ڈرامہ ’سنگ ماہ‘ کی آخری قسط: جرگے میں خواتین کی آمد اور خودکشی کے سین پر بحث

    • مصنف, نازش ظفر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

کیا آپ نے کبھی کوئی گالی سنی ہے جس میں عورت کا تذکرہ کسی حوالے سے نہ ہو؟ اور کیا آپ نے کبھی یہ دیکھا ہے کہ خواتین جرگوں میں موجود ہوں اور فیصلوں میں شامل ہوں؟ ان جرگوں میں جہاں ان کی بات ہوتی ہے لیکن وہ خود نظر نہیں آتیں۔

’جب گالی میں عورت شامل ہے تو فیصلوں میں کیوں نہیں۔‘ پاکستان میں ٹی وی سکرین پر ایسا منظر یا ڈائیلاگ نظر آئے تو وہ ضرور چونکا دیتا ہے۔

اس ڈرامے کی آخری قسط کے اختتام سے پہلے اس منظر اور اس ڈائیلاگ نے وہ رنگ جما دیا تھا جو اس کاوش کا ’حاصل غزل‘ بنا۔

مشران (قبائلی بزرگ) کا ایک جرگہ کھلے میدان میں قتل کی ایک واردات کا فیصلہ سنانے بیٹھا ہے۔ دور سے دیکھو تو گھنی مونچھ، داڑھی، ٹوپی، عمامے، اور پگڑی کا ایک اکٹھ ہے اور ایسے میں ٹیلے کے پیچھے سے زرغونہ چلی آتی ہیں، ان کے پیچھے شہرزاد، اس کے پیچھے گل مینا اور پھر کچھ عورتیں اور۔

ان کی چادروں کو چار دیواری سے باہر دیکھ کر پگڑی والوں کے رنگ اُڑتے ہیں، داڑھیاں کپکپاتی ہیں اور عمامے لڑکھڑاتے ہیں۔ بمشکل ایک ’مشر‘ منمناتا ہے کہ ’یہ غول کہاں سے چلا آرہا ہے۔‘

اس کے بعد جرگے میں مقتول کا وارث مردانہ للکار بحال کرنے میں کامیاب ہو کر کہتا ہے: ’جاؤ اپنے اپنے گھروں کو جاؤ اور اپنے مردوں کو بھیجو۔ مردوں کی محفل میں عورتوں کا کیا کام ہوتا ہے۔‘

’(مگر) مردوں کی گالیوں میں تو ہوتا ہے‘ شہرِزاد کا یہ جواب جرگے میں موجود مردوں کے علاوہ پاکستانی ڈرامے کے ان ناظرین کے لیے بھی ہے، جنھیں شکوہ ہے کہ ڈراموں میں عورتوں کو روتا دھوتا دکھانا اور ساس بہو کے گھریلو جھگڑوں کی کہانیوں نے انھیں سکرین سے دور کر دیا ہے۔

کیا سنگ ماہ مردوں کی کہانی تھی؟

پہلی نظر میں دیکھا جائے تو یہ ڈرامہ مردوں کا ہے۔ با رعب حاجی مرجان اپنے خاندان کے ہی نہیں بلکہ اپنے علاقے کے لوگوں کے بھی بزرگ ہیں۔

ہلمند اور حکمت ان کے دو بیٹے ہیں، سگا بیٹا حکمت ویسا ہی عاشق صادق ہے جیسا ’مرد‘ کو ہونا چاہیے۔ سوتیلا بیٹا ہلمند اپنے سگے باپ کے قتل پر انتقام کے لیے ایسے ہی بیتاب ہے جیسے ’مرد‘ کو ہونا چاہیے۔

مستان سنگھ اپنی محبوبہ کی آن بچاتے ہوئے قتل کر چکا ہے اور کسی ’مرد‘ کی طرح اس کا اعتراف کر کے اپنے حصے کی سزا کاٹ رہا ہے۔ اس سزا کے دوران اپنی منھ بولی بیٹی کی ’عزت کی حفاظت میں غیرت‘ کھا کر ایک اور قتل کی کوشش بھی کر چکا ہے اور پھر مشران ہیں، حلیے سے لے کر شریعت کے نکتوں کے بیان تک وہ انسان سے زیادہ ’مرد‘ ہیں۔

لیکن ڈرامے میں کرداروں کی پرتیں کھلتی ہیں تو معلوم ہوتا ہے مرد کاٹھ کے الو نکلے اور عورتوں نے جب بھی فیصلے ہاتھ میں لیے، زندگی کا پلاٹ آگے بڑھا۔

