نئے نام کی محبت یا محبت کا نیا نام

    • مصنف, انور سِن رائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

نام کتاب: نئے نام کی محبت

مصنف: تنویر انجم

صفحات: 184

قیمت: 350 روپے

ناشر: آج کی کتابیں، مدینہ سٹی مال، عبداللہ ہارون روڈ، صدر کراچی

ajmalkamal@gmail.com

پڑھنے والے کسی بھی طرح کے ہوں، وقت گذارنے اور لطف اندوز ہونے کے لیے پڑھتے ہیں تا کہ خود کو اُس کھنچاؤ سے نجات دلا سکیں جو ہر وقت ان کے چاروں طرف موجود رہتا ہے اور کسی حد تک، زندگی کی مختلف، ممکنہ اور موجود صورتوں کے بارے میں کچھ جان بھی سکیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ لطف کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔

محض لطف اور وقت گذاری والے سب سے بڑے اور وسیع تر طبقے کے لیے لکھنے والوں کی بھی بہت بڑی تعداد ہے اور سچ تو یہ ہے کہ کتابوں کی صنعت کی ساری رونق انھی کہ دم سے ہے۔ اسی بات سے مقبول لکھنے والوں کو یہ غلط یا خوش فہمی بھی ہوتی ہے کہ وہی ہیں جو اصل ادب تخلیق کر رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال محض فکشن ہی میں نہیں شاعری میں بھی ہے۔

ماضی قریب میں حبیب جالب اردو کے انتہائی مقبول ترین شاعر رہے ہیں اور بڑی حد تک ان کی مقبولیت اب تک برقرار ہے۔ مشاعراتی مقبولیت میں، جسے کچھ لوگ شعری اہمیت کے تعین کا معیار بھی تصور کرتے ہیں، فیض احمد فیض سے حبیب جالب بہت آگے تھے۔ لیکن کیا کہا جا سکتا ہے کہ فیض سے جالب زیادہ اہم شاعر ہیں؟

ان دونوں شاعروں میں ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ ایک فوری ردِعمل ظاہر کرتا تھا اور پیدا کرتا تھا جب کہ دوسرا دیر سے اور دیرپا۔ ایک میں جلسے اور جلوس کی تندی اور تیزی ہے اور دوسرے میں یہی تندی اور تیزی گہراؤ اور پھیلاؤ اختیار کر لیتی ہے۔ یہ موضوعات کا فرق نہیں ہے، اظہار کے پیرایوں اور گہرائی اور وسعت کا فرق ہے۔

یہ مثال میں نے اس لیے دی ہے کہ آپ کو شاعری کے ایک نئے مجموعے، نئے نام کی محبت ، کے بارے میں بتا سکوں۔ اگرچہ اس مجموعے کی شاعرہ پر کوئی شناختی نشان لگانا آسان نہیں لیکن اگر لگانا ہی ہو تو وجودی ہونا قریب ترین ہو گا۔

یہ شاعرہ تنویر انجم ہیں اور یہ ان کا پانچواں مجموعہ ہے۔ اس سے پہلے ان کے چار مجموعے، ان دیکھی لہریں، سفر اور قید کی نظمیں، طوفانی بارشوں میں رقصاں ستارے، زندگی میرے پیروں سے لپٹ جائے گی بالترتیب 1982، 1992، 1997اور 2010 میں آ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک مجموعہ غزلوں کا بھی ہے جو 2001 میں ’سرو برگ آرزو‘ کے نام سے شائع ہوا تھا۔

اس کے علاوہ وہ انگریزی سے اردو میں ترجمے بھی کرتی ہیں جو مختلف ادبی جرائد میں اور کتابی شکل میں بھی شائع ہو چکے ہیں۔ تنویر نے کراچی یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا جس کے بعد امریکہ گئیں اور اوکلا ہوما سٹیٹ یونیورسٹی سے انگریزی لسانیات میں ایم اے اور پھر یونیورسٹی آف ٹیکساس آسٹن سے ڈاکٹریٹ کی۔ انھوں نے 1980 میں تدریس اختیار کی اور اب تک اس سے وابستہ ہیں۔

