آج 75:تخلیقی قوت کا بھرپور اجتماع

- مصنف, انور سِن رائے
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
نام کتاب: کتابی سلسلہ آج 75
ترتیب: اجمل کمال
صفحات: 360
قیمت: 380 روپے
ناشر: آج کی کتابیں، 316 مدینہ سٹی مال، عبداللہ ہارون روڈ، صدر کراچی 74400
کتابی سلسلہ آج کی 75ویں کتاب میں ہندی کے نام ور فکشن رائٹر نرمل ورما کا مکمل ناول ہے۔ سعیدالدین کی 18 اور تنویر انجم کی 21 نظمیں ہیں، ستیہ جیت رے کے بارے میں جاوید صدیقی کا لکھا ہوا خاکہ ہے اور ڈاکٹر روتھ فاؤ کے بارے مطہر ضیا کی ایک ایسی تحریر ہے جسے ایک انوکھے انداز کا ایک خاکہ ہی کہنا چاہیے۔ اور ان سب سے بڑھ کر ایک غیر معروف جاپانی شاعر کی نظم ہے جو اردو شاعروں کے لیے ضرور ایک انوکھا تجربہ ہو گی۔
ہندوستان کے شہر شملہ میں1925 میں پیدا ہونے اور ہندی کے جدید فکشن میں اہم مقام رکھنے والے نرمل ورما نے 80 سال بعد دہلی میں وفات پائی۔ انھوں نے کہانیاں، ناول، سفر نامے، ڈائریاں اور مضامین لکھے۔ ان کی تحریروں کی ایک جلد ’آج‘ سے چھپ چکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آج 75 میں ان کے ناول ’انتم ارنئے‘ کا ترجمہ ’آخری بیاباں‘ کے نام سے چھاپا گیا ہے۔
اجمل کمال کا کہنا ہے کہ اس ناول میں ان کی نثر کا مخصوص اسلوب اور زیادہ نکھری شکل میں سامنے آتا ہے۔ یہ ترجمہ شائستہ فاخری نے کیا ہے، جن کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔اس ترجمے پر نظرِ ثانی اجمل کمال نے کی ہے۔
ناول کے تمام مرکزی کردار اپنی زندگی کے ایک ایسے موڑ پر ہیں جب ان کی سرگذشت مکمل ہو چکی ہے اور ان کی کہانی ایک ایسا راوی بیان کر رہا ہے جو ان کے ماضی سے اُسی طرح شناسائی حاصل کرنے کے عمل میں ہے جیسے اس ناول کو پڑھنے والا بھی ہوگا۔
فورٹ ولیم کالج کے منصوبے کے برخلاف اس ترجمے میں اس بات کا اہتمام رکھا گیا ہے کہ ’اردو کے مقامی الفاظ جنھیں ایک دور کی مخصوص لسانی سیاست کے باعث متروک قرار دے کر ذخیرۂ الفاظ سے باہر کر دیا گیا تھا، ممکن حد تک جوں کے توں برقرار رہیں تا کہ نرمل ورما کی نثر کا مخصوص لہجہ پڑھنے والے تک پہنچ سکے‘۔
سیاست سے قطع نظر، ویسے تو کچھ بھی غیر سیاسی نہیں ہوتا، کیا مخصوص لغت، اسلوب یا نثر کا مخصوص لہجہ بنانے میں کوئی کردار ادا کرتی ہے، یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر الگ سے بات کی جانی چاہیے۔
آج کی اس اشاعت دوسری اہم ترین تحریر توشیرو یاما زاکی کی ایک نظم ہے جس کا اردو ترجمہ سعید الدین نے انگریزی سے کیا ہے۔

یامازاکی 1960 میں جاپان کے شہر چیبا میں پیدا ہوئے۔ان کی اس نظم کا انگریزی ترجمہ سان فرانسسکو سے شائع ہونے والے ’سٹی لائٹس ریویو‘ نامی رسالے کی دوسری اشاعت میں ہوا تھا۔ آج میں اس سے زیادہ معلومات نہیں دی گئیں اور نہ ہی مجھے گوگل سے کوئی مدد مل سکی ہے۔
