نعمان اعجاز: ’اگر آپ میرے حس مزاح یا مذاق کو نہیں سمجھ سکتے تو پھر یہ میرا مسئلہ نہیں‘

،تصویر کا ذریعہZee5
- مصنف, ثمرہ فاطمہ
- عہدہ, بی بی سی اردو، لندن
’میں باوضو ہو کر کام کرتا ہوں تو ایمانداری خود بخود آ جاتی ہے۔ میں کیمرے کے سامنے جو وقت گزارتا ہوں وہ میری یاداشت کی ٹیپ میں نہیں ہوتا۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ میں نہیں ہوتا بلکہ وہ میرا کردار ہوتا ہے۔ یہ کیسے ہو جاتا ہے میں یہ نہیں جانتا اور جاننا بھی نہیں چاہتا۔‘
یہ کہنا ہے کہ پاکستانی ٹی وی کے مقبول اداکار نعمان اعجاز کا، جن کا ماننا ہے کہ ان کا اداکاری کا سٹائل پوری دنیا سے مختلف ہے۔
بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے نعمان اعجاز نے کہا کہ یہ عجیب سی بات ہے لیکن وہ ابھی بھی خود کو جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
’میں یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہوں کہ بحیثیت اداکار مجھے کیا چیزیں دنیا سے مختلف بناتی ہیں۔ ہمارے اندر سارے کردار ہوتے ہیں لیکن کچھ لوگ ان کو باہر نہیں لا پاتے مگر خدا کا شکر ہے کہ مجھے میں یہ خصوصیت ہے کہ میں اپنے اندر کے ہر کردار کو باہر نکال لاتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے کرداروں میں کہیں خود بھی غائب ہو چکا ہوں۔‘
’کوشش کرتا ہوں اپنے کسی کردار کو نہ دہراؤں‘
نعمان اعجاز کہتے ہیں کہ ’کسی کردار کے لمحے(مومنٹ) میں جانا کوئی آسان نہیں ہوتا لیکن خدا کی عنایت ہے کہ میں اس لمحے میں چلا جاتا ہوں۔‘
اپنے ڈرامے ’میرا سائیں، ڈر سی جاتی ہے صلہ‘ میں اپنے کردار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نعمان اعجاز نے کہا کہ وہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ کبھی بھی اپنا کوئی کردار نہ دہرائیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’32 برس پہلے جب میں نے یہ کام شروع کیا تو تب سے مجھے کچھ بھی آسان نہیں ملا بلکہ سب کچھ مشکل اور مختلف ہی ملا اور میں اس حوالے سے خوش قسمت رہا کہ مجھے مختلف کردار ملتے تھے لیکن ایک بار ایک کردار کرنے کے بعد میں نے کوشش کی کہ اس کردار کو دوبارہ نہ کروں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

’ابھی بھی سیٹ پر جاتے ہوئے ڈر جاتا ہوں‘
لیکن اتنے طویل اور کامیاب فنی کرئیر کے باوجود نعمان اعجاز کا کہنا ہے کہ وہ ابھی بھی سیٹ پر جاتے ہوئے ڈر جاتے ہیں۔
’میں ہر بار سیٹ پر اس خوف کے ساتھ جاتا ہوں کہ کیا یہ میں کر بھی پاؤں گا کہ نہیں۔ میں بہت ڈرا اور گھبرایا ہوا جاتا ہوں اور مجھ سے پہلا سین بہت مشکل سے ہوتا ہے لیکن پھر چیزیں ردھم میں آ جاتی ہیں لیکن میرا ماننا ہے کہ خوف رہنا چاہیے کیونکہ آپ کا خوف ختم ہوا تو آپ بھی ختم ہو جاتے ہیں۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ کیا ایک اچھا اداکار ہونے کے لیے ایک خاص قسم کا انسان ہونا ضروری ہے؟
