’آمدن کے ساتھ عوامی مقبولیت‘: انڈیا میں مسلمان مخالف نفرت آمیز موسیقی کیوں بن رہی ہے؟

Sandeep Chaturvedi
،تصویر کا کیپشنچترویدی نے مذہبی گیت گانے سے کرئیر کا آغاز کیا
    • مصنف, راگھوندرا راؤ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز ، دہلی

انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیا کے ایک عارضی سٹوڈیو میں 26 سالہ سندیپ چترویدی اپنا نیا گانا ریکارڈ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ گانا ایک ایسی مسجد کے بارے میں ہے جو ہندوؤں کی جانب سے وہاں عبادت کرنے کے حق کے دعوے کے بعد تنازعے کا شکار ہو گئی ہے۔ اس گانے میں مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کی گئی ہے، لیکن چترویدی کا کہنا ہے کہ یہ گانا انھیں دوبارہ مشہور کر سکتا ہے۔

چترویدی کے گانے یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موسیقی کے بڑھتے ہوئے اس رجحان کا حصہ ہیں جس میں ہندو دائیں بازو کے حامی مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز زبان استعمال کرتے ہیں۔

ان گانوں کے بول بدکلامی پر مبنی اور دھمکی آمیز ہوتے ہیں۔ ان گانوں میں عام طور پر یہ خیالات ہوتے ہیں کہ ہندوؤں نے صدیوں سے مسلمانوں کے ہاتھوں نقصان اٹھایا ہے اور اب ’بدلے کا وقت‘ ہے۔

مصنف اور سیاسی تجزیہ کار نیلنجن مکوپادھیائے کا کہنا ہے کہ آمدنی کا ذریعہ ہونے کے علاوہ، اس طرح کی موسیقی ان طرح کے گلوکاروں کو کچھ توجہ حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ لیکن ان کی نظر میں یہ موسیقی نہیں ہے۔ ’یہ ایک جنگ کا اعلان ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے جنگ جیتنے کے لیے موسیقی کا استعمال کیا جا رہا ہو۔ یہ موسیقی کا غلط استعمال ہے اور یہ برسوں سے ہو رہا ہے۔‘

Hate music
،تصویر کا کیپشنچترویدی کا اپنا ایک سٹوڈیو ہے

چترویدی نے اپنے کریئر کا آغاز تقریباً ایک دہائی قبل بھکت گیتوں (مذہبی ترانے اور گیت) کے گلوکار کے طور پر کیا تھا، لیکن چند سال بعد جب انھوں نے ’ہندو ازم اور قوم پرستی‘ کے بارے میں گانے لکھنے کا فیصلہ کیا تو انھوں نے اپنا انداز بدل لیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کا مقصد اپنی شبیہ بدلنا تھا۔

اس وقت گویا ان کا جیک پاٹ لگ گیا جب \نہ 2016 میں ان کی تیار کردہ ایک میوزک ویڈیو دائیں بازو کے ہندو قوم پرستوں میں راتوں رات ایک سنسنی بن گئی۔

اس گانے کے بول استعال انگیز ہونے کی وجہ سے تحریر نہیں کیے جا سکتے لیکن گانے کا لہجہ سپاٹ تھا، مسلم کمیونٹی کے لیے ایک انتباہ تھا کہ جس دن ہندو قوم پرستی عروج پر ہو گی تو کیا ہو گا۔

چترویدی کا کہنا ہے کہ اس گانے کو یوٹیوب پر لاکھوں مرتبہ دیکھا گیا تھا تاہم بعد میں ہزاروں شکایات کے بعد اُن کا چینل معطل کر دیا گیا۔ انھوں نے الزام لگایا کہ مسلمانوں نے ان کے گانے کو ایک نامناسب مواد کے طور پر رپورٹ کیا تھا۔

انھیں ’لاکھوں سبسکرائبرز‘ سے محروم ہونے کا افسوس ہے، لیکن انھوں نے یوٹیوب سے کمائی جانے والی رقم ظاہر کرنے سے انکار کیا ہے۔ ان کے بقول ایک میوزک ویڈیو بنانے پر ان کے تقریباً بیس ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں۔

’میں یوٹیوب سے زیادہ پیسہ نہیں کما رہا تھا۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مجھے ایک قوم پرست، انقلابی گلوکار کے طور پر پہچان ملی۔‘

چترویدی نے اس کے بعد یوٹیوب پر ایک نیا چینل بنایا۔ لیکن ان کے اپ لوڈ کیے جانے والے مواد پر زیادہ ویوز نہیں ملے۔ انھیں امید ہے کہ وہ اپنے نئے گانے سے صورتحال تبدیل کر لیں گے۔

ان پر موسیقی کے ذریعے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا اکثر الزام لگایا جاتا ہے، تاہم چترویدی اس پر شرمندہ نہیں ہیں۔ ’اگر میں ہاتھ جوڑ کر التجا کروں کہ جو میرا ہے مجھے دے دو تو کیا آپ مان جائیں گے؟ آپ نہیں مانیں گے۔ تو ہمیں مشتعل ہونا پڑے گا، کیا ہم نہیں ہوں گے؟‘

اوپیندر رانا ایک اور تخلیق کار ہیں جو دہلی کے قریب دادری میں اسی طرح کی موسیقی بناتے ہیں۔

ان کا مشن تاریخ کو ’درست‘ کرنا ہے اور ان کے گانوں میں ہندو جنگجوؤں کی تعریفیں ہیں اور مسلمان حکمرانوں کو ولن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