حاجی مرجان کی بیوی اپنے پہلے شوہر کو خود پر ’غگ‘ کرنے کے جرم پر اسے ذہر دے کر مار چکی ہیں اور حاجی سے شادی کا حق استعمال کرنے میں کامیاب ہے۔

ہلمند شیکسپیر کے جذباتی، انتقام کی آگ میں پاگل اور دھوکہ کھائے ہوئے ہیرو کی طرح حاجی کو باپ کا قاتل سمجھتا ہے اور اس فریب سے نکلنے کی سمجھ بوجھ اس کے پاس نہیں۔

عقلمند تو شہرزاد ہے جو استحصال کرنے والے خاندان اور بچپن سے جنسی زیادتی کرنے والے کزن کو منھ توڑ جواب دینے کے ساتھ، ہلمند سے محبت کے اعتراف کی جرات بھی رکھتی ہے۔

حکمت، حکمت سے اسی طرح خالی ہے جیسے وہ سارے مرد عاشق جو باتیں چاند توڑ لانے کی کرتے ہیں لیکن ’امی نہیں مان رہیں‘ کی گتھی سلجھانے میں کامیاب نہیں ہوتے۔

کسی چٹان کی طرح جمی ہوئی اس کی محبوبہ گل مینا کے سامنے وہ ایک ہربڑایا ہوا بچہ لگتا ہے۔ مستان سنگھ اپنی بے صبری میں دوہرا قتل کرنے پر آمادہ ہے لیکن اس کی منگیتر ہرشالی صبر کے ساتھ لڑکپن، جوانی اور پھر بڑھاپا اس مرد کے انتظار میں کاٹ سکتی ہے جو اسے ایک قسم سے باندھ کر گیا ہے لیکن اسے اپنا نہیں سکتا، ’مجبور‘ ہے۔

اور پھر زرغونہ ہے۔ مہا عورت۔ جس نے مستان سنگھ کے ہاتھوں خاوند کے قتل کے بعد جرگے میں کھڑے ہو کر فیصلہ کروایا، کھیتی اور ترکہ سنبھالا اور پھر اپنی بیٹی سمیت ان تمام عورتوں کے لیے کھڑی ہو گئی جو ’غگ‘ کا نشانہ بنیں۔ وہ قبائلی رسم جس کے تحت مرد ایک ہوائی فائر کر کے کسی بھی عورت پر ملکیت کا اعلان کر سکتا ہے اور پھر وہ قبر کی تو ہو سکتی ہے لیکن کسی اور مرد کی نہیں ہو سکتی۔

کہانی اور کردار ’لس پیران‘ کے فرضی علاقے سے دکھائے گئے ہیں اور کردار، لب و لہجہ، رسومات پشتون قبائل سے مماثلت رکھتے ہیں لیکن اس ڈرامے کے مصنف کے بقول کہانی کی بنت کسی علاقے سے مخصوص نہیں۔

پاکستان میں سوشل میڈیا پر سنگ ماہ تب سے ٹرینڈز کا حصہ بنا جب گلوکار عاطف اسلم کے کاسٹ میں شامل ہونے کی خبر آئی۔ عاطف کا کردار، جذباتی اور باغی ہلمند باپ کی قبر پر کسی مرید کی طرح موجود رہتا ہے، اس کے مکالمے شیکسپیر کے ہیرو کی طرز پر نظمیہ ہیں، جو اردو ٹی وی ڈرامے میں ایک نیا تجربہ ہے۔ عاطف اسلم کے فینز نے انڈیا سے بھی اس ڈرامہ کو ان کی خاطر دیکھا اور پسند کیا۔

اس کے بعد غگ کی رسم پر سوشل میڈیا پر بات ہوئی۔ زرغونہ کی چادر ’چیل‘ بھی زیر بحث رہی۔ روایت کے مطابق یہ صوابی کے علاقے میں خواتین کی مخصوص چادر ہے جس پر لال دائروں کا پرنٹ خون کے ان دھبوں کی یاد قائم رکھنے کے لیے ہیں جو ان کے شہید مردوں کی نشانی ہیں۔

یوٹیوب پر ڈرامے کی ہر قسط کے کمنٹس میں صارفین نے یہ ضرور کہا کہ یہ ڈرامہ ’ہٹ کر‘ ہے۔ اس لیے کہ اس میں ساس، بہو، نند، جیٹھانی، کچن سے ڈرائنگ روم تک سازشیں نہیں کر رہیں، تخت پر بیٹھ کر سبزی کاٹنے والی کوئی دادی نانی نہیں۔ عورت کسی دوسری عورت سے شوہر کو ’محفوظ‘ کرنے کے لیے عملیات نہیں کر رہی، نہ کالج کی کوئی لڑکی ہے جو بغل میں کتاب اور آنکھ میں شادی کا خواب سجا کر بیٹھی ہے۔

