’دوبارہ‘: ’اگر مرد عورت کو خوش رکھے تو وہ کبھی بوڑھی ہو ہی نہیں سکتی‘

    • مصنف, آمنہ مفتی
    • عہدہ, مصنفہ و کالم نگار

ثروت نذیر کا لکھا ہوا ڈرامہ ’دوبارہ‘ بدھ 15 جون کو اپنے اختتام کو پہنچا۔ 33 اقساط پر مشتمل اس ڈرامے کی ہدایات دانش نواز نے دیں اور اس کی پروڈیوسر مومنہ درید تھیں۔

پچھلی دو دہائیوں سے جب سے پرائیویٹ چینلز کی تعداد میں اضافہ ہوا، ٹیلی ویژن ڈرامہ روز افزوں ترقی کر رہا ہے۔ ساس بہو اور روزمرہ کے روایتی ڈراموں کے ساتھ ساتھ ڈراموں میں کچھ موضوعاتی تجربے بھی کیے گئے۔

رشتوں کی شکست وراثت اور بدلتی دنیا میں انسان کے بدلتے کردار پر مبنی ’آوٹ آف دی باکس‘ ڈرامے اپنے مخصوص ناظرین سے داد تو پا جاتے ہیں لیکن عوامی مقبولیت یا ریٹنگ کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

اس صورتحال میں کچھ عرصہ قبل نشر کیا جانے والا ڈرامہ ’پری زاد‘ اور اب ’دوبارہ‘ ان ڈراموں کی فہرست میں آتے ہیں جو ’آوٹ آف دی باکس‘ ہونے کے باوجود نہ صرف ریٹنگز حاصل کرنے میں کامیاب رہے بلکہ انھوں نے ایک معاشرتی بحث بھی چھیڑی۔

’دوبارہ‘ کا مرکزی کردار ’مہرو‘ ( حدیقہ کیانی) اپنے عمر رسیدہ شوہر ہدایت اللہ (نعمان اعجاز) کے مرنے کے بعد جیسے ایک طویل قید سے رہا ہوتی ہیں۔

ہدایت اللہ کو رونے کی بجائے وہ اپنے اس بچپن کو روتی ہیں جو کم عمری میں ہدایت اللہ سے شادی ہونے کے باعث کہیں دفن ہو گیا تھا۔

ماہر ایک بے روزگار لڑکا ہے جو ماں باپ کی طلاق کی وجہ سے رشتوں کے برزخ میں لٹک رہا ہے۔ ان ہی مشکلات کے باعث اسے اپنی محبت کھونا پڑتی ہے۔ اس دوران ماہر اور مہرو کی ملاقات ہوتی ہے اور پھر یہ ملاقات محبت میں ڈھل کے شادی پر منتج ہوتی ہے۔

کچھ عرصے بعد ماہر اپنی پرانی محبت کی طرف پلٹتا ہے لیکن آخر مہرو کی طرف لوٹ آتا ہے اور مہرو بھی اسے معاف کر دیتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں جہاں بیوہ، مطلقہ اور بڑی عمر کی غیر شادی شدہ عورت کے لیے، کسی ساتھ یا شریک حیات کا انتخاب کر لینا ایک ناقابل معافی جرم بن جاتا ہے، ایسے موضوع پر ڈرامہ لکھنا خاصا مشکل کام تھا۔

ڈرامے کی مصنفہ ثروت نذیر سے جب پوچھا گیا کہ یہ موضوع انھوں نے خود منتخب کیا یا چینل کی طرف سے کہانی دی گئی تو انھوں نے کہا کہ وہ اپنے موضوعات خود چنتی ہیں۔

’دوبارہ‘ کا موضوع اور کہانی دو تین برس سے ہی ان کے ذہن میں موجود تھی۔ جب یہ کہانی ایم ڈی پروڈکشن میں سنائی گئی تو فوراً ہی پسند کر لی گئی۔

یاد رہے کہ ایم ڈی پروڈکشن ہی کا ایک اور ڈرامہ ’گھوسٹ‘ سنہ 2008 میں نشر ہوا تھا، جس میں شریک حیات کے لیے عورت کی پسند ناپسند اور پہلے شوہر کو چھوڑ کر اپنی مرضی سے دوسری شادی کے بارے میں بات کی گئی تھی۔ اس وقت بھی اس ڈرامے پر بہت شور و غوغا اٹھا تھا۔

اتنے برس بعد اس سے ملتے جلتے موضوع پر ڈرامہ لکھا گیا تو ناظرین کی طرف سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔

بہت سے دیکھنے والوں کو آخری اقساط میں شوہر کی بے وفائی معاف کر دینے کی ادا پسند نہ آئی تو کچھ کو ماہر کے کردار سے شروع ہی سے اختلاف تھا۔

بعض ناظرین کو جوان بچوں کی موجودگی میں ایک بیوہ عورت کا ایک کم عمر لڑکے سے شادی کرنا بالکل نہ بھایا۔

