قدرِ مشترک یہ محسوس ہوتی ہے کہ رضیہ فصیح احمد کی جتنی پذیرائی ہونی چاہیے تھی، وہ نہیں ہوئی۔

احفاظ الرحمٰن کے لیے مخصوص کیے گئے حصے میں ان کی 13 نظمیں ہیں۔ اور پروفیسر سحر انصاری نے ان کا اور ان کی شاعری کا جائزہ لیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ احفاظ الرحمٰن سماجی شعور اور تاریخ کے جدلیاتی عمل کے ساتھ ساتھ انسانی شعور کے ارتقا پر یقین رکھتے ہیں۔

وہ ایک نظریاتی انسان ہیں اور اس نظریے کی خاطر انھوں نے قید و بند کی صعوبتیں بھی سہی ہیں۔ سینئر اور کامیاب صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ خوش فکر شاعر ہیں۔ سحر انصاری کا یہ کہنا درست ہے کہ ایک حصہ مخصوص کرنے سے پڑھنے والوں کو احفاظ الرحمٰن کے شاعرانہ اسلوب اور ان کے موضوعات سے تھوڑا بہت تعارف ضرور ہو جائے گا۔

تیسرا حصہ صابر وسیم کے لیے مخصوص ہے۔ اس حصے میں بھی صابر کی غزلوں کا جائزہ پروفیسر سحر انصاری نے ہی لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صابر وسیم غزل گو شعراء میں ایک پہچان رکھتے ہیں۔

آج کل کی زبان پر ایک عمومی رائے یہ ظاہر کی جاتی ہے کہ چند استعارے شعراء نے منتخب کر لیے ہیں اور انہی کو دہراتے رہتے ہیں۔ صابر وسیم امکانی حد تک اس تن آسانی سے اپنے کلام کو بچاتے رہے ہیں، اس لیے ان کی غزل اپنے اندر سچائی کی رمق لیے ہوے ہے، اگر چند غزلیں مجموعی طور پر زیر مطالعہ آئیں تو صابر کے لہجے اور ڈکشن کی انفرادیت واضح ہو سکتی ہے۔ اس حصہ میں صابر وسیم کی دس غزلیں شامل کی گئی ہیں۔

نعت کے حصے میں شبنم شکیل، ماجد خلیل، سلیم کوثر اور شہاب صفدر کا کلام ہے۔

افسانوں کے حصے میں اقبال مجید، رشید امجد، یونس جاوید، اخلاق احمد، مبین مرزا، محمد حمید شاہد، مشرف عالم ذوقی، نیلم بشیر احمد، رئیس فاطمہ، محمد حامد سراج، سمیرا نقوی اور سید سعید نقوی کے افسانے ہیں اور تمام ہی افسانے پڑھنے کے لائق ہیں۔ ان میں مبین مرزا اور محمد حمید شاہد کے افسانے خاص طور پر توجہ طلب ہیں۔

حمید شاہد نے ایک کہانی کار کی کہانی لکھی ہے اور اس میں بار بار ایک جانی پہچانی سی شبیہ ابھرتی اور جبر و قدر کے بھاری سوال کو بہت نزاکت سے چھو کر گذرتی دکھائی دیتی ہے۔ جب کہ مبین مرزا کا افسانہ روایتی زندگی اور بندھے ٹکے رہن سہن کی گھٹن میں دم توڑتی روحوں کا نوحہ ہے جو شاید ہی اب کہیں باقی رہ گیا ہو۔ لیکن اس میں اُن کا انداز ایسا ہے کہ پڑھنے والا درد کی کسک سے بچ نہیں پاتا۔

سفر نامے کے حصے میں سلمٰی اعوان کے عراق کے سفر کا ایک باب ہے۔ اس کا انداز خاصا غیر روایتی محسوس ہوتا ہے۔ وہ پڑھنے والوں کو سفر کے مقامات سے تاریخ اور تاریخ کے کرداروں کی تجسیم اور تضادات میں ایسے لے جاتی ہے کہ فکشن اور تاریخ کے الگ ہونے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ ان کی تحریر میں داستان گوئی کا سا لطف ہے اگرچہ یہ داستان گوئی الف لیلوی نہیں ہے۔

شاعری کا حصہ بھی صفحات کے حساب سے افسانوں کے حصے کے لگ بھگ برابر ہے۔ اس میں راویتی اصناف ادب میں اظہار کرنے والے پاکستان اور باہر کے کم و بیش 52 شاعر ہیں۔

