حکمرانوں کی دہشت گردی اور عوام کی مظلومیت

- مصنف, انور سِن رائے
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
نام کتاب: دہشت گرد حکمراں اور مظلوم عوام
مصنف: محمد فریاد ملک
صفحات: 336
قیمت: 450 روپے
ناشر: چراغ روشن، انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، 2623 نصرت مارکیٹ، بوتل بازار، شال عالم گیٹ۔ لاہور
اب عام طور پر دہشت گردی کے معنی خود کش حملوں، بم دھماکوں اور اسلحے کے ذریعے ایسا خوف و ہراس پیدا کرنے کے لیے جاتے ہیں کہ عام لوگ تو کیا ذرائع ابلاغ بھی ناجائز، غلط باتوں اور زیادتیوں کے خلاف وہ بات نہ کر سکیں جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔
اگر اسی بات کو دہشت گردی کے لیے استعمال کیے جانے والے وسائل کی وضاحت کے بغیر ایک جملے میں کہا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ طاقت کے ذریعے اظہار کی آزادی کو محدود یا ختم کر دینا۔ لیکن یہ بھی دہشت گردی کو سمجھنے کی ایک سطح ہے۔
دہشت گردی کو اب جس وسیع تر تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت تھی دنیا اس سے بہت آگے نکل آئی ہے۔ تقریباً دنیا کی ہر زبان میں ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ کے ہم معنی محاورے موجود ہیں لیکن شاید کبھی ان محاوروں کی تاریخ اور سماجی ساخت میں ان کے نفسیاتی اثرات کا جائزہ لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زبان کے بننے میں سماج کے کردار کے بارے میں تو یقیناً کچھ کتابیں ہیں کیوں کہ اسی بنا پر زبانوں کی تاریخ تلاش کی جاتی ہے لیکن یہ زبان اور سماج کے جدل کا ایک پہلو ہے دوسرا پہلو زبان کے سماج اور اس کی ساخت پر اثرات کا ہے جسے شاید اب تک مطلوبہ توجہ نہیں مل سکی۔ مثلاً یہی ایک محاورہ ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ فرد کو اس کے بچپن ہی سے معاشرے کے جس تصور کا پابند کرتا ہے اس کے بعد ہم کس نوع کے سماج اور سیاسی نظام کی توقع کر سکتے ہیں؟
میرے خیال میں ہم صرف پاکستان ہی میں نہیں دنیا بھر کی تاریخ میں اس محاورے کی کارفرمائی دیکھ سکتے۔ فریاد ملک کی کتاب اگرچہ اردو میں اس نوع کی محض چند کتابوں میں سے ایک ہے لیکن انگریزی میں لکھی جانے والی ان بہت سی کتابوں کی طرح ہے جو اس کارفرمائی کے مظاہر کو ہم پر اجاگر کرتی ہیں۔
ملک فریاد کی کتاب کی انفرادیت یہ ہے کہ اس میں سیاسی عقیدہ پرستی سے آزادی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور بات آزادانہ کی گئی ہے اگرچہ بعض حصوں میں وہ غیرجانبداری نہیں ہے جو اس نوع کی کتابوں کے لیے لازماً اختیار کی جانی چاہیے۔
پھر بھی کتاب، جس کا بڑا حصہ پاکستان کے گذشتہ بیالیس کے بارے میں ہے، دہشت گردی کے بارے میں پائے جانے والے عمومی تصور کی توسیع کرتی ہے، فریاد ملک کا کہنا ہے کہ دہشت گردی سے مراد ہے خوف ہراس طاری کر کے کسی بھی غیر آئینی، غیر انسانی اور غیر اخلاقی اقدام کو جائز قرار دینا یا نافذ کرنا۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آج تک کے اکثر حکمراں خود بہت بڑے دہشت گرد تھے اور ہیں۔ یہ بھی دہشت گردی ہے کہ ہر دھماکے کی ذمے داری طالبان یا دیگر فرضی تنظیموں پر ڈال دی جاتی ہے۔ حکمرانوں کی سرپرستی میں چلنے والی خفیہ تنظیمیں جن کا ایجنڈا اور مقصد صرف حکمرانوں کے کہنے پر ملک میں آگ اور خون کی ہولی کھیلنا ہوتا ہے تا کہ عوام خوف زدہ ہوں اور حکمرانوں کے اقتدار کو طوالت ملے۔