ڈرامے کے ڈائریکٹر دانش نواز سے جب پوچھا گیا کہ کیا ڈرامے پر تنقید کی وجہ ڈرامے کے موضوع کا اپنے وقت سے آگے ہونا ہے تو انھوں نے کہا کہ یہ ایک ممکنہ وجہ بھی ہو سکتی ہے۔

’ہمارے ہاں ہر نکتہ نظر کے لوگ پائے جاتے ہیں اور لوگ وہی سننا چاہتے ہیں جو انھیں پسند ہے۔ کسی نئی بات اور نئی سوچ کو قبول کرنا ان کے لیے ابتدا میں کافی مشکل ہوتا ہے۔‘

ڈرامے کی کہانی، کرداروں کی اٹھان اور ان کا ماحول، کہانی کے مزاج کے مطابق ہیں۔ ڈرامے میں پاکستانی گھروں میں پائے جانے والے ملازم اور ان کا مختصر مگر اثر پذیر کردار بھی دکھایا گیا ہے۔

پھپھو کا کردار جو سکینہ سموں ادا کر رہی تھیں کہیں کہیں ذرا زیادہ ہی روایتی لگ رہا ہے لیکن ہمیں سمندر پار آباد پاکستانیوں کے کچھ رویوں کی ایک جھلک اس کردار میں نظر ضرور آتی ہے۔

ڈرامے کی کاسٹنگ، ملبوسات اور لائٹنگ میں ڈائریکٹر کی پیشہ ورانہ مہارت نظر آتی ہے۔ ڈرون شاٹ، جو ایک نسبتاً نئی تیکنیک ہیں اور آج کل ڈراموں میں اکثر بے وجہ بھی نظر آتے ہیں، اس ڈرامے میں بھی نظر آئے۔ کچھ جگہوں پر یہ شاٹ ایک مکمل کہانی سناتے ہیں۔

مثلا ،ہدایت اللہ کے جنازے کے سین پر لیا گیا ڈرون شاٹ مکمل منظر دکھاتا ہے۔ یہ اور بات کہ وہاں غالباً پروڈکشن کے گونا گوں مسائل کے باعث، شرکا اتنے کم تھے کہ ایک بار تو لگا کہ ہدایت اللہ اور ان کا خاندان کوئی اتنا مقبول خاندان نہ تھا مگر کہانی اس کے برعکس ہے۔ بہرحال نئی تکنیک کے ساتھ نئے تجربات سے سب ہی بہت کچھ سیکھتے ہیں۔

مہرو کے کردار نے حقیقی عورت کو ایک بار پھر ٹی وی سکرین پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس ڈرامے پہ وہی بحث جاری ہے جو ہمارے معاشرے میں حقیقی عورت کے شخصی فیصلوں پر کی جاتی ہے۔ بات ہو رہی ہے اور بات ہوتی رہنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے

سوشل میڈیا پر ردعمل

سوشل میڈیا پر صارفین حدیقہ کیانی اور بلال عباس کی ایکٹنگ کو تو سراہ رہے ہیں لیکن ڈرامے کے اختتام پر ملا جلا ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔

انسٹاگرام پر حدیقہ کے ہی اکاؤنٹ پر ہزاروں کمنٹس کیے گئے ہیں۔ بلال نامی صارف نے ماہین کے کردار کو ماسٹر پیس قرار دیا لیکن صبا نامی صارف نے لکھا `مجھے مہرو کے کردار سے محبت ہے مگر ڈرامے کے اختتام نے مجھے مایوس کیا ہے۔‘

تاہم ٹوئٹر پر میرب اعوان نے لکھا یہ بہترین ہیپی اینڈنگ ہے۔

اعجاز احمد لکھتے ہیں کہ یہ دوبارہ کا بہترین اور مثبت اختتام ہے۔ ڈرامے کی کہانی منفرد انداز میں لکھی گئی اور آخر میں ایک مثبت پیغام دیا گیا۔ قابلِ تعریف۔

سیدہ دعا زہرہ نقوی نے جہاں ڈرامے کی تعریف کی وہیں سوال اور کمنٹ بھی کیا کہ مہرو کہاں سے بزرگ لگ رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر مرد عورت کو خوش رکھے تو وہ کبھی بوڑھی ہو ہی نہیں سکتی۔

حریم نے ٹویٹ کی کہ یہ ڈرامہ دقیانوسی خیالات کو توڑ رہا ہے۔ انھوں نے تجویز دی کہ ایسے ڈراموں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے جو معاشرے میں بہتری لانے میں مددگار ہیں اور یہ لوگوں کے نظریات کو تبدیل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

شہزادی نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا ڈرامہ اچھے نوٹ پر ختم ہوا لیکن ایک بیڈ ٹیسٹ بھی تھا۔

وہ سمجھتی ہیں کہ ماہر مہرو کے بالکل بھی قابل نہیں تھا۔