ان میں رسا چغتائی، سرشار صدیقی، ساقی فاروقی، افتخار عارف، اسلم انصاری، سحر انصاری، زبیر رضوی، کشور ناہید، محمود شام، انور سدید، انور شعور، امجد اسلام امجد، سلیم کوثر، رضی مجتبٰی، جلیل عالی، صبیحہ صبا، باصر سلطان کاظمی، یونس جاوید، یاسمین حمید، شہناز نور، فاطمہ حسن، شاہین مفتی، فراست رضوی، مبین مرزا، ملکہ نسیم، ن م دانش، جاوید منظر، نسیم نازش، خالد معین، حمیدہ شاہین، خلیل اللہ فاروقی، شکیل جاذب، ثروت زہرہ، فہیم شناس کاظمی، رخسانہ صبا، فیصل عظیم، فوقیہ مشتاق، سید رضی محمد، عطالرحمٰن قاضی، نصرت مسعود، کامی شاہ، توقیر تقی، علی یاسر، یحیٰی خان یوف زئی، شبیر نازش، رفیع الدین، شمشیر حیدراور سجاد بلوچ شامل ہیں۔

تراجم کے حصے میں سرویشور دیال سکسینہ، والٹیئر، وائی زیڈ چن، گُنٹر گراس، چیخوف، کامیو، جمال میر صادقی، احمد رضا احمدی، ماحور احمدی، نزار قبانی، امر لعل ہنگورانی، امر جلیل، جیمز جوائس، لیڈی کاسا، تاکاہاشی شنکیچی، اور شرلی جیکسن کے تراجم ہیں۔

اس حصے کی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں کچھ ایسے مصنفوں کے تعارف تو موجود ہیں جو خاصے جانے پہچانے ہیں لیکن جو اردو والوں کے لیے نسبتًا غیر معروف ہیں ان کے لیے کوئی تکلف نہیں کیا گیا۔ مثلًا جمال میر صادقی، احمد رضا احمدی، ماحور احمدی، امر لعل ہنگورانی، لیڈی کاسا، تاکاہاشی شنکیچی، اور شرلی جیکسن۔

اس کے علاوہ نزار قبانی کی نظم کو حارث خلیق نے جو اپنا رنگ دیا ہے اس کی وضاحت انھیں کرنی چاہیے تھی، کامیو کی کہانی کے ترجمے میں بھی یہ وضاحت ہو جاتی تو کوئی برائی نہیں تھی کہ یہ کہانی پہلے بھی ترجمہ ہو چکی ہے۔

اس حصے میں امر لعل ہنگو رانی کی کہانی، جس کا ترجمہ رفیق نقش نے کیا ہے اور جو غالبًا ان کی زندگی میں شائع ہونے والی ان کی آخری تحریر تھی، نہ صرف ترجموں کے حصے میں بلکہ فکشن کے سارے حصے میں ایک باکمال تخلیق قرار پانے کی مستحق ہے۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ فن کے لیے موضوع سے زیادہ اظہار کا انداز زیادہ اہم ہوتا ہے۔

فلم، ٹی وی، موسیقی اور اداکاری کے حصے میں امراؤ بندو خان، جگجیت سنگھ کے بارے میں سحر انصاری، استاد فیض خان اور آگرہ گھرانے کے عنوان سے کمار پرساد مکھرجی، راجیش کھنہ کے بارے میں عدیل انصاری اور لہری کے بارے میں سید حسیب احسن کی تحریریں ہیں۔

کتابوں پر تبصروں کے حصے میں منٹو کا اسلوب / طاہر اقبال، نوبل انعام کے سو سال/ باقر نقوی، فانی بدایونی- شخصیت اور شاعری/ اکرام بریلوی، بجھے رنگوں کی رونق/ آصف رضا، خوشبو سے لکھی فرد/ آمنہ عالم اور جہان حمد کے قرآن نمبر پر تبصرے ہیں جو سحر انصاری، خالد معین اور الطاف مجاہد نے کیے ہیں۔

خطوط کے حصے میں اگرچہ کم بیش ویسے ہی خطوط ہیں جو عام طور پر ادبی جرائد کے مدیروں کے نام چھپنے والے لکھتے ہیں۔ لیکن یہ حصہ بھی پڑھا ضرور جانا چاہیے۔

مجموعی طور پر ضخیم ہونے کے باوجود اسالیب کی یہ دونوں جلدیں پڑھنے والوں کے لیے یقینًا دلچسپی کی حامل ہوں گی۔ پروڈکشن بہت عمدہ اور پروف کی غلطیوں سے پاک ہے۔ قیمت اگرچہ رائج انداز کے مطابق ہے لیکن پھر بھی کچھ زیادہ ہے۔