’حبس‘ ڈرامے کے کردار فیروز خان: ’دل چاہتا ہے اصل زندگی میں بھی رومانس کروں‘

    • مصنف, شمائلہ خان
    • عہدہ, صحافی،

پاکستانی اداکار فیروز خان کا شمار بلاشبہ ملک کے مقبول نوجوان اداکاروں میں ہوتا ہے۔ اپنے آٹھ سالہ کریئر میں انھوں نے بمشکل دو درجن ڈرامے اور دو فلمیں کی ہیں لیکن اپنے کرداروں اور منفرد شخصیت کی وجہ سے وہ مداحوں کے دل میں گھر کر گئے۔

اپنے کام کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی، مذہبی اور سماجی عقائد کے کھلے عام پرچار کی وجہ سے وہ اکثر تنقید کی زد میں بھی رہتے ہیں۔

فیروز خان نے اپنے کریئر کا آغاز سنہ 2014 میں ڈرامہ سیریل ’بِکھرا میرا نصیب‘ سے کیا تھا لیکن اُسی سال نشر ہونے والا دوسرا ڈرامہ سیریل ’چُپ رہو‘ وہ پراجیکٹ تھا جس کی بدولت اُنھیں مقبولیت ملی۔

’بااثر دوست اور دُشمن‘

فیروز خان کی بہن حُمیمہ ملک پاکستان اور انڈیا دونوں ممالک میں اپنے کام کی بدولت نام کما چکی ہیں البتہ بعد میں انھوں نے شوبز کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ فیروز نے بی بی سی کو دیے گیے ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ اپنی بہن کو اپنا اُستاد مانتے ہیں لیکن جہاں اُن کی سپورٹ اور دوستیوں کے کچھ فائدے تھے وہیں کچھ نقصان بھی تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ’جب میں انڈسٹری میں آیا تو اُن کے کام کی وجہ سے جتنے اُن کے بااثر دوست تھے، اُتنے ہی بااثر دشمن بھی تھے۔ تو جو اُن کے دشمن تھے وہ میرے دشمن بن گئے اور جو دوست تھے وہ میرے دوست بن گئے۔‘

’معاشرے کی مدد کرنے والے کرداروں میں دلچسپی‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’اب تو میں یہ دیکھتا ہوں کہ میرا پراجیکٹ کسی کی بھی کس طرح مدد کر رہا ہے۔ اُس کی وضاحت صرف مجھے چاہیے ہوتی ہے۔ اگر مجھے سمجھ آتا ہے کہ یہ کسی طور بھی معاشرے کی مدد کرے گا تو وہ میں کروں گا، اور اگر مجھے لگتا ہے کہ یہ صرف ٹی وی پر ایک اپیئرنس ہو گی 24 یا 20 ہفتے کی تو وہ میں نہیں کرنا چاہوں گا۔‘

فی الوقت اُن کا ایک ڈرامہ سیریل ’حبس‘ آن ایئر ہے جس میں وہ باسط نامی مرکزی کردار نبھا رہے ہیں۔

ہم نے اُن سے جاننا چاہا کہ اِس ڈرامے میں باسط کے کرادر سے معاشرے میں کیا تبدیلی آ سکتی ہے تو اس کے دفاع میں وہ بولے۔ ’(باسط کا کردار) ٹاکسک نہیں ہے، شراب نہیں پیتا، سگریٹ نہیں پیتا، اپنے پیسے اور طاقت کا غلط استعمال نہیں کرتا، آگے پیچھے گارڈز لے کر نہیں گھومتا، اپنی طاقت کے نشے میں کسی عورت کو استعمال نہیں کرتا۔۔۔ اور کیا اچھائیاں چاہییں۔ آج کل کے دور میں یہ بھی بہت ہے۔‘

فیروز خان ڈراموں میں بھی مردوں کے کرداروں کو ایک مخصوص انداز سے دِکھانے پر نالاں ہیں اور اس بات کا اظہار انھوں نے اِن الفاظ میں کیا: ’مستقل بولتے ہیں کہ عورتوں پر ہاتھ نہ اٹھاؤ، تو ہر ڈرامے میں ایک مرد کو جانور بھی نہیں دِکھاؤ۔ ایسا نہیں دِکھاؤ کہ مرد اگر آپ کے ساتھ کہیں کھڑا ہوا ہے تو وہ آپ کو مارے گا ہی، یا وہ آپ کو ذلیل ہی کرے گا، یا وہ آپ برباد ہی کرے گا۔ کیونکہ ممکن ہے کہ آپ ایسا سوچتے ہوں لیکن اگلا بندہ آپ کے ساتھ اچھائی کرنے آ رہا ہو اور وہ وہ کرے جس کا آپ کو گمان نہ ہو۔‘

