مسٹر اور مسز شمیم میں صبا قمر کا کردار: زی فائیو کی ویب سیریز میں دکھائی گئی انوکھی کہانی کا مداحوں کو بے صبری سے انتظار

’میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اس ہاسٹل میں لڑکے نہیں آئیں گے تمھیں لینے کے لیے، میڈم یہ آپ کو کہاں سے لڑکا لگ رہا ہے۔۔۔ اوئے یہ تمھیں لڑکا سمجھ رہی ہیں۔۔۔ میں لاوارث ہو گئی ہوں مگر اتنی بھی گئی گزری نہیں ہوں کہ تجھ سے شادی کروں گی۔۔۔‘

یہ ڈائیلاگز انڈین آن لائن پلیٹ فارم زی فائیو کی ویب سیریز مسٹر اور مسز شمیم کے جاری ہونے والے ٹریلر میں آپ نے ضرور سنے ہوں گے جس میں ایک طویل وقفے کے بعد صبا قمر ایک بار پھر سکرین پر دکھائی دیں گی۔

بی بی سی کے لیے انٹرویو میں صحافی براق شبیر سے گفتگو کرتے ہوئے صبا قمر جو اس سیریز میں مسز شمیم کا مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں بتاتی ہیں کہ انھیں ٹریلر جاری ہونے کے بعد سے دنیا بھر سے پیغامات اور کالز موصول ہو رہی ہیں اور خصوصاً پاکستان اور انڈیا دونوں ہی جانب سے ’پرجوش ویلکم‘ کیا گیا ہے۔

اس سیریز میں ان کے مد مقابل مسٹر شمیم کا کردار سینیئر پاکستانی اداکار نعمان اعجاز ادا کر رہے ہیں۔

صبا سمجھتی ہیں کہ مسٹر شمیم کا کردار لوگوں کی توجہ ایک اہم موضوع کی جانب مرکوز کروانے کے لیے بنایا گیا تھا اور انھیں ’امید ہے کہ لوگوں کو تھوڑی سمجھ آئے گی، انسانیت کے لیے نرم گوشہ پیدا ہو گا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ برصغیر میں صنف کے حوالے سے جو رویہ ہے یہ اس سے بہت مختلف ہے۔ ’جب بھی آپ کچھ مختلف کرتے ہو تو اسے پسند کیا جاتا ہے۔‘

صبا کہتی ہیں کہ شمیم خواجہ سرا نہیں لیکن تب بھی لوگوں کے لیے وہ نارمل نہیں ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’شمییم میں تھوڑی نزاکت ہے، جیسے خواتین میں زیادہ رہنے والے یا جیسے چار بہنوں کا بھائی ہو، آپ کے سرکل میں کوئی نہ کوئی ایسا کردار ضرور ہوتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’چاہے کوئی بھی ہو خواجہ سرا ہو یا بظاہر انداز میں ایسا ہو ہر ایک کی عزت ہونی چاہیے لیکن ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں سے امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔‘

’ہم فرق کرتے ہیں ہم ان پر بات کرتے ہیں، اللہ کی طرف سے کووڈ کی شکل میں جو ریئلٹی چیک ملا ہے اب بھی اس کی سمجھ نہ آئے تو کب آئے گی۔‘

صبا خود اس سیریز میں ایک کھلنڈری لڑکی کا کردار ادا کر رہی ہیں جو ایک ’خوش شکل لڑکے کی محبت میں گرفتار ہوتی ہے لیکن وہ کہتی ہیں کہ حقیقت تو اور ہے اور محبت کیا ہے وہ اومینا کو شمیم سکھاتا ہے۔

’جب ایک عورت یا لڑکی جوان ہوتی ہے تو وہ فلمیں دیکھتی ہے اور ہمارے ذہن میں ایک تصور بن جاتا ہے اپنے ہونے والے شوہر کے حوالے سے، مگر آپ کو معلوم نہیں ہوتا کہ پیار کی تعریف خوبصورتی نہیں، مسلز یا پیسہ نہیں۔‘

صبا نے بتایا کہ اس سیریز پر انھوں نے دو سال کام کیا ہے اور انھیں اس سے بہت لگاؤ ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’بہت زبردست تجربہ رہا اس پراجیکٹ کا اور یہ کچھ الگ تجربہ ہے دیگر کام جو میں نے کیے اس سے۔

