نقاط، گیارھویں اشاعت: دلچسپ اور قابلِ توجہ

نام کتاب: نقاط 11

ادارت: قاسم یعقوب

صفحات: 400

قیمت: 300 روپے

رابطہ: p-240 رحمٰن سٹریٹ، سعید کالونی، مدینہ ٹاؤن، فیصل آباد

niqaat@gmail.com

نقاط 11 کا سب سے بڑا حصہ تنقید کے لیے وقف ہے۔ اس کے بعد شاعری ور پھر فکشن اور فکشن میں بھی خالد فتح محمد کے زیر تکمیل ناول کا مختصر حصہ افسانوں کے مقابلے میں کہیں جان دار ہے۔ اگرچہ اس حصے کو ایک الگ افسانے کے طور پر پڑھا جا سکتا ہے، یہی بات ہے جو اس ناول کا انتظار پیدا کرتی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ افسانے پڑھنے جیسے نہیں ہیں۔ لیکن ان میں کوئی بھی افسانہ ایسا نہیں ہے جو آج سے پچاس سال پہلے نہ لکھا جا سکتا۔

اس حوالے سے بہت سے سوال پیدا ہو سکتے ہیں۔ لیکن ایک اہم سوال یہ ہو سکتا کہ اب سے تیس سال پہلے تک لکھے جانے والے فکشن میں کتنا ایسا ہے جو آج بھی اُسی طرح اہم ہے جیسے وہ اپنے دور میں تھا؟ اس بات کو زندگی کی ان حقیقتوں کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے جو وقتی یا زمانی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ انھی حقیقتوں کو دوسری نوعیت وہ ہوتی ہے جن کی دریافت اُس فکشن یا ادب کو پیدا ہوتی ہے جس پر وقت اثر انداز نہیں ہوتا اور ہر زمانے کی ہر نسل اُسے پڑھتی ہے اور کوئی تہذیبی، جغرافیائی، ثقافتی اور لسانی رکاوٹ اس کے آڑے نہیں آتی۔ اس پر تفصلی بات بھی ہو سکتی ہے لیکن اس کی جگہ یہ نہیں ہے۔

تنقید کے حصے میں تمام ہی مضمون پڑھنے کے لائق ہیں۔ آصف فرخی کا مضمون عمدہ ہے لیکن مضمون میں رقت کچھ زیادہ ہو گئی ہے۔ طارق علی سے تو وہ مکالمے سے زیادہ جھگڑتے ہوئے لگتے ہیں۔ ’مابعد نائن الیون اور منٹو‘ میں ڈاکٹر ناصر عبس نے منٹو کو مختلف پہلو سے دیکھنے کی کوشش کی ہے لیکن شاید مضمون زیادہ تفصیل اور ٹھہراؤ کا تقاضا کرتا ہے۔ کامران کاظمی کا مضمون عام پڑھنے والوں کی دلچسپی کا زیادہ ہے۔

مجموعی طور چار سو صفحات کی اس کتاب میں تین سو اکانوے صفحات یقینی طور پر پڑھے جانے کے لائق ہیں۔ ان میں وہ چار صفحات جن پرجریدوں کے نام اورکتابوں کے اشتہار ہیں۔ وہ نو صفحات جو نظام صدیقی کی تحریر کو دیے گئے ہیں کسی اور حصے کو دیے جاتے تو زیادہ مناسب تھا۔

نظام صدیقی کے موضوع سے بھی کوئی اختلاف نہیں کیا جا سکتا لیکن وہ اپنے انداز اور زبان کے حوالے سے اپنے ممدوح سے کہیں نیچے چلے گئے ہیں۔ اب اگر وہ اس دلیل کا سہارا لیں کہ اینٹ کا جواب اینٹ سے دیا جائے گا تو پھر اینٹ بازی کو پسند نہ کرنے والے کہا جائیں گے؟

نقاط کی موجودہ اشاعت میں مضامین کے حصے میں جلیل عالی نے تخلیق و تنقید، اقبال آفاقی نے افسانےکی تنقید، خورشید اکرم نے نثری نظم: توقعات اور امکانات، معید رشیدی نے فیض پر چند نئے سوالات اور عابد سیل نے اردو غزل پر بیسویں صدی کی تحریکوں کے اثرات کا جائزہ لیا۔

تنقید کا دوسرا حصہ ’منٹو آج بھی سوچ رہا ہے‘ کے عنوان سے ہے۔ جس ذکر اوپر ہو چکا ہے۔

نقطۂ نظر کے عنوان سے قائم کیے جانے والے حصے میں، لاکھوں کا سچ کے عنوان سے ارشد محمود نے ’سچ‘ پر غور طلب انداز میں بات کی ہے اور خواجہ عتیق الرحمٰن نے ’اردو طبقہ اور ذرائع ابلاع کی ترجیحات‘ کا جائزہ لیا ہے۔

نئی نظم کا تجزیاتی مطالعہ کے عنوان سے قائم کیے گئے حصے میں احمد ندیم تونسوی نے ن م راشد کی نظم ’تیل کے سوداگر‘ کا بین المتونی جائزہ لیا ہے اور قاسم یعقوب نے ایک نثری نظم ’بڑھئی کی آری‘ کے حوالے سے نثری نظم کی ساخت پر بات کی ہے۔ اس میں انھوں نے اختلاف کی گنجائش کا اہتمام بھی کیا ہے۔

نئی نظم- نیا مطالعہ، کے عنوان سے قائم کیے گئے حصے میں اشرف یوسفی اور کی شاعری اور ڈاکٹر اسلم انصاری کے ادبی سفر کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔

’تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے‘ کے عنوان سے قائم کیے گئے حصے میں مہدی کے لیے شاہد اشرف کی ایک نظم ہے اور یاسر اقبال کا مضمون ہے جس میں انھوں نہ مہدی حسن کے حوالے سے برصغیر میں موسیقی کی مبادیات میں انقلابات کا جائزہ لیا ہے۔

تراجم کے حصے میں ہندی کے کہانی کار دیپک مشعل کی تین کہانیاں ہیں، جرمن شاعر ٹامس سٹیمر کی آٹھ نظمیں ہیں جنھیں اردو میں نجیبہ عارف نے کیا ہے، ہندی کے نئے شاعر مہیش ورما، مراٹھی کے ہیمت دیوت اور انگریزی کے ٹیڈ ہیوز کی تین نظمیں ہیں جنھیں صفدر رشید اور رابی وحید نے اردو میں کیا ہے۔

اس کے بعد نظموں کا حصہ ہے جس میں آفتاب اقبال شمیم، عبدالرشید، مبارک حیدر، علی محمد فرشی، ابرار احمد، انوار فطرت، اشرف یوسفی، محمود ثنا، انجم سلیمی، ارشد محمود ناشاد، سعید احمد، شاہد اشرف، محمد افتخار شفیع، اختر رضا سلیمی، طارق حبیب، منیر احمد فردوس، محمود اعوان، اورنگ زیب نیازی، عمران ازفر(املا یہی استعمال کی گئی ہے)، فیصل عرفان اور قاسم یقوب کی تخلیقات ہیں۔

اس کے بعد کا حصہ جلیل عالی، ابرار احمد، انجم سلیمی، ارشد محمود ناشاد، حیدر فاروق، شہاب صفدر، اشرف نقوی، ضیا المصطفیٰ ترک، علی اکبر ناطق، ادریس بابر، شہزاد اظہر، طاہر شیرازی، الیاس بابر اعوان، عطا تراب، عارفہ شہزاد اور وقاص عزیز کی غزلوں پر مشتمل ہے۔

عرفان احمد عرفی، علی اکبر ناطق، فرح ندیم، سید علی محسن اور لیاقت علی کے افسانوں پر مشتمل حصے کے بعد مستنصر حسین تارڑ کے بارے میں عرفان جاوید کا ایک دلچسپ مضمون ہے۔

کتاب مطلعہ کے عنوان سے قائم کیے گئے حصے میں عمران شاہد بھنڈر کی کتاب ’فلسفۂ مابعدِ جدیدیت: تنقیدی مطالعہ‘ کے بارے میں نظام صدیقی کا، ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کی کتاب ’متن، سیاق اور تناظر‘ کے بارے میں قاسم یعقوب کا، نوبل انعام یافتہ ناول نگار ماریو برگس یوسا کے ناول ’بیڈ گرل‘ کے بارے میں خالف فتح محمد کا اور خاور نوازش کی ’مشاہیر ادب: خارزارِ سیاست میں‘ کے بارے میں شکیل حسنین سید کا مضمون ہے۔ قاسم یعقوب کا تبصرہ جامع اور عمدہ ہے۔

آخر میں قلمی معاونین کی تفصیل ہے۔