آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دا لیجنڈ آف مولا جٹ کو سکرین پر آنے میں نو برس کیوں لگے؟
- مصنف, کوکب جہاں
- عہدہ, صحافی، کراچی
انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور پاکستانی فلم ’دا لیجنڈ آف مولا جٹ‘ آخر کار 13 اکتوبر کو ملک سمیت دنیا بھر میں نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے، جس کا کئی برسوں سے پاکستانی سنیما اور اس کے شائقین کو انتظار تھا۔
دسمبر سنہ 2013 میں ہدایتکار بلال لاشاری نے فلم مولا جٹ بنانے کے بارے میں ایک ٹویٹ کی تھی اور اب اس بات کو تقریباً نو برس کے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔
اس دوران 20 ماہ کے قریب کورونا کی عالمی وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں سنیما بھی بند رہے لیکن پھر بھی یہ سفر بہت طویل تھا۔
دی لیجنڈ آف مولا جٹ کے اعلان کے بعد تقریباً ایک سے ڈیڑھ سال سکرپٹ اور کاسٹنگ پر کام کیا گیا اور پھر عکس بندی شروع کی گئی۔ فلم کا ٹریلر دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ اس میں وی ایف ایکس کا بہت زیادہ استعمال کیا گیا ہے، جو تاخیر کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔
ریلیز میں تاخیر پر بات کرتے ہوئے فلم کی پروڈیوسر عمارہ حکمت کا کہنا تھا کہ دسمبر 2018 میں انھوں نے اس فلم کا ٹیزر جاری کیا تھا اور اسے سنہ 2020 میں عیدالفطر پر نمائش کے لیے پیش کرنا تھا مگر ریلیز سے تین ماہ قبل ہی کورونا کی عالمی وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں لاک ڈاؤن ہو گیا اور سنیما بند کر دیے گئے۔
یاد رہے کہ سنہ 1979 میں ریلیز ہونے والی سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی کی فلم ’مولا جٹ‘ جس کے ہدایتکار یونس ملک اور پروڈیوسر سرور بھٹی تھے، پاکستان کی تاریخ کی کامیاب ترین فلموں میں سے ایک ہے۔
یہ فلم کئی برس سنیما میں لگی رہی اور اس کے بعد بھی اس نام سے منسلک کم از کم 3 فلمیں ’مولا جٹ تے نوری نت، مولا جٹ ان لندن، اور شاگرد مولا جٹ دا‘ بنیں۔
یاد رہے کہ ناصر ادیب نے سنہ 1975 میں بھی ایک فلم ’وحشی جٹ‘ لکھی تھی جس میں مکھو اور مولا کے کردار موجود تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’دا لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کے ہدایت کار بلال لاشاری کو امید ہے کہ یہ فلم پاکستانی سنیما کو ایک نئی جہت دے گی جبکہ پروڈیوسر عمارہ حکمت اس فلم کی کامیابی کے لیے بہت پر امید ہیں۔
بلال لاشاری اور عمارہ حکمت کے مطابق جب انھوں نے ’دا لیجنڈ آف مولا جٹ‘ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا اس کا مقصد ہی پاکستانی سنیما کو ماضی سے جوڑتے ہوئے جدید انداز میں نئی جہت دینا تھا۔
فلم کی کاسٹ
فواد خان، حمزہ علی عباسی، ماہرہ خان اور حمیمہ ملک اس فلم میں بالترتیب مولا جٹ، نوری نتھ، مکھو اور دارو کے کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ گوہر رشید مکھا کے کردار میں نظر آئیں گے۔
اس فلم میں علی عظمت، شفقت چیمہ اور نئیر اعجاز بھی شامل ہیں، جو سٹار کاسٹ میں اضافہ کرتے ہیں۔
ہدایت کار بلال لاشاری نے بتایا کہ جب وہ فلم ’وار‘ بنا رہے تھے تو اس وقت انھوں نے فلم مولا جٹ کا حمزہ اور فواد سے ذکر کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اس وقت وہ دونوں اتنے بڑے سٹار نہیں تھے، اس دوران ہی وہ بڑے سٹار بن گئے اور یہ فلم کسی ایک پر نہیں بلکہ تمام کرداروں پر ہے اور تمام اداکار اپنے کرداروں میں ڈھل گئے۔‘
’مولا جٹ صرف پنجابی ہی میں بن سکتی تھی‘
فلم کے پنجابی زبان میں ہونے پر بلال لاشاری کا کہنا تھا کہ انگریزی فلمیں دنیا میں ہر زبان بولنے والا دیکھتا ہے کیونکہ کہانی سنانے کا انداز اور عکس بندی زبان سے ماورا ہو جاتی ہے لیکن یہ فلم مولا جٹ ہے اور ’یہ صرف پنجابی ہی میں بن سکتی تھی۔‘
اس فلم کی پروڈیوسر عمارہ حکمت کے مطابق یہ فلم صرف چینی زبان میں ڈب کر کے چین میں پیش کی جائے گی۔ اس کے علاوہ باقی تمام دنیا میں یہ پنجابی زبان میں ہی پیش کی جائے گی، جس میں اردو اور انگریزی سب ٹائٹل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے
فلم کا ٹریلر
پاکستانی فلم ’دا لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کا ٹریلر سال ہا سال کی محنت کا ثمر محسوس ہوتا ہے۔
زمانہ قدیم کی کہانی، ایک منفرد مگر پر شکوہ ماحول، دو کرداروں کی چپقلش جو دشمنی کی حد پار کر جائے، ایسے میں محبت کی چاشنی میں ڈوبے لمحات، جس میں فواد خان اور ماہرہ ڈرامہ ’ہم سفر‘ کے بعد پہلی مرتبہ ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔
فواد خان اور حمزہ علی عباسی اپنے اپنے کردار میں مکمل ڈھلے ہوئے نظر آئے جبکہ ماہرہ خان کی روایتی سادگی اور حمیمہ ملک کا کٹر روپ اس پر تڑکا ہیں۔
یہ تصوراتی دنیا ہے مگر حقیقت سے بہت قریب تر محسوس ہوتی ہے۔ گنڈاسہ جو پرانا ہتھیار ہے مگر جدت کے ساتھ نظر آتا ہے غرض 1979 کی فلم کو جدید انداز میں تراش کر پیش کیا جارہا ہے۔
یاد رہے کہ ’دا لیجنڈ آف مولاجٹ‘ کے کاپی رائٹ کی وجہ سے بہت شور اٹھا تھا اور سنہ 1979 میں ریلیز ہونے والی ’مولا جٹ‘ کے پروڈیوسر سرور بھٹی نے اعتراض کیا تھا کہ ان کی اجازت نہیں لی گئی کیونکہ ان کے مطابق سنہ 2024 تک اس فلم کے حقوق ان کے پاس ہی ہیں۔
اس ضمن میں سرور بھٹی نے اس فلم پر کیس بھی کر دیا تھا تاہم بعد ازاں عمارہ حِکمت اور سرور بھٹی کے درمیان اس معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کر لیا گیا۔
عمارہ حِکمت کے مطابق اس بارے میں جتنی غلط فہمیاں تھیں، وہ دور ہو گئی ہیں اور سرور بھٹی نے اس فلم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ہے۔