سعید الدین کی خود اس اشاعت میں اٹھارہ نظمیں ہیں۔یوں تو سعید کا ایک مجموعہ بھی بہت پہلے شائع ہو چکا ہے لیکن جو لوگ ’آج‘ کا مطالعہ کرتے رہے ہیں وہ جانتے سعید مسلسل لکھتے رہے ہیں۔ وہ اردو کے ایک انتہائی مختلف شاعر ہیں۔ اردو شاعری میں سرریلزم کا ذکر تو بہت ہوا ہے لیکن اسے جمالیات سے آگے بڑھ کر نہیں دیکھا گیا۔ سعید کے ہاں منطق اور عقل دونوں التوا میں رہتے ہیں اور جمالیات لپی پُتی اور لجلجی ہونے کی بجائے اتنی کھردری ہوتی ہے کہ کہیں کہیں اذیت دیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے یعنی خود اپنی نوع کی۔ ان کے ہاں بھی خواب کے عالم کے موجود ہونے کا احساس ہوتا ہے لیکن یہ خواب وہ ہے جو ہر وقت چاروں موجود رہتا ہے اور بیداری کے بعد کے عالم کو تبدیل کر دیتا ہے۔ ایک ہولناک خواب۔
سعید ان بہت کم شاعروں میں سے ہیں جنھیں مقبولیت سے کوئی کام نہیں۔ ان کی شاعری کو پڑھتے ہوئے بار بار سلوا ڈورڈالی، رینے مارگریٹی، میکس ارنسٹ اور کچھ دوسرے مصوروں کی یاد آ سکتی ہے۔ سعید کی شاعری یقینی طور پر اس اشاعت کا ایک اہم اور طاقتور حصہ ہے۔
اس اشاعت میں تنویر انجم کی اکیس نظمیں ہیں جو سب کی سب ان کے حال ہی میں آنے والے مجموعے ’نئے نام کی محبت‘ میں شامل ہیں۔ اور ان کے اس مجموعے پر تبصرہ بی بی سی اردو پر پہلے ہی ہو چکا ہے۔
آج کے اس اشاعت میں ہندوستان ہی کے نہیں عالمی سطح پر پر محترم فلم ساز، ہدایتکار اور مصنف ستیہ جیت رے پر ایک خاکہ شائع کیا گیا ہے۔ یہ خاکہ جاوید صدیقی نے لکھا ہے جن کا تعلق فلم، صحافت، ادب اور تھیٹر سے ہے۔ ان کے خاکوں کا ایک مجموعہ ’روشن دان، شائع ہو چکا ہے۔
ستیہ جیت رے پر یوں تو دنیا کی بہت سے زبانوں میں بہت کچھ لکھا گیا ہے لیکن اردو میں ان پر بہت کم لکھا گیا ہے اور یہ خاکہ ان کے بارے میں بہت سے نئے پہلؤں کو اجاگر کرتا ہے۔
اس شمارے کی ایک اہم ترین تحریر ڈاکٹر روتھ فاؤ کے بارے میں ہے۔ فاؤ 1929 میں جرمنی کے شہر لائپزگ کے ایک بالائی متوسط گھرانے میں پیدا ہوئیں، ہٹلر کی حکمرانی اور دوسری عالمی جنگ کے دوران بڑی ہوئیں۔
1948 میں میں جرمنی کے مغربی حصے میں آ گئیں۔1957 میں طب کی تعلیم مکمل کی اور 1960 سے پاکستان میں ہیں۔ ان کی تین بہنیں اور ایک بھائی ہیں لیکن وہ ان سے الگ پاکستان ہی میں رہتی ہیں اور جب سے یہاں آئی ہیں تب سے اب تک جذام کا شکار ہونے والے لوگوں کے لیے کام کر رہی ہیں۔ لیکن ان کے بارے میں اٹھاون صفحوں پر پھیلی مطہر ضیا کی تحریر اور صائمہ ارم کا ترجمہ پڑھنے کے لائق ہے۔







