مکیش: انڈیا کا ’پہلا عالمی گلوکار‘ جس کے گیت دنیا کے کئی ممالک میں آج بھی دھوم مچا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہPUBLICATION DEPARTMENT, GOV. OF INDIA
- مصنف, پردیپ سردھانا
- عہدہ, صحافی، انڈیا
انڈیا کے سدا بہار اور دل آویز آواز کے مالک گلوکار مکیش کا یہ صد سالہ سال پیدائش ہے۔ 22 جولائی سنہ 1923 کو دہلی میں پیدا ہونے والے مکیش نے اپنی میٹھی اور منفرد آواز سے فلمی موسیقی کو ایک نئی بلندی عطا کی۔
معروف فلم ساز راج کپور کی سنہ 1951 میں ریلیز ہونے والی فلم 'آوارہ' کا گیت 'آوارہ ہوں۔۔۔' جسے مکیش نے اپنی آواز دی تھی وہ انڈیا کا پہلا ایسا گیت تھا جس نے جغرافیائی سرحدوں کا عبور کر دنیا کے کئی ممالک میں دھوم مچا دی تھی۔
روس میں یہ گیت آج بھی اتنا مقبول ہے کہ وہاں پہنچنے والے انڈین سیاحوں کو دیکھ کر بہت سے روسی شہری ’آوارہ ہوں، آوارہ ہوں...‘ گانا شروع کر دیتے ہیں۔
مکیش کے بیٹے اور معروف گلوکار نتن مکیش کا کہنا ہے کہ ’آوارہ ہوں‘ دنیا کے مقبول ترین گانوں میں سے ایک ہے، روس، چین، ترکی، ازبکستان اور یونان سمیت 15 ممالک ایسے ہیں جہاں اس گیت کا اپنی اپنی زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ آج بھی ان ممالک میں یہ گیت اتنے ہی شوق سے سنا جاتا ہے جتنا برسوں پہلے سنا جاتا تھا۔
کئی سالوں سے ماسکو میں مقیم اور شیلندر جیسے نغمہ نگار پر دو کتابیں لکھنے والے انڈیا کے اندراجیت سنگھ بتاتے ہیں: ’آج بھی روس میں ٹیکسی ڈرائیور جب اپنی ٹیکسی میں بیٹھتا ہے تو میٹھی میٹھی مسکراہٹ کے ساتھ 'آوارہ ہوں' گنگنانا شروع کر دیتا ہے۔ اس کے ذریعے وہ یہ دکھانا چاہتا ہے کہ اس کے دل میں انڈینز کے لیے بے پناہ محبت ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ انڈیا کی فلمی موسیقی کو بھی بہت اچھی طرح سمجھتا ہے۔‘
گیت کم لیکن مقبولیت کم نہیں
مکیش نے اپنے 35 سالہ کیریئر میں فلموں کے لیے تقریباً 900 گانے گائے۔ لیکن ان کے مقبول گانوں کی تعداد اتنی ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ مکیش نے کئی ہزار گانے گائے ہوں۔
کشور کمار اور محمد رفیع کے گانوں کی تعداد ان سے کہیں زیادہ ہے لیکن مکیش مقبولیت میں کسی سے کم نہیں ہیں۔
'میرا جوتا ہے جاپانی'، 'ہم نے سب کچھ سیکھا، نہ سیکھی ہوشیاری'، 'بول رادھا بول'، 'چاند سی محبوبہ ہو میری'، 'چندن سا بدن'، 'سجن رے جھوٹ نہ بولو'، 'سہانی چاندنی راتیں' اور 'چل اکیلا، چل اکیلا' جیسے کتنے ہی گیت مکیش کے آواز کی جادوگری کے غماز ہیں اور ان کی منفرد پہچان ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اور پھر ’کئی بار یوں ہی دیکھا ہے'، 'نین ہمارے'، 'ڈم ڈم ڈیگا ڈیگا'، 'رک جا او جانے والی رک جا'، 'سہانا سفر اور یہ موسم حسیں'، 'چاندی کی دیوار ناں توڑی، پیار بھرا دل توڑ دیا'، 'کہیں دور جب دن ڈھل جائے' جیسے گانے کون بھول سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہJH THAKKER VIMAL THAKKER
'انڈیا کا پہلا عالمی گلوکار'
مکیش زوراور چند ماتھر اور چاند رانی کی چھٹی اولاد تھے۔ ان کے والدین ہریانہ کے حصار سے نقل مکانی کر کے دہلی آ گئے تھے۔
جب وہ پیدا ہوئے تو کون جانتا تھا کہ خاندان کے دس بچوں میں مکیش پورے خاندان کا نام اس طرح روشن کریں گے کہ انھیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی پیدائش کے اس صد سالہ سال میں ملک اور بیرون ملک ان پر مبنی کئی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
