بالی وڈ ڈائری: اکشے کمار کا نصاب میں ہندو راجاؤں کے ’عظیم الشان قصے‘ نہ ہونے کا شکوہ، شاہ رخ خان کی نئی فلم ’جوان‘ زیرِ بحث

اکشے اور مانوشی

،تصویر کا ذریعہSUJIT JAISWAL

،تصویر کا کیپشناکشے کمار کے ساتھ اس فلم میں ماڈل اور اداکارہ مانوشی چلر ہیں
    • مصنف, نصرت جہاں
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

’ملک میں آنے والے حملہ آوروں کے بارے میں تاریخ کی کتابوں میں بہت کچھ لکھا گیا ہے لیکن بدقسمتی سے ہماری تاریخ کی نصابی کتابوں میں دوسرے حکمرانوں کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں ملتا‘ یہ کہنا ہے بالی وڈ کے کھلاڑی کہلائے جانے والے اداکار اکشے کمار کا۔

اتنا ہی نہیں انھوں نے تو ملک کے حکمرانوں کے سامنے ہاتھ تک جوڑ دیے کہ عالیجاہ، نصابی کتابوں کا جائزہ لیا جائے تاکہ ہندو راجاؤں کے ’عظیم الشان قصوں‘ کا بھی تفصیلی ذکر کیا جائِے۔

اکشے کمار یہ تمام محنت اپنی نئی فلم ’سمراٹ پرتھوی راج چوہان‘ کے لیے کر رہے ہیں جو اسی ہفتے ریلیز ہوئی ہے۔ فلم کے پروموشن کے دوران مختلف ٹی وی چینلز اور ویب سائٹس کے ساتھ بات کرتے ہوئے اکشے اور اس فلم کے ہدایت کار ڈاکٹر چندر پراکش دویدی باکل ایسے بات کر رہے ہیں جیسے بی جے پی لیڈر ہندو ووٹ حاصل کرنے کی کوشش میں کرتے ہیں۔

اکشے کے ان ریمارکس اور فلم کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی کھل کر باتیں ہو رہی ہیں۔ کچھ لوگ اسے مذہب کے نام پر کمائی کا ذریعہ بھی کہہ رہے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کے خیال میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بات کرتے ہوئے فلم کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا مندروں کی تعمیرِ نو اچھی بات ہے۔ کیونکہ یہ ہندو ملک ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کیا وہ ہندو قوم پرستی کو فروغ دے رہے ہیں تو ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ وہ ’اسے ثقافتی قوم پرستی کہیں گے اور ہندو قوم پرستی یا ثقافتی قوم پرستی کے احیا میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس قوم کا کردار ہندو ہے اور جب میں ہندو کہتا ہوں تو اس کا مطلب ثقافت ہے۔‘

بہرحال جس طرح ایک بار پھر بی جے پی حکومت یہاں تک کہ آر ایس ایس کے سربراہ تک اس فلم کی تشہیر کر رہے ہیں لگتا ہے کہ جیسے ایک اور ’کشمیر فائلز‘ ریلیز ہو گئی ہے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ یہ کہانی 1192 میں ایک ہندو راجا پرتھوی راج چوہان اور شہاب الدین محمد غوری کے درمیان ہونے والی جنگ میں پرتھوی چوہان کی بہادری اور عظمت کو دکھانے کی کوشش ہے کہ کس طرح انھوں نے غوری کے چھکے چھڑا کر انھیں شکست دی تھی۔

تاہم تاریخ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک سال بعد ہی غوری نے پرتھوی راج چوہان کو اسی میدانِ جنگ میں شکست دی تھی جہاں سے وہ اپنی جان بچا کر بھاگ نکلے تھے پھر انھیں سرسا کے نزدیک پکڑ کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

شاید اکشے ایسی ہی تاریخ پر نظر ثانی کی درخواست کر رہے ہوں۔ بات جو بھی ہو اس فلم میں ’ایک بہادر اور عظیم ہندو راجا اور ایک ظالم مسلمان حملہ آور‘ کا تماشہ ملک میں اور کتنے تماشے دکھائے گا یہ وقت بتائے گا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

سوشل میڈیا پر بالی وڈ کی کچھ ہستوں نے جہاں فلم کے لیے اکشے کو مبارکباد دی تو کچھ نے فلم کے بائیکاٹ کی اپیل کی۔

کچھ افراد کا کہنا ہے کہ کشمیر فائلز کی طرح ٹیکس فری ہونے سے یہ فلم کروڑوں کا کاروبار کرنے کے ساتھ ساتھ شاید کچھ لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کرنے میں بھی کامیاب ہو جائِے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

ادھر شاہ رخ خان کی فلم ’جوان‘ کا ٹیزر بھی موضوع بحث ہے اسی ہفتے ریلیز ہونے والی اس فلم کے ٹیزر کو دیکھنے کے بعد لوگوں نے جھٹ سے 1990 کی مشہور فلم ’ڈارک مین‘ کی تصاویر کے ساتھ شاہ رخ کے ٹیزر کا موازنہ کرنا شروع کر دیا۔

فلم میں کنگ خان کا حلیہ ہو بہو لیئم نیسن جیسا تھا۔ ٹیزر میں شاہ رخ کا پورا چہرے بمشکل دکھائی دے رہا ہے اور پٹیوں سے چھپا ہوا تھا اور وہ خطرناک ہتھیاروں کا استعمال کرتے نظر آئے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 4

ڈارک مین سے مشابہت کے باوجود لوگوں کو شاہ رخ کا یہ روپ اور انداز خوب پسند آ رہا ہے۔

فلم کی کہانی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا اسی لیے ناظرین تجسس کا شکار ہیں کہ آخر فلم کی کہانی ہے کیا۔