بیلی سارین: وہ یوٹیوبر جو میک اپ کے ساتھ جرائم کی کہانیاں سُنا کر لاکھوں کما رہی ہیں

بیلی سارین

،تصویر کا ذریعہBAILEY SARIAN

،تصویر کا کیپشنبیلی سارین کے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے والے 60 لاکھ سے زیادہ لوگ ہیں

کچھ لوگوں کے لیے ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یو ٹیوب پر میک اپ کی ٹیٹوریل ویڈیوز (یعنی دیکھنے والوں کو سکھانا کہ میک اپ کیسے کیا جائے) پوسٹ کرنا اپنے مصروف ترین دن میں چند فرصت کے لمحات کو پرسکون انداز میں انجوائے کرنے سے بہتر کچھ نہیں۔

پھر کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو ایسی میک اپ ویڈیوز کو پسند کرتے ہیں جن میں میک اپ کے ساتھ ساتھ بدمعاش قاتلوں اور جرائم کی کہانیوں کا مرچ مصالحہ بھی شامل ہوتا ہے۔

یہ باتیں عجیب لگ رہی ہیں ناں؟

مگر یہ باتیں امریکی شہر لاس اینجلس میں مقیم بیلی سارین کے لیے درست ہیں جن کے یوٹیوب پر 64 لاکھ سبسکرائبرز ہیں اور جو ایک میک اپ آرٹسٹ سے حقیقی جرائم کی ماہر بن گئی ہیں۔

اُن کی یوٹیوب ویڈیوز دو بالکل متضاد مضامین کو یکجا کرتی ہیں۔ ان کی یوٹیوب سیریز کا نام ’مرڈر، مسٹری اینڈ میک اپ‘ ہے۔ جو کام انھوں نے شوقیہ شروع کیا تھا وہ اب ایک کُل وقتی کیریئر میں بدل گیا ہے اور انھیں دوسری چیزوں کے ساتھ بڑی امریکی سٹریمنگ کمپنی ’نیٹ فلکس‘ کے ساتھ کام کرنے کی پیشکش بھی ہوئی ہے۔

33 سالہ بیلی خود حیران ہیں کہ یوٹیوب اور حقیقی جرم کی کہانیاں اُن کا روزمرہ کا کام بن گئی ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں نے سوچا کہ یہ بہت اچھا ہو گا کہ میں یوٹیوب سے پیسے کما کر اپنے کچھ بل ادا کر سکوں گی۔‘

’اب میرے 60 لاکھ سے زیادہ سبسکرائبرز ہیں، جو کہ بہت زیادہ ہیں۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ سلسلہ اتنا بڑا ہو جائے گا جتنا آج ہے۔‘

اُن کے ویڈیوز دیکھنے میں انتہائی سہل ہیں۔ اپنی ویڈیو میں سارین کیمرے کے سامنے بیٹھتی ہیں اور پھر میک اپ کرتے ہوئے جرائم سے متعلق سچے واقعات کے بارے میں باتیں کرتی ہیں۔

ہر ویڈیو بنانے سے قبل انھیں کافی تحقیق کرنی پڑتی ہے۔ اتنی تحقیق کرنی ہوتی ہے کہ اب انھوں نے اس کام میں مدد کے لیے ایک شخص کو تنخواہ پر رکھ لیا ہے۔ اس تحقیق میں وہ ملزم اور متاثرہ افراد کے عدالت میں دیے گئے بیانات اور پولیس انٹرویز پر مبنی معلومات پر تحقیق کرتی ہیں۔

اس سیریز کا سب سے مقبول ویڈیو امریکہ کے بدنام زمانہ سیریل کلر جیفری ڈہمر کی داستان پر مبنی ہے۔ سنہ 1978 اور 1991 کے درمیان جیفری ڈہمر نے 17 مردوں اور لڑکوں کا قتل کیا تھا۔

جیفری ڈہمر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجیفری ڈہمر کے جرائم پر مبنی بیلی سارین کی ویڈیو کو سب سے زیادہ بار دیکھا گيا ہے

اس ویڈیو میں سارین پلکوں پر ستارے لگانے کا میک اپ کرتے ہوئے اور بغیر میک اپ والے ہونٹوں کے ساتھ جیفری کے جرائم کی کہانیاں سناتی ہیں۔

ان کی یہ ویڈیو اتنی زیادہ ہٹ ہوئی کہ اسے اب تک سوا دو کروڑ بار دیکھا جا چکا ہے۔ بس تقابل کے طور پر بتا دیں کہ معروف ٹی وی ڈرامہ ’لائن آف ڈیوٹی‘ کے فائنل کو برطانیہ میں ریکارڈ تقریباً 13 کروڑ لوگوں نے دیکھا تھا۔ اب تک سارین کی یوٹیوب ویڈیوز کو مجموعی طور پر 80 کروڑ سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔

لیکن ایسا کیونکر ممکن ہو پایا؟ سارین کو بھی اس کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔ وہ کہتی ہیں ’سچ پوچھیں تو میں ابھی تک یہ نہیں سمجھ پائی ہوں کہ آخر لوگ میک اپ کی یہ جہت کیوں پسند کرتے ہیں۔‘

مزے کی بات یہ ہے کہ ان کی جانب سے اس قسم کی ویڈیوز پوسٹ کرنے کا سلسلہ اچانک شروع ہو گیا تھا۔

تقریباً تین سال پہلے تک سارین اپنے یوٹیوب چینل پر صرف بیوٹی ٹیوٹوریل پوسٹ کرتی تھیں۔ انھوں نے اپنا یوٹیوب چینل سنہ 2013 میں شروع کیا تھا۔

بطور پروفیشنل میک اپ آرٹسٹ کام کے ساتھ وہ اپنا یوٹیوب چینل کو چلا رہی تھیں۔

بیوٹی سبسکرپشن کمپنی ’اپسی‘ کے ساتھ معاہدے کے بعد سارین اپنی کمائی کے لیے یوٹیوب چینل پر زیادہ انحصار کرنے لگیں، حالانکہ اس دوران وہ کبھی کبھی فری لانسر کے طور پر بھی کام کرتی تھیں۔

اس کے بعد سنہ 2018 میں کولوراڈو کے ایک شخص کرس واٹس کے بارے میں خبر آئی جسے اپنی حاملہ بیوی شنان اور دو چھوٹی بچیوں بیلا اور سیلسٹے کو قتل کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ یہ ایک دل دہلا دینے والا جرم تھا جسے دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے کور کیا، لیکن سارین یہ جاننا چاہتی تھیں کہ کوئی شخص جو پرفیکٹ شوہر کی طرح نظر آتا تھا اپنے پورے خاندان کو کیسے مار ڈالتا ہے۔

وہ یقینی طور پر اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے گھبرا رہی تھی۔ یقینا، آن لائن ٹرول کوئی مذاق نہیں۔ بہر حال اس کا سامنا کرنے کے لیے انھوں نے وہی کیا جو وہ ہمیشہ کرتی رہی تھیں یعنی اس کہانی کے بیان کے دوران وہ میک اپ کرتی رہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’میں یہ صرف اس لیے کر رہی تھی کہ مجھے کیمرے کے سامنے اس کے بارے میں بات کرنا عجیب لگ رہا تھا اور میں اس دوران خود کو مصروف رکھنا چاہتی تھی۔‘

بیلی سارین

،تصویر کا ذریعہBAILEY SARIAN

،تصویر کا کیپشنبیلی سارین کا کہنا ہے کہ وہ کہانی سنانے کے دوران میک اپ اس لیے کرتی ہیں تاکہ عجیب نہ لگیں

اس کے باوجود وہ اس ویڈیو کے ردعمل سے خوفزدہ تھیں کیونکہ اُن کے مطابق ’میں میک اپ کر رہی تھی اور اس خوفناک جرم کے بارے میں بات کر رہی تھی۔‘

بہر حال یہ ویڈیو پوسٹ کرنے کے 24 گھنٹوں کے اندر ہی انھیں اندازہ ہو گيا تھا کہ کچھ مختلف ہو رہا ہے کیونکہ اُن کی ویڈیوز کو دیکھنے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ آخر کار اس ویڈیو پر ویوز کی تعداد ایک کروڑ سے بڑھ گئی۔

انھوں نے کہا: ’تو میں نے سوچا کہ مجھے ایک اور کہانی کے ساتھ وہی چیز دوبارہ آزمانی چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ آیا یہ کام کرتا ہے۔ اور اس نے کام کیا۔ اور یہ سلسلہ چل نکلا، پھر ہر ہفتے میرے سبسکرائبرز کی تعداد بڑھتی گئی۔‘

برطانیہ میں جرائم کے معاملات پر کام کرنے والی فرانزک سائیکولوجیکل کنسلٹنٹ ڈاکٹر روتھ ٹولی کہتی ہیں کہ اس طرح کی دو چیزوں کو ملا کر مواد بنانا کام کرتا ہے کیونکہ ہم میں سے بہت سے لوگ اس طرح کا مواد دیکھنا پسند کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ہماری ایک آنکھ تو ٹیلی ویژن پر ہے لیکن دوسری نظر فون یا ٹیبلیٹ پر ہے، یعنی آج ہم ملٹی سکریننگ کے عادی ہو چکے ہیں۔