انڈین حکومت کے پبلیکیشن ڈویژن نے مکیش پر ایک کتاب ’انڈیا کے پہلے عالمی گلوکار مکیش‘ شائع کی ہے۔ اس کے مصنف راجیو سریواستو ہیں، جو فلمی موسیقی کے ماہر کہے جاتے ہیں۔ راجیو سریواستو پہلے بھی مکیش پر ایک کتاب لکھ چکے ہیں۔
انھوں نے شمشاد بیگم جیسی گلوکارہ پر فلم بھی بنائی ہے۔ ماضی میں فلمی موسیقی پر ان کی کتاب 'سات سروں کا میلہ' بھی شہ سرخیوں میں رہی تھی۔

موسیقار خیام اور مکیش کا رشتہ
مکیش پر شائع ہونے والی اس کتاب کا پیش لفظ معروف موسیقار خیام نے لکھا ہے۔ خیام اور مکیش کا گہرا رشتہ تھا۔ خیام نے پہلی بار مکیش کے ساتھ سنہ 1958 میں فلم 'پھر صبح ہو گی' کے لیے دو سنگلز اور تین ڈوئٹ (دوگانے) گوائے۔
لیکن سنہ 1976 کی فلم 'کبھی کبھی' میں خیام کی موسیقی میں مکیش کے گائے ہوئے گیت 'کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے‘ اور 'میں پل دو پل کا شاعر ہوں‘ جیسے گانے فلم کی موسیقی کے سنہری صفحات پر درج ہو کر امر ہو گئے۔
خیام اس کتاب میں مکیش کے بارے میں لکھتے ہیں: 'کبھی کبھی میرے دل میں...، اس صدی کے بہترین گانوں میں سے ایک ہے۔ مکیش بھائی کا رینج بھی خوب تھا۔ دھن یا سر کیسے بھی ہوں، اونچے ہوں یا نیچے، آہستہ ہوں یا تیز یا مختلف موڈ والے ہوں، سب طرح کے نغموں کو انھوں نے جس طرح گایا اسے آج بھی یاد کرتا ہوں تو لگتا ہے کہ ایسے سدا بہار گانے صرف وہی گا سکتے تھے۔‘
ان کی شریف النفسی کو یاد کرتے ہوئے خیام ان کا ایک واقعہ سناتے ہیں: ’جب ہم کبھی کبھی کے گیتوں کی ریہرسل کر رہے تھے، ان دنوں مکیش بھائی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ وہ دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔
ڈاکٹر نے انھیں زینے چڑھنے سے منع کر رکھا تھا۔ اس وقت میں جوہو (ممبئی میں ایک محلہ) کے جس فلیٹ میں رہتا تھا وہاں لفٹ نہیں تھی۔ میں نے ان سے کہا، میں ان کے گھر آؤں گا، وہاں ریہرسل کروں گا لیکن وہ نہیں مانے۔ وہ کہنے لگے 'نہیں، میں یہاں صرف آپ کے لیے آؤں گا۔ وہ وعدے کے مطابق آئے۔ وہ تیسری منزل پر میرے فلیٹ پر زینے چڑھ کر آیا کرتے تھے۔ انھوں نے محنت سے گانوں کی ریہرسل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔‘

مکیش بہت سادگی پسند تھے
راجیو شریواستو کہتے ہیں: 'مکیش کی گائیکی اپنے آپ میں ایک سکول ہے، یہ ایک تہذیب ہے، یہ ایک ثقافت ہے، یہ ایک ورثہ ہے۔ ان کی گائیکی ہر دور میں قابل قبول رہی ہے اور رہے گی۔‘
مکیش کی پیدائش کے صد سالہ سال کے بارے میں جہاں ان کے بیٹے نتن مکیش پرجوش اور خوش ہیں وہیں وہ اب بھی ان کے آخری دنوں کو یاد کر کے رو پڑتے ہیں۔ رواں ہفتے ان سے بات ہوئی، وہ اپنے والد کی 99ویں سالگرہ اور صد سالہ سالگرہ منانے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔
نتن مکیش اس موقع پر پوجا پاٹھ کے لیے مختلف مندروں میں گئے۔ نتن کہتے ہیں: ’میرے لیے میرے والد، بھگوان ہیں۔ میں ان کی عبادت کرتا ہوں۔ میں ان رسومات پر عمل کرتا ہوں جو انھوں نے شروع سے مجھے دی ہیں۔ اگر کوئی مجھے جانتا ہے تو وہ کہے گا کہ میں ان کا بیٹا ہوں۔‘
یہ بھی پڑھیے
نتن کا کہنا ہے کہ ’میرے والد کتنے عظیم تھے، کتنے مقبول تھے وہ خود یہ بات نہیں جانتے تھے۔ وہ سادگی سے زندگی گزارتے تھے۔ کامیابی کے عروج پر بھی انھوں نے اپنے اور خاندان کے لیے صرف ایک گاڑی رکھی تھی، اگر وہ گاڑی کبھی کہیں اور ہو یا خراب ہو جائے تو وہ بس یا آٹو رکشا سے بھی سفر کیا کرتے تھے۔ انھیں بس میں سفر کرتے دیکھ کر لوگ چونک جاتے کہ ’مکیش جی، آپ، اور بس میں؟ لیکن وہ صرف اس بات پر مسکرا دیتے۔‘