یہ بھی پڑھیے

ڈراموں میں مردوں کے کرداروں کو ایک ہی زاویے سے دیکھنے کے مسئلے پر دلیل دیتے ہوئے فیروز خان نے کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ باسط ایک حقیقی زندگی کا کردار ہے لیکن ہم اُسے ایک بہترین فکشنل کیریکٹر (خیالی کردار) کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘

’جارحانہ‘ انداز اور کرداروں کا دفاع

فیروز خان اپنے مختلف ڈراموں میں ایک بِگڑے ہوئِے سر پھرے لڑکے کا کردار ادا کر چکے ہیں اور اِن میں وہ عورتوں پر غصےمیں چیختے چلاتے اور جارحیت کا مظاہرہ کرتے نظر آئے۔ یہ وہ مناظر ہیں جن پر کافی تنقید ہوئی کہ ڈراموں کے ذریعے جارحانہ مناظر کو نارملائز (معاشرے میں قابل قبول بنانا) اور ایسے کرداروں کو عظیم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن فیروز خان اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے جتنے بھی کردار کیے ہیں اُن میں کبھی یہ نہیں ہوا کہ آخر میں اُن کو گلوریفائی کیا جا رہا تھا۔ اُنھوں نے اپنے غلط کاموں اور جرائم کی سزا پائی۔‘

فیروز خان نے اپنے ڈراموں ’خانی‘، ’چُپ رہو‘ اور ’اے مُشتِ خاک‘ کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ اِن تمام کرداروں کو مکافاتِ عمل سے گزرنا پڑا۔

فیروز خان نے نام لیے بغیر اپنی کسی خاتون دوست کی کال کا ذکر کیا جس میں اُن کی دوست کا کہنا تھا کہ اُنھیں ڈرامے میں عورت پر ہاتھ بھی نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔

جس پر فیروز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’میں نے کہا کہ میں نے ہاتھ کیسے اٹھایا؟ ایک بات ہوئی، فرسٹریشن ہوئی اور دو کردار آپس میں لڑ پڑے۔‘

اُن کی دوست کا خیال تھا کہ اس طرح وہ خود مشکل کو دعوت دے رہے ہیں۔

جس پر فیروز نے کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ ایسا ہے کیونکہ میری سمجھ کے مطابق لوگ جذبات کا اظہار پسند کرتے ہیں۔ وہ ففٹی شیڈز آف گرے دیکھتے ہیں جو کہ پاکستان میں سب سے زیادہ گوگل کیا جانے والا اور دیکھا جانے والا شو تھا۔‘

انھوں نے سوالیہ لہجے میں اپنے کرداروں کے جارحانہ انداز کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’اور وہ یہ ناپسند کرتے ہیں جب کوئی اپ سیٹ ہو یا اُسے کسی کی محبت کے کھو جانے کا ڈر ہو۔ وہ بُرا مناتے ہیں۔ کیوں؟ وہ اسے اِس طرح لیبل کیوں لگاتے ہیں اور ایک ایکشن سے آپ اُس کے پورے کیریکٹر کو جج کرنا شروع کر دیتے ہیں۔‘

’کسی کی بیوقوفی کا ذمہ دار نہیں‘

پاکستان کے نوجوانوں میں فیروز خان کی ایک بہت بڑی فین فالوئنگ ہے۔ صرف انسٹاگرام پر اُن کے 70 لاکھ فالوورز ہیں۔ ایسے میں کیا وہ اپنے مداحوں کی طرف کوئی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں۔

فیروز بولے کہ ’لوگوں کے اوپر اثر ہوتا ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ اگر لوگوں کو اپنے اوپر اثر ڈالنا ہی ہے کسی چیز کا تو وہ پہلے بات کو پورا مکمل سُنیں۔ کسی بھی بات کو مکمل جانیں۔ کسی بھی ڈرامے کی آخری قسط کو دیکھنے کے بعد اپنی رائے دیں۔ کسی بھی چیز کو سمجھنے کے بعد اپنی رائے دیں۔ اگر تیسری قسط ہے اور اُس میں مارا نہیں ہے تو مسئلہ بن جاتا ہے کہ ہاتھ کیوں اٹھا! ہاتھ کیوں اٹھایا۔‘

لیکن کیا اُن کے مداح ڈرامہ کا درست پیغام لینے کے لیے آخری قسط کا انتظار کرتے ہیں؟ میں نے اُنہی کے ڈرامے ’خدا اور محبت‘ کا حوالہ دیا کہ نوجوان مداح اُنھیں دیکھ کر مزاروں پر بیٹھنے لگے۔

اِس پر فیروز بولے کہ ’بیوقوفی اگر کوئی کرے اور بولے کہ میں نے یہ ڈرامہ میں دیکھا تھا تو میں اُس کا ذمہ دار تو نہیں ہوں۔‘