’اکتوبر 2019 میں شروع کیا تھا۔ دو سال اس کردار میں رہے، رو رہے ہیں ساتھ میں ہنس رہے ہیں۔ ہم نے جیا ہے ان کرداروں کو لیکن اومینا کے کردار میں بہت تہیں ہیں اور مجھے اس سے محبت ہے۔‘

صبا جنھوں نے اپنا پہلا پراجیکٹ بھی نعمان اعجاز کے ساتھ ہی کیا تھا بتاتی ہیں کہ اگر وہ کچھ بولتے ہیں کوئی لائن تو سمجھ آ جاتی ہے کہ آگے کیا آنے والا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

صبا ہمیشہ سے ہی مختلف کردار کرتی آئی ہیں اور اس سیریز کا ٹریلر دیکھنے کے بعد لوگوں نے ان کو کہا کہ ’یہ کردار آپ ہی کر سکتی تھیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ڈائریکٹر کاشف نے بتایا کہ ’اومینا کے کردار میں تم ہی ہو جو نعمان کو کنٹرول کر سکتی ہو تمھارے علاوہ میرے ذہن میں اور کوئی کردار نہیں آیا۔‘

تاہم صبا سے جب یہ پوچھا گیا کہ ان کی ذات کس حد تک اومینا کے کردار سے مطابقت رکھتی ہے تو ان کا جواب تھا کہ ’اتنا ریلیٹ تو میں نہیں کر سکتی اپنے ساتھ، اس کردار میں بہت ساری پرتیں ہیں، ان کا تجربہ میں نے ابھی اپنی زندگی میں نہیں کیا ہاں میں اس کردار کو کرتے ہوئے اس کے دکھ کو سمجھ سکتی ہوں، ہاں میں نے اس سے سیکھا بہت ہے۔ شروع میں جہاں اس میں بچپنا دکھتا ہے تو وہاں آپ کو صبا دکھتی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ٹریلر میں ہی ہم نے سب کچھ بتا دیا ہے۔ تو ایسا نہیں ہے۔ اس میں ہم نے بہت اہم مسائل پر بات کی ہے اور آپ اسے بہت پسند کریں گے۔‘

صبا نے بتایا کہ کسی نے سوشل میڈیا پر انھیں لکھا کہ ’جب دیکھیں آپ شوٹ پر ہوتی ہیں جب دیکھیں شوٹ ہر ہوتی ہیں لیکن آ تو کچھ نہیں رہا۔‘

ہنستے ہوئے انھوں نے کہا کہ مسٹر اور مسز شمیم سمیت کل سات پراجیکٹس ہیں جو ایک کے بعد دوسرا آئے گا۔

سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میں بہت زیادہ اس بارے میں نہیں جانتی تھی اب بھی اپنے بھانجے بھانجیوں سے مدد لے لیتی ہوں۔

وہ کہتی ہیں کہ سنہ 2015 کے بعد میں اپنے آپ میں تبدیلی دیکھتی ہوں۔ ’پہلے والی صبا تھوڑی سی بے باک تھی اور اب سوچ کر بولتی ہوں۔‘

اس سوال پر کہ سوشل میڈیا پر پیار کے علاوہ تنقید بھی برداشت کرنی پڑتی ہے تو وہ کیسے برداشت کرتی ہیں۔

صبا قمر کا جواب تھا کہ ’زندگی میں تجربے کے ساتھ ساتھ میں نے سیکھ لیا کسی کے کہنے سے آپ کوئی برے تھوڑی ہو جاتے ہو۔‘

شادی کا فیصلہ ترک کرنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر صبا نے کہا کہ ’اس پر بات نہیں کرتے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جو ٹھیک انسان ٹھیک وقت پر آئے گا ہم اس کے بارے میں بات کریں گے، جو آپ کی قسمت میں نہیں اس کے بارے میں بات کرنا فضول ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ میں انجوائے اپنی فیملی اور چند دوستوں کے ساتھ کرتی ہوں بہت کم پارٹیز میں جاتی ہوں۔

اس کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میں موڈی ہوں تیار ہونے سے میری جان جاتی ہے، کبھی کبھی میں پہنچ بھی جاتی ہوں، سب کو سمجھ آ گئی ہے کہ یہ کسی اور سیارے کی بندی ہے۔‘

جب صبا سے سوال پوچھا گیا کہ جب سے آپ نے ’ہندی میڈیم‘ کی کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ اس کے بعد سے آپ کا رویہ بدلا ہے، یہ کتنا درست ہے آپ چوزی ہو گئی ہیں؟

اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال سے یہ ہونا چاہیے پریشر بہت بڑھ جاتا ہے۔ فینز کو اس سے زیادہ اچھا چاہیے ہوتا ہے اور اگر آپ نہ کرو تو پھر ان کو مایوسی ہوتی ہے۔ میں بدلی نہیں ہوں اچھے سکرپٹ کی ڈیمانڈ کرنا تو آیک ایکٹر کا حق ہوتا ہے۔

اپنے سابقہ پراجیکٹس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صبا قمر نے ڈرامہ سیریئل ’چیخ‘ اور ’باغی‘ کا حوالہ دیا۔

انھوں نے کہا کہ مجھے بہت اچھا لگتا ہے پہلے ساس بہو کی کہانیوں میں پھنس گئے تھے اب تبدیلی آئی ہے ہم ٹاپک اور ایشوز کو ڈسکس کرتے ہیں، ہمارا ٹی وی ہمارا سینما بدلا ہے۔

انھوں پاکستانی اداکاروں کا حوالہ دیا اور کہا کہ اقرا، سجل، کبریٰ وغیرہ اچھا کام کر رہی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے خوشی ہوتی ہے انھیں دکیھ کر ہمارے ایکٹرز باہر جا کر بھی کام کر رہے ہیں خوشی ہوتی ہے۔‘

قندیل بلوچ کی زندگی پر بنائے گئے ڈرامے پر بات کرتے ہوئے صبا قمر نے کہا کہ اس ڈرامے میں کردار کرنے کے بعد وہ ڈپریشن میں چلی گئی تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’قندیل کے کردار کو میں نے اتنا دل سے کیا کہ وہ کرنے کے بعد میں ایک سال تک کچھ کر نہیں پائی۔ میں ڈپریشن میں چلی گئی تھی میں سوتی نہیں تھی۔

’وہ مجھے خواب میں نظر اتی تھی اور میں نیند سے اٹھ جاتی تھی اور کتنی بار میں اپنی امی کے پاس جاتی تھی اور ان کو بتاتی تھی کہ وہ مجھے نظر آئی ہیں۔ وہ مجھے کہتی تھی کر رہی ہو تم انصاف دلاؤ۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’میں چاہتی تھی کہ لوگوں کو کچھ پتہ چلے وہ محسوس کریں۔‘

انھوں نے اپنی آنے والی دو فلموں کملی اور گھبرانا نہیں کے حوالے سے کہا کہ ان کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ فلم کملی کا حوالہ دیتے ہوئے صبا قمر نے کہا کہ ’اس میں میں نے کوئی میک اپ نہیں کیا اور میں اس میں بہت کم بولی ہوں۔‘

’اگر کملی نہ چلی تو میں نے خود کشی کر لینی ہے۔۔۔ میرا پانی کے اندر شوٹ تھا۔ اتنی اذیت میں نے اپنے کریئر میں نہیں دیکھی۔ کملی میرے دل کے بہت قریب ہے۔‘

اپنے انٹرویو کے اختتام پر انھوں نے اپنے چند اور پراجیکٹس کا ذکر کیا ان میں سے ایک سیریئل کلر بھی ہے جس میں انھوں نے ڈی ایس پی کا رول ادا کیا بتایا کہ اس کے حوالے سے بھی مجھے بہت اچھی امیدیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں بہت خوش ہوں کہ مداحوں کو سب کچھ بہت پسند آ رہا ہے چاہے وہ ویب سیریز ہے چاہے گانا ہے چاہے فلم ہے۔

صبا نے کہا کہ ’میں آ رہی ہوں، دل تھام کے رکھیں آپ مجھے دیکھنے والے ہیں، بس مجھے ہی دیکھنے والے ہیں۔‘