لس پیران کی دنیا ایک الگ ہی دنیا ہے۔ یہاں کہانی کا تجسس پہلی سے آخری قسط تک برقرار رہا کیونکہ کردار وہ سب نہیں کر رہے جو ہم سکرین پر دیکھنے کے عادی ہیں۔ اس لیے ہر موڑ ہمیں چونکا جاتا ہے۔ یہاں کرداروں کی تقسیم بھی ہیرو اور ولن کے روپ میں نہیں کی گئی۔ بلیک اینڈ وائٹ کے بجائے ہر کردار ’گرے‘ ہے۔

کیا آخری قسط میں خودکشی کے منظر نے ناظرین کو مایوس کیا؟

ایسے ہی گرے کیریکٹرز حاجی مرجان اور ان کی بیوی زرسانگہ ہیں۔ نوجوان زرسانگہ نے خود پر غگ کرنے والے شوہر کو حاجی مرجان کے ساتھ مل کر ذہر دے کر مارا ۔

یہ راز ان کے بڑھاپے میں جا کر کھلا، راز کھلنے کے بعد وہ سزا سے بچ گئے، عین اس وقت جب ناظرین توقع کر رہے تھے کہ اب وہ اپنے بیٹوں ہلمند اور حکمت کے ساتھ ہنسی خوشی رہنے لگیں گے، ایک منظر میں وہ دونوں ایک ساتھ ایسے نظر آئے کہ زرسانگہ کرسی پر بے حس و حرکت پڑی ہیں اور حاجی مرجان ان کی گود میں سر رکھے موت کی نیند سو چکے ہیں۔

ان کے پاس پڑی بچی کھچی افیم اس بات کا پتہ دے رہی ہے کہ دونوں نے خود اس نسبتاً آسان موت کا انتخاب کیا۔ سوشل میڈیا پر کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ’یہ دکھانا کہ خودکشی کے ذریعے احساس جرم سے نجات پائی جائے، درست نہیں۔‘

جبکہ ڈرامہ کے رائٹر مصطفی آفریدی نے بی بی سی سے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ حاجی مرجان کا انجام ان کے کردار کو دیکھتے ہوئے منطقی ہے۔

’وہ بنیادی طور پر ایک بزدل شحص ہے، زہر دے کر کسی کا قتل کرنے میں شامل ہوا، اگر یہ قدم بیوی زرسانگہ کی محبت میں بھی تھا تو للکار کر غگ کرنے والے اس مرد کے خلاف کھڑے ہونے کی جرات اس میں نہیں تھی، اس قتل کے اعتراف کی جرات بھی اس نے نہیں کی، زرسانگہ نے کی، جرگے کا سامنا کرنے پر بھی آمادہ نہ ہوا اور بیٹے حکمت کو بھیجا اور پھر آخر میں ایک بزدل ہی کی طرح اس نے ایک آسان موت کا انتخاب کر لیا۔‘

ان کے مطابق یہی اس کا ’کارما‘ تھا۔

بہرحال صارفین اس خود کشی سے اتنا ناراض نہیں جس قدر ناراضی کی دھمکی انھوں نے عاطف اسلم کا کردار مارنے کی صورت میں دے رکھی تھی۔ انھیں ہلمند کو زندہ سلامت دیکھ کر خوشی ہوئی۔ اس بات کی خوشی بھی ہوئی کہ آخری قسط میں ہی سہی، ہلمند ’جاگا تو سہی۔‘

نعمان اعجاز، ثانیہ سعید، عمیر رانا اور سمیعہ ممتاز، جیسے قد آور فنکاروں کے علاوہ ڈرامے کے تمام سپورٹنگ کردار ادا کرنے والے فنکاروں نے بھی ثابت کیا کہ کردار تخلیق کرنے میں محنت کی گئی ہو اور اداکار اس کی پرتوں کو سمجھ کر اپنا لے تو ہر سین اپنے اندر جاندار بن جاتا ہے۔

’سنگ ماہ‘ تین ڈراموں کے ایک سلسلے کا حصہ ہے، جس میں ’سنگ مرمر‘ بھی بے حد کامیاب رہا۔ ہم ٹی وی سے چلنے والی اس سیریز میں ’سنگ سیاہ‘ کے نام سے تیسرا ڈرامہ بھی بنایا جائے گا۔