تنویر انجم اردو شاعروں کے اُس گروہ میں شامل ہیں، جنھیں نامقبول ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ نامقبول اس لیے ہیں کہ شاعری کے لیے ان کا پیرایۂ اظہار مخصوص اور اپنا ہے۔ ان کی شاعری میں جو انسان ہے ، جنسی امتیاز سے قطع نظر ، وہ کوئی عجیب الخلق یا کسی اور دنیا کا یا غیر مرئی نہیں کہ اس میں خود کو دیکھنے کے لیے ہمیں کسی خاص تاریخ، جغرافیے یا علم کی ضرورت ہو۔

ان کے ہاں بھی محبت ہے، تنہائی اور اکیلا پن ہے، بے بسی ہے، طبقاتی شعور ہے، درد اور اذیت ہے، نسائیت کے مسائل اور ان سے وابستہ سوال ہیں اور اسی زمانے اور ماحول کے ہیں جس میں وہ اور ہم سب ہیں۔ پھر انھیں وہ شعری جادو بھی آتا ہے جسے وہ کرافٹ اور مہارت کہا جاتا ہے جو بات کو شعر بناتی ہے۔ لیکن وہ ان سب میں اظہار کا ایک الگ پیرایہ رکھتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر وہ اپنے اظہار کا الگ پیرایہ رکھتی ہیں تو کیا بات ہے جو انھیں اب تک اپنی الگ شناخت بنانے سے روکے ہوے ہے؟

کیوں کہ اگر اُن کے ہاں نسائیت ہے تو نسائیت تو آج کل شاعرات کے لیے سکہ رائج الوقت ہے ، انھیں فیمینسٹ ہونے کی بنیاد پر نمایاں ہونے والوں میں سرِ فہرستوں میں ہونا چاہیے تھا اور اُن لوگوں کو انھیں سر پر بٹھانا چاہیے تھا جو ایسی شاعرات کے حوالوں کو اپنے استحکام کا ذریعہ بناتے ہیں۔ لیکن شاید وہ نہ تو فیمینسٹ ایکٹوسٹ ہیں اور نہ ہی فیمنن ازم کی حبیب جالب۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ فیمینسٹ ایکٹیوسٹ ہونا کوئی معیوب بات ہے ، لیکن اُس کا مقام اور ہے۔ مقصد کی بالا دستی شعری سطح کو کمزور کرتی ہے اور جتنی یہ سطح کمزور ہوتی ہے اُتنی ہی مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔ تنویر کے ہاں نسائیت ان کی ذات کا اٹوٹ سوال ہے لیکن واحد سوال نہیں۔

پھر ان کا پیرایۂ اظہار کسی خاص لغت کا پابند نہیں نہ ہی ان کا لہجہ اونچا ہے ۔ وہ بہت آہستگی سے بات کرتی ہیں، زیادہ اصرار کے بغیر۔ اتنی اہستگی اور اتنے اصرار کے بغیر کہ اگر توجہ ذرا سی اِدھر اُدھر ہو جائے تو شاعری ، اونچی آواز میں ہنسے اور قہقہہ لگائے بغیر مسکراتی ہوئے قریب سے گذر جائے گی۔

ان کی شاعری میں گہرا درد اور اذیت ہے لیکن وہ اس کی طرف صرف اشارہ کرتی ہیں، چیختی اور شور نہیں مچاتیں ۔ درد اور واذیت ان کے لیے برفانی منطقہ ہیں اور وہ برف کی بیسیوں قسموں کو جانتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ دماغ میں جذبات کے علاوہ بھی کچھ ہونا چاہیے۔

یہاں تنویر کی شاعری کی مثالیں دینے کی گنجائش نہیں ہے لیکن اگر آپ دھیمے مزاج کی / کے ہیں تو ان کی شاعری کے بہت قریب تک ضرور پہنچ جائیں گے اور محسوس کریں گے کہ وہ آپ سے آپ ہی کے لہجے میں بات کر رہی ہیں اور شاید آپ ہی بات کر رہی ہوں۔ کیوں کہ تنویر کی شاعری خود ان جیسی ہے اور وہ خود اپنی شاعری جیسی اور ہر شاعری کے پڑھنے، چاہنے اور کرنے والوں میں بہت کچھ مشترک ہوتا ہے۔

آپ ان کی شاعری پڑھیں اور پھر بتائیں ، اپنے اشترک کو تلاش کرنے کے لیے آپ کو اتنا تو کرنا ہی ہو گا۔