انڈین وزیر کی عامر خان سے ’ہندو مخالف‘ اشتہارات سے گریز کرنے کی ’درخواست‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے ایک وزیر نے بالی وڈ اداکار عامر خان سے ’درخواست‘ کی ہے کہ وہ ایسے اشتہارات سے گریز کریں جن سے ’مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔‘
یہ بیان مدھیا پردیش ریاست کے وزیر داخلہ نروتم مشرا کی جانب سے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دائیں بازو کے ہندو ایک نئے اشتہار پر مشتعل ہیں جس میں عامر خان نے بھی کام کیا ہے۔
اس اشتہار میں، جو ایک بینک کے لیے بنایا گیا، عامر خان اور اداکارہ کیارا ایڈوانی کو ایک نئے شادی شدہ جوڑے کے طور پر ہندو مذہبی رسومات میں شرکت کرتے دکھایا گیا ہے۔
تاہم ناقدین نے الزام لگایا ہے کہ اس اشتہار کے ذریعے ہندو روایات اور ثقافت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس اشتہار میں عامر خان شادی کے بعد اپنی بیوی کے گھر میں پہلا قدم رکھتے ہیں، جو ایک رسم ہے۔
کچھ لوگوں نے اس اشتہار کا دفاع کرتے ہوئے اسے ’بہترین‘ قرار دیا۔ ایک ٹؤٹر صارف نے لکھا کہ ’یہ اشتہار بیٹیوں کو عزت اور محبت دینے کا پیغام دے رہا ہے، کہ وہ کسی لڑکے سے کسی طور مختلف نہیں۔‘
تاہم دوسروں کا خیال ہے کہ اس اشتہار نے ہندو رسومات اور روایات کا ’مذاق‘ اڑایا اور ’توہین‘ کی ہے۔
مدھیا پردیش ریاست کے وزیر داخلہ نے کہا کہ انھوں نے ایک شکایت وصول ہونے کے بعد یہ اشتہار دیکھا: ’میں ان سے درخواست کروں گا کہ انڈین روایات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایسے اشتہارات مِں کام نہ کریں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ پہلا موقع نہیں کہ عامر خان پر ہندو جذبات کو ’مجروح‘ کرنے کا الزام لگا ہو۔
ان کی آخری فلم لال سنگھ چڈھا کو حال ہی میں آن لائن بائیکاٹ مہم کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کی وجہ دائیں بازو کی جانب سے 2015 میں عامر خان کا ایک بیان سامنے لانا تھا جس میں انھوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAAMIR KHAN PRODUCTIONS
اس وقت ای کامرس پلیٹ فارم سنیپ ڈیل نے عامر خان سے بطور برینڈ ایمبیسیڈر معاہدہ ختم کر دیا تھا۔ عامر خان نے بعد میں ایک وضاحت دی تھی اور کہا تھا کہ وہ انڈیا سے محبت کرتے ہیں۔
اس سے پہلے 2021 میں ان کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب ان کے ایک اشتہار میں انھوں نے لوگوں کو دیوالی کے تہوار کے موقع پر گلیوں میں پٹاخے چلانے کی عادت ترک کرنے کی ترغیب دی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
مدھیا پردیش ریاست کے وزیر داخلہ نروتم مشرا اکثر بالی وڈ کو مشوروں اور تنبیہ کرنے کی وجہ سے خبروں اور سرخیوں کی زینت بنتے ہیں۔
رواں ماہ کے آغاز میں انھوں نے ’ادی پرش‘ کے فلمسازوں کے خلاف اس صورت میں قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا تھا اگر انھوں نے فلم سے ایسے مناظر ختم نہیں کیے جن میں ہندو بھگوان ہنومان کو ’چمڑے کے کپڑے‘ پہنے دکھایا گیا تھا۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’ایسے مناظر سے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔‘
تاہم حالیہ اشتہار پر آن لائن تنقید دائیں بازو کی جانب سے ایسی تازہ ترین مثال ہے۔
2021 میں اداکارہ عالیہ بھٹ کو ایک ایسے اشتہار میں کام کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جس میں ہندو شادیوں میں ’کنیا دان‘ کی رسم پر سوال اٹھایا گیا تھا۔
ایک سال قبل تنشق نامی جیولری برینڈ نے آن لائن مہم کے بعد ایک اشتہار چلانا ختم کر دیا تھا جس میں دو مختلف مذاہب کے میاں بیوی کا جوڑا دکھایا گیا تھا۔