انھوں نے سکولوں میں پڑھائی جانے والی تاریخ کے بارے میں بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’بہت سی چیزیں جو سچ ہیں چھپائی گئی ہیں جب کہ جھوٹ کو ہم پر مسلط کیا گیا ہے۔‘

Hate music
،تصویر کا کیپشنرانا کے یوٹیوب پر ہزاروں فالورز ہیں

رانا کا کہنا ہے کہ انھیں یوٹیوب پر اپ لوڈ کی جانے والی ویڈیوز سے مستقل آمدن ہوتی رہتی ہے۔

’ہم انڈیا میں غیر ملکی کرنسی لا رہے ہیں۔ یوٹیوب ڈالرز میں ادائیگی کرتا ہے۔‘ یہ بات کرتے ہوئے انھوں نے دیوار پر ہندؤ جنگجوؤں کی تصاویر کے درمیان لگا اپنا یوٹیوب سلور بٹن دکھایا۔

جب سے رانا عقیدت مندانہ اور رومانوی گیت لکھنے سے ’تاریخی‘ نغموں کی طرف آئے ہیں، وہ دادری میں ایک سٹار بن گئے ہیں۔ یوٹیوب پر ان کے چار لاکھ کے قریب سبسکرائبرز ہیں اور ان کے کئی گانوں کو لاکھوں بار دیکھا جا چکا ہے۔

رانا کا کہنا ہے کہ ایک میوزک ویڈیو بنانے پر ان کا محض آٹھ ہزار روپے تک کا خرچہ آتا ہے۔ ویڈیوز کو ریکارڈ اور ایڈٹ کرنے کے لیے ان کا اپنا سیٹ اپ ہے اور کیمرہ پرسن اور ایڈیٹر پر مشتمل ایک ٹیم ہے۔

سیاسی تجزیہ کار نیلنجن مکوپادھیائے کا کہنا ہے کہ اقلیتوں کے خلاف موسیقی کو ہتھیار بنانے کا رجحان ماضی میں پیش آنے والے واقعات کی یاد دلاتا ہے۔ انھوں نے 1989 میں ایودھیا میں سنگ بنیاد رکھنے کے متنازع پروگرام کا حوالہ دیا جس کا اہتمام دائیں بازو کی وشو ہندو پریشد نے کیا تھا اور یہ سب 1992 میں بابری مسجد کے انہدام پر منتج ہوا۔

’اس سے ٹھیک پہلے، آڈیو ٹیپوں کی ایک صنعت نے جنم لیا تھا۔ ان میں مذہبی گیت اور رام جنم بھومی معاملے سے متعلق نام نہاد اشتعال انگیز نعرے تھے، (ہندووں کا ماننا ہے کہ ایودھیا بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے) اور یہ ٹیپ جلوسوں میں چلائی جاتی تھیں تاکہ لوگوں کو تحریک دی جا سکے۔‘

تین دہائیوں بعد لہجے میں مزید کرختگی آ گئی ہے۔

ان گیتوں میں کہا جاتا ہے کہ ’اگر آپ انڈیا میں رہنا چاہتے ہیں تو، وندے ماترم کہنا سیکھیں۔۔۔ اور اپنی حدود میں رہنا سیکھیں، یا ’ہندوؤں کو کمزور سمجھنا دشمن کی غلطی ہے‘ اور یہ چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی جاتی کہ وہ کس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ان گانوں نے دائیں بازو کی تنظیموں کو اپنے کارکنوں کو ’متحرک‘ کرنے میں بھی مدد کی ہے۔

Hate music
،تصویر کا کیپشنایسے قوم پرست گانے نوجوانوں میں کافی مقبول ہیں

دائیں بازو کے ہندو رکشا دل گروپ کے سربراہ پنکی چودھری کہتے ہیں،’نوجوانوں کو یہ گانے پسند ہیں کیونکہ یہ اُن کا جوش اور حوصلہ بڑھاتے ہیں۔‘ اُن کا کہنا ہے کہ ایسے گانے نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

انڈیا کی نیشنل اکیڈمی آف فائن آرٹس للت کلا اکیڈمی میں تعلیم حاصل کرنے والے ایک سکیچ آرٹسٹ 23 سالہ وجے یادو کہتے ہیں کہ وہ اس قسم کی موسیقی سُننا پسند کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

وجے یادیو کہتے ہیں، ’جب میں اِن گانوں کو سُنتا ہوں تو مجھے اچانک اپنے اندر بے تحاشا توانائی محسوس ہوتی ہے۔ وہ مجھے ان چیزوں کی یاد دلاتے ہیں جن کا ہم ایک وقت میں شکار ہوئے تھے اور اب ہم کہاں پہنچ چکے ہیں۔‘

جس ’توانائی‘ کی بات یادو کر رہے ہیں وہ اپریل میں دکھائی دی جب ہندو تہواروں کے دوران کئی ریاستوں سے پرتشدد جھڑپوں کی اطلاعات ملی تھیں۔

ان واقعات کے دوران لاؤڈ سپیکر پر جارحانہ موسیقی بجائی جاتی جب ہندو مذہبی جلوس نکالتے ہوئے مسلم اکثریتی علاقوں کے قریب جاتے تھے۔

ان میں سے کچھ جھڑپوں کے دوران اشتعال انگیز گانوں نے جن میں چترویدی کی 2016 کی کمپوزیشن بھی شامل تھی تشدد کو بھڑکانے میں مبینہ طور پر اہم کردار ادا کیا تھا۔

چترویدی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

’میں صرف اپنی موسیقی کے ذریعے بیداری پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ محبت سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ہمیں لڑنا ہے اور جو ہمارا ہے اسے چھیننا ہے۔‘