دراصل وہ اس جرم کے بارے میں بات کر رہی ہے جس کے بارے میں ہم سوچ رہے ہیں اور اس گھناؤنے جرم کی کہانی کے دوران ایسے مناظر ہیں جو خوفناک نہیں ہیں بلکہ کسی حد تک ہپنوٹک یا سحر انگیز ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایک سنیپ شاٹ کے مطابق جنوری سے جون 2020 کے درمیان، یوٹیوب پر جرائم سے متعلق حقیقی مواد دیکھنے والوں میں 60 فیصد خواتین تھیں۔ سارین کا کہنا ہے کہ اُن کی ویڈیوز زیادہ تر خواتین دیکھتی ہیں، اُن میں سے زیادہ تر 25-35 سال کی عمر کے گروپ میں ہیں اور دوسرے نمبر پر صرف 18-25 سال کی عمر کے گروپ والے ہیں۔

ڈاکٹر ٹلی کہتی ہیں کہ ’اگر خواتین اس طرح کے مواد کو دیکھنے کا انتخاب کر رہی ہیں تو اس کی وجوہات بھی ہیں۔ اس کی ایک وجہ کچھ حد تک یہ بھی ہے کہ اسے دیکھ کر وہ یہ سمجھنا چاہتی ہیں کہ وہ خود کو ایسے جرائم سے کیسے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔ خواتین کی موجودہ نظام پر اعتماد میں کمی بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔‘

جبکہ سارین کہتی ہیں کہ ’جب میں کسی چیز کے بارے میں خوفزدہ ہوتی ہوں، میں اسے جاننے کی کوشش کرتی ہوں، اس سے پریشانی کم ہوتی ہے۔ کم از کم اسی لیے میں اس میں بہت زیادہ دلچسپی لیتی ہوں۔‘

کرس واٹ نے اپنی بیوی اور بچوں کو قتل کیا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکرس واٹ نے اپنی بیوی اور بچوں کو قتل کیا تھا

کووڈ کے وبائی مرض نے بھی اُن کے صارفین کو بڑھانے میں مدد کی کیونکہ لوگ لاک ڈاؤن کے دوران اپنا وقت گزارنے کے لیے ٹی وی سیریز، فلمیں اور کچھ بھی دیکھ رہے تھے۔ جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مارچ 2020 میں قومی ایمرجنسی کا اعلان کیا تو سارین کے صرف 780,000 سبسکرائبرز تھے۔ لیکن اُسی سال کے آخر تک ان کے 35 لاکھ سبسکرائبرز ہو چکے تھے۔

سارین کہتی ہیں کہ اس وقت ’لوگوں کے پاس کچھ بھی دیکھنے کے لیے نہیں تھا۔ تب سب یوٹیوب دیکھ رہے تھے اور پھر لوگ میرے چینل تک پہنچے۔ لوگوں نے میری تمام ویڈیوز کو دیکھنا شروع کیا۔ پھر مجھے لوگوں کے بہت سے پیغامات آئے جس میں انھوں نے کہا ’قرنطینہ میں آپ نے میرا دل جیت لیا۔‘

اس سے ان کے کیرئیر کو وسعت ملی۔ سارین کا کہنا ہے کہ اب وہ آڈیو بوم کے ساتھ ایوارڈ یافتہ پاڈکاسٹ اور ویڈیو سیریز ’ڈارک ہسٹری‘ پر کام کر رہی ہیں۔ اس میں جرائم پر مبنی کئی سنسنی خیز اقساط بھی شامل ہیں۔

اُن کا نیٹ فلکس کے ساتھ بھی معاہدہ ہوا ہے جس میں وہ ایک فلم دیکھتی ہیں اور یہ جانچ کرتی ہیں کہ کس نے کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں یہ کام اس لیے ملا ہے کہ اس کمپنی کے کس شخص نے میرے چینل کو دیکھا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ جب سے ان کا چینل دیکھا جا رہا ہے تب سے ان کی ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔

درحقیقت کچھ معاملات میں اُن سے جڑے لوگوں نے ان سے رابطہ بھی کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمیشہ زبردست ردعمل سامنے آئے ہیں جو لوگ ویڈیوز میں شامل کروانا چاہتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر جرم سے متعلق کسی بھی شخص کو ان کی ویڈیو سے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ان سے کوئی سوال کیے بغیر اس ویڈیو کو ہٹا دیتی ہیں۔

تو اب آگے کیا ارادے ہیں؟ سارین کا کہنا ہے کہ ایک اور ڈارک ہسٹری سیریز 3 اگست سے شروع ہو رہی ہے اور جس میں وہ اپنی سیریز کو ایک بڑے پلیٹ فارم پر پیش کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔

لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتی ہیں: ’لیکن میں اس کے بارے میں ایمانداری کے ساتھ پُر اعتماد نہیں۔ میں نے بس کمر کس لی ہے اور یہ کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