مکیش اس وقت کون سی کار استعمال کرتے تھے؟ جب ان سے پوچھا گیا تو نتن مکیش نے جواب دیا: ’سچ بتاؤں، انھوں نے اپنی زندگی کی پہلی کار لتا دیدی (لتا منگیشکر) سے خریدی تھی، وہ ہل مین کار تھی، اس کے بعد انھوں نے فیٹ کار اور پھر ایمبیسیڈر لی۔‘

،تصویر کا ذریعہLATA MANGESHKAR
آخری وقت میں لتا اور نتن ساتھ تھے
آج بھی جب مکیش کے یادگار گیتوں کی بات آتی ہے تو لوگ ان کی سادگی اور ان کے اچھے کردار کی باتیں کرتے نہیں تھکتے۔ لتا منگیشکر کے ساتھ ان کا بہن بھائی کا رشتہ تھا۔ اتفاق سے وہ بھی مکیش کے آخری لمحات میں ان کے ساتھ تھیں۔
مکیش کی موت 27 اگست 1976 کو امریکہ کے شہر ڈیٹرائٹ میں ہوئی۔ اس وقت شوز کے لیے مکیش تقریباً ایک ماہ کے لیے کینیڈا اور امریکہ کے دورے پر تھے۔ ان میوزیکل شوز میں لتا منگیشکر بھی ان کے ساتھ تھیں۔ نتن بھی اپنے والد کے ساتھ تھے۔
کینیڈا کے دورے پر 24 اور 25 اگست کو دو شوز ہونے تھے۔ اس دوران مکیش کو تھوڑی سردی محسوس ہوئی، اور انھوں نے لتا منگیشکر سے کہا: 'میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، کیا تم آج میری جگہ نتن کے ساتھ دو تین گانے گاؤ گی؟‘ لتا جی نے اس پر اتفاق کیا۔
جب لتا نے پہلی بار نتن کے ساتھ 'کبھی کبھی میرے دل میں' گایا تو آڈیٹوریم میں بیٹھے لوگ دنگ رہ گئے۔ یہ دیکھ کر مکیش بہت خوش ہوئے۔ جب نتن نے لتا جی کے ساتھ ایک اور گانا 'ساون کا مہینہ' گایا تو مکیش نے ہارمونیم والے سے ہارمونیم لیا اور خود ہارمونیم بجانے لگے۔
شو کے بعد مکیش نے لتا سے کہا کہ مجھے اپنے بڑھاپے کی پنشن مل گئی ہے، آج مجھے یقین ہے کہ کل نتن بھی کچھ کریں گے۔ اتنا ہی نہیں ہوٹل پہنچ کر مکیش نے اپنی بیوی سرل بین کو فون کیا اور کہا کہ آج آپ کے بیٹے نے کمال کر دیا۔
مکیش کی آخری شام
اس شو کے بعد پورا گروپ ڈیٹرائٹ، امریکہ پہنچا جہاں ایک شو 27 اگست کی شام کو طے تھا۔ نتن بتاتے ہیں: ’جب میں اس دن باہر سے کھانا کھا کر ہوٹل واپس آیا تو میرے والد سو رہے تھے، میں بھی سو گیا، شام کو تقریباً پانچ بجے انھوں نے پیار سے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا -’لالے، اٹھو بیٹا، شو میں چلنا ہے۔‘
پھر کہنے لگے آج میری طبیعت اور گلا بالکل ٹھیک ہے آج تمہیں گانے کی ضرورت نہیں صرف میں ہی گاؤں گا۔
'لیکن میں ایک بار پھر لتا دیدی کے ساتھ گانا چاہتا تھا۔ میں نے اپنے والد سے کہا کہ ’نہیں، میں بھی گاؤں گا۔‘ اس پر وہ ہنسنے لگے اور بولے- 'اچھا تو تم بھی گاؤ گے، جلدی تیار ہو جاؤ۔' یہ کہہ کر پاپا تیار ہونے کے لیے باتھ روم چلے گئے۔‘
اس کے بعد انھوں نے کہا کہ ’جب پاپا کچھ دیر تک باتھ روم سے باہر نہیں آئے تو میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، انھوں نے کہا کہ میں ابھی آ رہا ہوں، لیکن جب وہ باہر آئے تو وہ بہت بے چین تھے، انھیں پسینہ آ رہا تھا، انھوں نے مجھ سے کہا کہ جلدی اے سی چلاؤ۔۔۔ میں نے اے سی آن کیا اور لتا جی کو فوراً فون کیا۔۔۔ لتا جی فوراً ہی ہمارے کمرے میں آگئیں۔۔۔ ان کا بھائی ہردے ناتھ اور بھابھی بھی آ گئیں۔
'لیکن طبیعت اتنی خراب ہو گئی تھی کہ میں فوراً ان کے ساتھ ایمبولینس میں ہسپتال کے لیے روانہ ہو گیا۔ ہمارے بعد لتا جی بھی کار میں ہسپتال آئیں۔ ہسپتال پہنچنے کے کچھ دیر بعد ہی ڈاکٹروں نے انھیں مردہ قرار دے دیا۔
اس وقت نتن کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا لیکن لتا منگیشکر نے کسی طرح انھیں سنبھالا۔