’دل چاہتا ہے اصل زندگی میں رومانس کروں‘

فیروز خان اپنے اکثر ڈراموں میں منفی ہیرو کا کردار نبھاتے ہیں جو بالآخر راہِ راست پر آ جاتا ہے۔ وہ اکثر جن کہانیوں کا حصہ ہوتے ہیں اُن میں اُن کی محبت اور محبوبہ کبھی آسانی سے نہیں ملتی۔

کیا کبھی اُن کا ایک رومانوی ہیرو کا کردار کرنے کا دِل چاہتا ہے اس سوال پر وہ مُسکرا کر بولے ’میرا دِل چاہتا ہے کہ میں اصل زندگی میں رومانس کروں۔ مجھے ہر چیز کیمرے کے لیے کرنے کی کیا ضرورت ہے۔‘

اداکار فیروز خان کی شرٹ کے بٹن اکثر کُھلے ہوتے ہیں اور چاک گریبان کے ساتھ ہی نظر آتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اُن کے کام، انداز اور بیانات کے ساتھ ساتھ اُن کی ڈریسنگ بھی موضوع بحث بن جاتی ہے۔

اس پر فیروز خان کہتے ہیں کہ ’میں کسی کے لیے کپڑے نہیں پہنتا۔ میں جو کرتا ہوں میری اپنی زندگی ہے، میں بہت انجوائِے کرتا ہوں۔ خدا کا شکر ہے میں اب نہیں سوچتا کہ کوئی کیا کہہ رہا ہے۔ جن لوگوں کو میرا ڈریسنگ سینس پسند آتا ہے، میں اُن کو سُنتا ہوں۔‘

’ہانیہ کی انرجی ابھی کسی کو سمجھ نہیں آئے گی‘

فیروز خان اپنے آٹھ سالہ کریئر میں پاکستان میں مقبول تقریباً تمام اداکاراؤں کے ساتھ کام کر چکے ہیں جن میں سجل علی، اقرا عزیز، یمنی زیدی، ثنا جاوید، اُشنا شاہ اور ہانیہ عامر وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن اُن کے بقول وہ ہانیہ عامر اور اُشنا شاہ کے ساتھ کام کر کے بہت انجوائے کرتے ہیں۔

اداکارہ ہانیہ عامر کے بارے میں وہ بولے کہ ’ہانیہ کی انرجی ابھی کسی کو سمجھ نہیں آئے گی۔‘

32 سالہ اداکار فیروز خان نے سنہ 2018 میں شادی کی اور اُن کے دو بچے ہیں۔ کافی عرصہ پہلے انھوں نے ایک بیان دیا تھا کہ شادی اتنی اچھی چیز ہے کہ بار بار کرنی چاہیے۔ میرے سوال پر کہ انھوں نے ایسا کیوں کہا وہ برجستہ بولے۔

مزید پڑھیے

’کیونکہ ایسا ہے۔ بار بار کرنی چاہیے۔ سب نے کی ہے۔ میں جن ماسٹرز کو فالو کرتا ہوں، جو میرے آقا ہیں، انھوں نے کی ہے۔ تو مجھے کرنی چاہیے۔ میرا ماننا ہے کہ انھوں نے جو جو کیا ہے وہ مجھے کرنا چاہیے اور جو نہیں کیا وہ مجھے نہیں کرنا چاہیے۔‘

’انڈسٹری چھوڑنے اور واپسی کا فیصلہ‘

دو سال پہلے فیروز خان نے انڈسٹری چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ مداح اُن کے اس اچانک فیصلے پر حیران و پریشان تھے کہ انھوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’حق کی راہ میں سب کچھ قربان کر کے ہی کھو دینے کے خوف پر قابو پایا جا سکتا ہے۔‘

لیکن جلد ہی انھوں نے وضاحتی بیان جاری کیا کہ انھوں نے شوبز چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا لیکن وہ اپنے روحانی سفر کی طرف گامزن ہیں۔ اس بیان کے بعد وہ ٹی وی سکرین پر دوبارہ نظر آنے لگے۔

شوبِز چھوڑنے کے ارادے کے پیچھے کہانی کے بارے میں ان کا کہنا تھا ’ہمارا کام دور سے دیکھنے میں مزےکا لگتا ہے۔ لیکن لوگوں کو یہ نہیں پتا ہوتا ہے کہ ایک ایکٹر کی قربانیاں کیا ہوتی ہیں۔‘

’کوئی روٹین نہیں ہے، کوئی کھانے کا نہیں پتا، ڈسپلن کا نہیں پتا، ٹریننگ کا نہیں پتا، فیملی کیا ہے، شادیاں ہو جاتی ہیں، لوگ مر جاتے ہیں ہم نہیں جا پاتے کیونکہ سیٹ پر صرف ایک آپ نہیں ہوتے، آپ کے ساتھ پورا ایک یونٹ چل رہا ہوتا ہے۔ آپ چلے جائیں تو پورا یونٹ بند ہو جاتا ہے۔ یہ اکثر لوگ نہیں سمجھ پاتے۔ فیملی بھی اکثر یہ سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے۔‘