نعمان اعجاز نے کہا کہ ’جی ہاں لیکن میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ انسان کیسا ہونا چاہیے لیکن ایسا انسان جو حساس بھی ہو، اچھا ہو، سمجھدار بھی ہو۔ اگر آپ اچھے انسان نہیں تو آپ اچھے پروفیشنل نہیں ہو سکتے۔‘
وہ اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’میں کیسے یہ کردار ادا کر سکتا ہوں کہ میں بھوکا ہوں اور مجھے نیند نہیں آ رہی، جب میں نے خود اس احساس کو کسی حد تک محسوس نہ کیا ہو۔‘

،تصویر کا ذریعہHuM TV
’اگر کوئی مذاق نہیں سمجھتا تو پھر یہ میرا مسئلہ نہیں‘
اپنے حوالے سے تنازعات کے بارے میں نعمان اعجاز نے کہا کہ کوئی میری بات کا غلط مطلب لے تو وہ کیا کہہ سکتے ہیں۔
’اگر آپ میرے حس مزاح یا مذاق کو نہیں سمجھ سکتے تو پھر یہ میرا مسئلہ نہیں۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ مغرور ہونا نہیں تو نعمان اعجاز نے کہا کہ ’میرے ساتھ جو لوگ کام کرتے ہیں وہ جب مجھ سے پوچھتے ہیں کہ فلاح سین کیسا ہوا تو اگر وہ اچھا ہوا ہو تو میں کہتا ہوں کہ بہت اچھا ہوا لیکن اگر اچھا نہیں ہوا تو میں کہتا ہوں کہ نہیں یار مزہ نہیں آیا۔ آپ اس سے بہتر کر سکتے تھے۔‘
’اگر میرے اس ردعمل پر لوگ کہیں کہ نعمان بھائی بہت بدتمیزی کر جاتے ہیں اور صاف ہی کہہ دیتے ہیں تو میں کیوں نہ انھیں صاف صاف بتاؤں۔ بری چیز کو بھی اچھا کہہ کر آپ اگلے بندے کی ترقی اور اس کو بہتر کرنے سے روک دیتے ہیں۔‘
’نیوز کاسٹنگ میں فیل لیکن اداکاری کے لیے پاس ہو گیا‘
اپنے فنی کرئئر کے آغاز میں بات کرتے ہوئے نعمان اعجاز نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ انھیں کبھی بھی اداکاری کا شوق نہیں تھا۔
’میٹرک کے بعد آپ کسی پروفیشن یا مضامین کا انتخاب کرتے ہیں۔ فوج میں جانے کا بھی شوق تھا۔ اس زمانے میں ایک ٹی وی چینل ہوتا تھا جس پر ایک شخص بیٹھ کر خبریں پڑھتا تھا اور سب لوگ اسے دیکھتے تھے اور مجھے لگتا تھا کہ وہ شخص ہی ہیرو ہے تو مجھے وہاں سے نیوز کاسٹر بننے کا شوق بھی پیدا ہوا۔
’میں نے 1985 میں آڈیشن بھی دیے لیکن مجھے انکار کر دیا گیا کہ آپ کے چہرے پر ابھی میچورٹی نہیں۔ سنہ 1987 میں جب دوبارہ آڈیشن کے لیے گیا تو مجھے بہت منجھے ہوئے ڈائریکٹر نصرت ٹھاکر نے کہا کہ خبریں کیوں پڑھنا چاہتے ہوں اداکاری کیوں نہیں کرتے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’میں نے کہا کہ مجھے اداکاری نہیں آتی اور نہ ہی میں نے کبھی اس بارے میں سوچا ہے۔ جس پر مجھے کہا گیا کہ آپ میں ایک اداکار نظر آتا ہے تو نصرت صاحب نے مجھے نیوز کاسٹنگ میں فیل لیکن اداکاری کے لیے پاس کر دیا۔‘

،تصویر کا ذریعہHuM TV
نعمان اعجاز نے مزید بتایا کہ ’گریجویشن کے بعد میں نے لا کالج میں داخلہ بھی لیا کیونکہ میرے نانا وکیل تھے اور میرے بڑے بھائی نے بھی وکالت کر رکھی تھی تو میری والدہ نے کہا کہ تم بھی وکالت کر لو۔ سنہ 1989-90 میں، میں نے وکالت کی ڈگری حاصل کی لیکن اس کے بعد مجھے آڈیشن کے لیے بلایا گیا اور ایسے میں نے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا۔‘
