ہٹلر کے ضبط کیے گئے سکلپچرز کی نمائش

سکلپچرز کے وہ کلکشن جسے ہٹلر کی نازی پارٹی کی جانب سے ضبط کیا گیا تھا اسے برلن کے نیویوس میوزیم میں نمائش کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔
فن کے ان بارہ نمونوں کو بیسویں صدی کی شروعات میں بنایا گیا تھا اور گزشتہ سال انہیں برلن شہر کے مرکز میں واقع ایک عمارت سے برآمد کیا گیا تھا۔
برآمد ہونے والے ان سکلپچرز یا مجسموں کا تعلق فن کے ان پندرہ ہزار نمونوں سے ہے جنھیں ہٹلر کے دور اقتدار میں ’گھٹیا درجے کا آرٹ‘ قرار دیا گیا تھا۔
ان سکلپچر یا مورتیوں کو گزشتہ ہفتے اس وقت برآمد کیا گیا تھا کہ جب ایک نئی ریلوے لائن تعمیر کرنے کے لیے زمین کھودی جارہی تھی۔
ٹیراکوٹا اور کانسی کی بنی ان مورتیوں کو ہٹلر کے زمانے میں یہ کہہ کر مسترد کردیا گیا تھا کہ ان سکلپچرز میں فحش جنسی تھیمز ہیں جو قوم پرستی کے تصور کے خلاف ہیں۔
برلن کے میئر کا کہنا ہے کہ ان سکلپچرز کی برآمدگی ایک ’معـجزہ‘ ہے اور یہ سکلپچرز برلن میں تاریک وقت کی کہانی بیان کرتے ہیں۔



