ٹِک ٹاک کا نشہ: نوجوان چاہ کر بھی ایپ ڈیلیٹ کیوں نہیں کر پاتے

،تصویر کا ذریعہEllie Crabbe
- مصنف, جیرڈ ایوٹس
- عہدہ, بی بی سی ویلز
کچھ سٹوڈنٹس نے سوشل میڈیا ویڈیو ایپ ٹک ٹاک کے عادی ہونے اور اپنا بہت سا وقت اس پر صرف کرنے کی وجہ سے اپنے امتحانات کے دوران اس سوشل میڈیا ایپ کو ڈیلیٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔
سائکالوجسٹ کا کہنا ہے کہ شاید ٹک ٹاک پر پرسنلائزڈ ایلگوریتھم نوجوانوں کو اس لت میں مبتلا کرنے کی وجہ ہے۔
ڈاکٹر نیا ولیمز بنگور یونیورسٹی سے منسلک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک ایک لت بنتی جا رہی ہے کیونکہ یہ آپ کے دماغ میں ڈوپیمائن کو ریلیز کرتی ہے اور آپ اچھا محسوس کرنے لگتے ہیں۔
بی بی سی نے اس حوالے سے ٹک ٹاک سے رائے مانگی ہے۔
ایلینور کریبی کی عمر 22 برس ہے اور انھوں نے رواں برس فروری میں ٹک ٹاک کو ڈیلیٹ کیا۔ ایسا انھوں نے اس لیے کیا کیونکہ انھوں نے یہ محسوس کیا کہ کارڈیف یونیورسٹی میں اپنے امتحان کے لیے تیاری کرنے کے بجائے وہ اس ایپ پر بہت زیادہ وقت صرف کر رہی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں ٹک ٹاک کو ڈیلیٹ کر کے کچھ عرصے میں دوبارہ سے انسٹال کر لیتی ہوں کیونکہ میں نے یہ نوٹس کیا ہے کہ میں اس پر بہت زیادہ وقت لگاتی ہوں اور میں اس کی بہت عادی ہو گئی تھی۔‘
وہ کہتی ہیں کہ میں اسے پھر سے ڈاؤن لوڈ کر لیتی ہوں، میں الگوریتھم رکھنے کی کوشش کرتی ہوں تاکہ مجھے صرف ہنسی مذاق کا مواد دکھایا جائے، لیکن میں ہمیشہ جا کر فٹنس اور فیشن کے مواد پر رکتی ہوں، میں اس سے محظوظ ہوتی ہوں لیکن مجھے معلوم ہے کہ جب میں وہ دیکھ رہی ہوں تو میں انھیں لوگوں کی طرح بننا چاہتی ہوں۔

،تصویر کا ذریعہEllie Crabbe
وہ کہتی ہیں کہ مجھے ٹک ٹاک بہت پسند ہے، اس میں بہت ہی مزاحیہ چیزیں ہوتی ہیں، اس میں اور بھی بہت سا مواد ہوتا ہے جس کی وجہ میں بہت سی چیزیں خریدنے یا خاص اندر میں سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہوں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتی ہیں میں وہ انسان نہیں جو کہ اپنی ڈائٹ اور فٹنس کے لیے کوشش کرے مگر جب میں وہ سب دیکھی ہوں تو میں محسوس کرتی ہوں کہ مجھے بہتر کھانے اور زیادہ ورزش کرنے کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیے
ایڈ بارنس کی عمر 24 برس ہے اور انھوں نے ٹک ٹاک کو اس لیے ڈیلیٹ کر دیا کیونکہ وہ اپنے امتحانات اور مقالے پر توجہ دینا چاہتے تھے لیکن اس ایپ کو ڈیلیٹ کرنے کے بعد انھیں واپس اس کی جانب لوٹنے کی خواہش نہیں ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہEd Barnes
کارڈیف یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ ایڈ کہتے ہیں کہ میں ہمیشہ پر سوشل میڈیا ایپ کو پسند کرتا رہا ہوں اور ٹک ٹاک سے دور رہنا سب سے زیادہ مشکل لگتا تھا۔
آپ کو ٹائم بیتنے کا پتہ ہی نہیں چلتا کیونکہ ہر ویڈیو ایک دوسرے سے بہت مختلف ہوتی ہے اور ان ویڈیوز کو دیکھتے رہنا قدرے آسان ہوتا ہے۔
پھر جب اپ گھڑی کی جانب دیکھتے ہیں تو اپ کو پتہ چلتا ہے کہ دو منٹ کے بجائے ایک گھنٹہ گزر چکا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’سچ کہوں تو جب سے ایپ ڈیلیٹ کی ہے تو میرا دل نہیں کیا کہ دوبارہ اسے دیکھوں۔‘
ٹک ٹاک کی لت کیوں لگ جاتی ہے؟
ڈاکٹر ولیمز ایک لیکچرر اور ریسرچر ہیں، انھوں نے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کے شعبے میں سپیشلائزیشن کر رکھی ہے وہ بتاتی ہیں کہ ٹک ٹاک کیوں اتنا معروف ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ چوکہ ٹک ٹاک کی ویڈیوز چھوٹی اور مزے دار ہوتی ہیں اس لیے ایک کے بعد دوسری ویڈیو اپ کی توجہ حاصل کر لیتی ہے۔
تو اس کی لت ایسے لگتی ہے کہ جب ہمیں کوئی چیز دیکھ کر اچھا محسوس ہوتا ہے ہمارے دماغ میں ڈوپامائن ریلیز ہوتی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ مزید مواد دیکھیں۔
ٹک ٹاک کی ویڈیوز آپ کو شاید مذاحیہ لگتی ہیں اور آپ انھیں دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ آپ کو اچھا لگتا ہے۔ اور یہی ہر چیز کی لت میں مبتلا ہونے کی وجہ ہوتی ہے کہ وہ آپ کو اچھی لگ رہی ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہNia Williams
اس کے ساتھ ڈاکٹر ولیمز کا یہ بھی کہنا ہے کہ پرسنلائزڈ الگوریتھم کی وجہ سے ٹک ٹاک صارفین کو پھر وہ ویڈیوز دکھاتا ہے جو وہ دیکھنا پسند کرتا ہے یا وہ ان میں دلچسپی ظاہر کرتا ہے۔
جب بھی آپ ٹک ٹاک پر کچھ سرچ کرتے ہیں تو پھر اس کا الگوریتھم بن جاتا ہے، پھر جب آپ اپنی پسند کی چیزوں کو زیادہ سرچ کرتے ہیں تو یہ ریکارڈ میں آ جاتا ہے اور پھر وہ آپ کی فیڈ میں آ جاتا ہے۔
یہ کھربوں پاؤنڈ کی انڈسٹری ہے اور یہ اشتہارات سے پیسہ بناتی ہے جنھیں مختلف الگوریتھم میں فیڈ کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر ولیمز کہتے ہیں کہ اشتہارات اسی طریقے سے سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمز جیسے کہ فیس بک وغیرہ پر چلائے جاتے ہیں۔ یہ آپ کی جانب سی کی جانے والی سرچ کا ریکارڈ رکھتے ہیں اور پھر آپ کو مخصوص اشتہارات دکھاتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ یہ آپ کی سرچ کا ڈیٹا مسلسل اٹھاتے ہیں اور جتنا زیادہ آپ سرچ کرتے ہیں اسے استعمال کرتے ہیں یہ آپ کے لیے اتنا ہی زیادہ نفیس اور پرکشش ہوتا جاتا ہے۔
یہ بہت ہی تیز ہوتا ہے اور فائدہ مند بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ تباہ کن بھی ہو سکتا ہے کیونکہ یہ آپ کو سوشل میڈیا کی لت میں مبتلا کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر فلیمز نے سوشل میڈیا کے ذہن پر پڑنے والے اثرات پر بھی بات کی ہے۔
انسٹا گرام پر اس حوالے سے بہت سی تحقیقات ہوئی ہیں اور اس پر بھی کہ یہ نوجوان لڑکیوں کی خود اعتمادی پر کس طرح منفی انداز میں اثر انداز ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ کسی خاص شخص کی مانند دکھائی دینا چاہتی ہیں یا پھر وہ اس آن لائن فلٹر شدہ دنیا میں رہنا چاہتی ہیں۔
ظاہر سی بات ہے کہ فلٹر وہ تو نہیں جو ہم شیشے میں دیکھتے ہیں، اس لیے یقینی طور پر اس کا لوگوں پر منفی اثر ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر نیا ولیمز کے ساتھ سوال و جواب
مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ میں ٹِک ٹاک کی لت میں مبتلا ہوں؟
اگر یہ آپ کو روز مرہ کے کام نہ کرنے دے۔ اگر آپ ضرورت محسوس کریں یا دل کرے کہ دوبارہ ایپ کھولیں تو اس وقت آپ کو خود سے پوچھنے کی ضرورت ہے کہ میں اس ایپ پر کتنا وقت لگا رہا ہوں۔
کیا یہ آپ کو پڑھائی یا اپنے دیگر کام کرنے سے روک رہی ہے۔
مجھے کیا کرنا چاہیے؟
کوشش کریں کہ اپنے فون کو دور رکھیں، شروعات میں ایک گھنٹے کے لیے ایک دن میں ایسے کریں اور پھر اسے بڑھاتے رہیں۔
ایپ ڈیلیٹ کر دیں چاہے ایک ہفتے یا دو یا ایک مہینے کے لیے بھی۔ بریک لیں وقفہ لیں تاکہ آپ کو اندازہ ہو کہ آپ کا کتنا وقت اس پر بیت جاتا ہے۔
’آپ کا فون آپ کے کنٹرول میں ہونا چاہیے، خود کو فون کے کنٹرول میں نہ جانے دیں۔‘

کیھترین کینان نیو پورٹ کی رہنے والی ہیں اور ان کے فالورز کی تعداد 23 لاکھ ہے اور وہ نہیں سمجھتی کہ طالبعلوں کو ایپ کو ہی ڈیلیٹ کر دینا چاہیے لیکن انھیں ایک دن میں ایک گھنٹے کے لیے اس کی اجازت ہونی چاہیے۔
وہ کہتی ہیں کہ ٹک ٹاک بہت طرح سے فائدہ مند بھی ہے یہاں تک کہ آپ کو ٹک ٹاک پر کام کی باتیں بھی پتہ چلتی ہیں جیسے کہ امتحانوں کے سٹریس یا دباؤ کیسے نمٹیں۔

،تصویر کا ذریعہCat Keenan
کیھترین کہتی ہیں کہ جس قدر امتحان اہم ہیں اسی طرح ذہنی صحت بھی ضروری ہے اور مجھے معلوم ہے کہ میرے بہت سے فالورز اپنے برے دنوں یا جب وہ پریشان ہوں تو میرے ٹک ٹاک پر شیئر کیے جانے والے مواد کو دیکھ کر میرے شکرگزار ہوتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ٹک ٹاک آپ کو کامیاب بھی بنا سکتا ہے، اس لیے اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا آپ کے لیے ہے تو یہ آپ کے ٹیلنٹ کے مظاہرے کے لیے کامیابی کی جانب پہلا قدم ہے۔