اپنے فنی کیرئر کے شروع کے دنوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میرے پہلے چار ڈرامے نصرت ٹھاکر کے ساتھ تھے، انھوں نے مجھے اعتماد دیا تو مجھے محسوس ہوا کہ مجھے میں بھی اداکاری کے حوالے سے مخلتف خصوصیات موجود ہیں۔‘
نعمان اعجاز نے اپنے کام کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ ان کا کسی کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں بلکہ ان کا مقابلہ ہمیشہ اپنے گذشتہ کردار سے ہوتا ہے کہ پہلے کردار سے کچھ بہتر کرنا ہے۔
’میں اداکاری کسی کام کی طرح نہیں کرتا۔ مجھے اس سے محبت ہے، مجھے اپنے اداکار ہونے سے محبت ہے۔ اس سے خالص کچھ نہیں۔ کسی دوسرے شخص میں خود کو ڈھال لینا یا کسی بھی صورتحال میں خود کو ڈھال لینا، تو آپ بحیثیت انسان بہتر ہوتے جاتے ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
یہ بھی پڑھیے
’صبا قمر اچھی فنکارہ کے ساتھ ساتھ اچھی انسان بھی ہیں‘
حال ہی میں نعمان اعجاز انڈین آن لائن پلیٹ فارم زی فائیو کی ویب سیریز ’مسٹر اینڈ مسز شمیم‘ میں پاکستانی اداکارہ صبا قمر کے ساتھ سکرین پر جلوہ گر ہوئے ہیں، اس سے قبل بھی وہ ایک دوسرے کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے نعمان اعجاز نے کہا کہ صبا قمر نے اپنے کرئئر کا آغاز ان کے ساتھ کام سے کیا تھا۔
اپنی ساتھی اداکارہ صبا قمر کے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’وہ بہت زیادہ پروفیشنل ہیں۔ وہ بہت ٹائم سے سیٹ پر آتی ہیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کو بھی سمجھتی ہیں۔ ہم دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتے ہوئے مسئلہ نہیں ہوتا کیونکہ ہم دونوں ایک دوسرے کو کافی اچھے سے جانتے ہیں تو مزہ آتا ہے۔‘
صبا قمر کا موازنہ ثانیہ سعید، سویرا ندیم، سمعیہ ممتاز اور ماریہ واسطی سے کرتے ہوئے نعمان اعجاز نے یہ کہا کہ ’صبا اچھی فنکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھی انسان بھی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہSABA QAMAR/TWITTER
’لوگ سچی باتوں کا برا مان جاتے ہیں‘
اس سوال کے جواب میں کہ اگر آپ کو 30 برس پہلے والے نعمان اعجاز کو کوئی مشورہ دینے کا موقع ملے تو آپ کیا کہیں گے؟
نعمان اعجاز نے کہا کہ ’جو جیسا کر رہا ہے اسے ویسا کرنے دیں۔ ان لوگوں کو سچ نہ بتائیں کیونکہ یہ سچ جاننے کے حقدار نہیں۔ لوگ سچی باتوں کا برا مان جاتے ہیں۔‘
بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں نعمان اعجاز نے فلسفانہ انداز میں ایک شعر بھی پڑھا:
ہائے نی میری قسمت، ہائے نہیں میرے لیکھے
وجہ دی سمجھ نہ آئی مینوں، میں ریا وجود پلیکھے
نعمان اعجاز نے کہا کہ ’اس کا مطلب ہے کہ میں آج تک اپنے وجود کی وجہ تو جان ہی نہیں پایا بلکہ میں تو اپنے جسم کی فکر میں لگا رہا کہ اسے اچھا کھاؤں، اچھے کمرے میں پہنو، سونے کے لیے گدا نرم ہونا چاہیے، تکیہ ایسا ہونا چاہیے، یہ برانڈ پہننا چاہیے، یہ جوتا ہونا چاہیے، فرسٹ کلاس سفر کرنا چاہیے۔ لیکن ایسا کیوں ہے؟ یہ تو ہم جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔‘













