دلی: اوسیان فلم فیسٹیول کا آغاز

اسورا

دلی میں بارہواں اوسیان فلمی میلہ جمعہ کو شروع ہو گیا۔ اس میں ایشیا اور عرب کی بہترین فلموں کو اکٹھا کر کے عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔

دس دنوں تک جاری رہنے والے اس فلم فیسٹیول کی شروعات جاپان کے کیچی ساتو کی اینیمیٹڈ فلم ’اسورا‘ سے ہوئی جبکہ پانچ اگست کو اسکا اختتام تولگا آرنک کی فلم ’لیبیرنتھ‘ کی نمائش کے ساتھ ہوگا۔

’اوسیان سینے فین‘ کے قائم کرنے والے نیول تلی کا کہنا ہے کہ فیسٹیول میں اس بار بولڈ اور بے خوف سنیما کی باری ہے۔

انھوں نے کہا ’اس بار اوسیان میں پیش کیے جانے والے سنیما میں کھلے ذہن، اور متحرک خیال اور بہت ہلچل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ موسیقی اور سنیما کی بلندی بھی نظر آئے گی۔‘

ستائیس جولائی سے شروع ہونے والے ’فیسٹیول آف عرب اینڈ ایشین سنیما ‘ میں اڑتیس ممالک سے ایک سو پچھتر فلموں کی نمائش کی جائے گی جن میں قریب ایک سو پچیس فلموں کا پریمیئر شامل ہے۔

اس فلم فیسٹیول میں فلموں کی نمائش کے علاوہ پینل مباحثہ شامل ہے جس میں دلی کے نئے فلم سٹی بننے کے امکانات اور دلی میں فلم بنانے کے مواقع اور چیلنجز شامل ہیں۔

فلم ناقد نمرتا جوشی نے اوسیان کی دوسال بعد واپسی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’اوسیان کی اچھی بات یہ ہے کہ اس نے ہمیشہ سسے ہی ایشیا اور عرب کے بہترین ہدایتکاروں کی بہترین فلمیں دکھائی ہیں خواہ وہ کوریائی ہدایت کار کم کی ٹک ہوں یا پھر ایرانی ہدایتکار دریوش مہرجی ہوں، اوسیان نے ہی دیگر ایشیائی ممالک اور عرب سنیما سے ہمارا تعارف کرایا ہے۔‘

فلم صحافی ارنب بنرجی کو اس بار جاپان کی ’پنک فلم‘ کا انتظار رہے گا۔ واضح رہے کہ جاپان میں سن ساٹھ کی دہائی میں پنک فلم کی لہر شروع ہوئی تھی جس میں روایتی سنیما سے ہٹ کر فلموں کو حقیقت سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔

اس فیسٹیول کے دوران فلم اور اس کے فن سے متعلق چیزوں کا میوزیم اوسیانامہ کا افتتاج بھی کیا جا رہا ہے۔

اس میں ایک حصہ ان فلموں کا ہے بھی رکھا کیا ہے جنہیں سرکاری عہدیداروں کے مشکلات درپیش ہوئیں ہیں اور اسے فریڈم آف اکسپریشن یعنی اظہار رائے کی آزادی کا نام دیا گیا ہے۔

اس سال فلم فیسٹیول کی پیشکش میں وسعت بخشی گئی اور دلی میں اسکی دو جگہ نمائش ہو رہی ہے لیکن اسکا بنیادی فارمیٹ پرانے طرز پر ہی ہے۔ اس میں مقابلوں کی کیٹیگری انڈیا، ایشیا اور عرب ممالک پر ہی مشتمل ہے۔

اس میلے کا مقصد ایشیاء اور عرب سنیما کی ایسی فلمیں عوام کے سامنے پیش کرنا ہے جو عوام تک اس لیے نہیں پہنچ پاتیں کیونکہ ان فلموں کو بڑے پیمانے پر ریلیز کرنے کے لیے خریدار موجود نہیں ہوتے۔