وہ لکھتے ہیں کہ دوسری نوع کی دہشت گردی وہ ہے جس کے نتیجے میں ملک دو ٹکڑے ہو گیا اور باقی ماندہ ملک میں علیحدگی کی تحریکیں چل پڑیں۔ وہ اس نوع کی دہشت گردی میں چند ایک کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں:
14جنوری 1971 کو پاکستان کے اس وقت کے صدر یحییٰ خان نے ڈھاکہ ایئر پورٹ پر اعلان کیا کہ ملک کے آئندہ وزیراعظم شیخ مجیب الرحمٰن ہوں گے، اس پر عمل نہ ہو سکا۔
اسی سال 13 فروری کو یحیٰی خان نے اسلام آباد میں اعلان کیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس تین مارچ کو ڈھاکہ میں ہوگا۔
25 فروری کو لاہور کے اقبال پارک میں ذوالفقار علی بھٹو نے اعلان کیا کہ جو بھی رکنِ اسمبلی مشرقی پاکستان جائے گا اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔
وہ 1973 کا آئین بنائے جانے اور اس کی منظوری کے طریقے کو بھی آئینی دہشت گردی سمجھتے ہیں اور اس پر عدلیہ اور ماہرین کی خاموشی کو بھی۔
وہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو ختم کیے جانے، انھیں سزائے موت سنائے اور دیے جانے کو بھی دہشت کے زمرے میں شمار کرتے ہیں۔
یہ تفصیل طویل ہے اور پیپلز پارٹی آخری مخلوط حکومت کے دور تک آتی ہے۔ اس دوران کچھ ادوار نظر اندازی کے شکار بھی محسوس ہوتے ہیں اور خاص طور پر خیبر پختون خوا، بلوچستان اور سندھ کے بارے انداز متناسب نہیں ہے۔ زبان بھی کہیں کہیں لاہور کے تھڑوں کی ہو جاتی ہے جس سے یقینی طور پر کتاب کی سنجیدگی متاثر ہوتی ہے۔
لیکن ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ کام تحقیقی ہوتے ہوئے کسی تربیت یافتہ محقق کا نہیں ہے، اسی لیے اسی موضوع پر تحقیق کرنے والے کے لیے یہ کام تقریباً نصف مکمل ہے۔ پاکستان کی تاریخ پر کام کرنے والوں کو ضرور اس کتاب کو پڑھنا چاہیے کیوں کہ تاریخ کو دیکھنے کا ایک زاویہ یہ بھی ہو سکتا ہے۔
مصنف ملک فریاد محض ایک مصنف نہیں ہیں اگرچہ ان کی ایک کتاب اس سے پہلے 1990 میں شائع ہو چکی ہے۔ وہ خود اپنے بارے میں بتاتے ہیں کہ دورِ ایوبی سے آج تک انہوں نے اس ملک میں چلنے والی ہر تحریک میں کسی نے کسی حیثیت سے حصہ لیا ہے۔ حوالاتیں کاٹیں، پولیس تشدد کا سامنا کیا، سیاستدانوں کو قریب سے دیکھا اور ان سے ملا۔
ان کا کہنا ہے کہ صرف سیاستدانوں کو ہی موردِ الزام ٹہرانے سے بات نہیں بنتی، زندگی کے ہر شعبے میں بھیڑیے زیادہ اور رکھوالے کم ہوتے جا رہے ہیں۔
اس کتاب کا ایک دلچسپ باب سوئس اکاؤنٹس کے بارے میں ہے، ایک یہی کیا ہر باب معلومات سے پُر ہے۔مصنف تھوڑی سی اور محنت اور وقت اسے ایک انتہائی عمدہ اور مستند دستاویز بنا سکتے تھے۔







