سنگِ ماہ، عاطف اسلم کا ڈیبیو ڈرامہ: ’عورت پر حق ملکیت جتانے کی قبائلی رسم ’غگ‘ یا ’ژغ‘ کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہHum Tv
’او پروردگارا۔۔۔ تیرے ہلمند نے ہے تجھے پکارا۔۔۔ خودکشی میں اگر نہ ہوتا آخرت کا خسارا تو تیرا ہملند گردن میں پھندا ڈال کے جھول جاتا۔۔۔ خود کو مار دیتا اور کھوپڑی میں سیسہ اُتار لیتا۔۔۔ اپنے لب سی جاتا اور زہر کا پیالہ پی جاتا۔‘
بلآخر عاطف اسلم کے فینز کا انتظار ختم ہوا اور گذشتہ رات ڈرامہ سیریل ’سنگِ ماہ‘ کی پہلی قسط نشر ہوئی۔ سوشل میڈیا پر نظر دوڑائیں تو بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ ’ہملند خان‘ کے کردار میں عاطف اسلم کی انٹری نے سب کے دل جیت لیے ہیں۔
جہاں ایک طرف گلوکار عاطف اسلم ’سنگ ماہ‘ میں ڈیبیو کر رہے ہیں، وہیں اس ڈرامے کی دیگر کاسٹ میں ثانیہ سعید، سامیہ ممتاز، نعمان اعجاز اور ان کے بیٹے زاویار اعجاز، کبریٰ خان، ہانیہ عامر اور میکال ذوالفقار شامل ہیں۔
اس ڈرامے کے ہدایت کار سیفی حسن ہیں، جنھوں نے سنہ 2016 میں نشر ہونے والے سنگِ ماہ کے پہلے سیزن ’سنگ مرمر‘ کی ہدایات کاری کی تھی۔
’سنگِ مرمر‘ کی طرح ’سنگِ ماہ‘ کی کہانی بھی پاکستان کے قبائلی علاقہ جات کی فرسودہ روایات اور رسم و رواج کے گرد گھومتی ہے اور اس ڈرامے میں قبائلی روایت ’غگ‘ یا ’ژغ‘ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
اس ڈرامے پر آنے والے سوشل میڈیا ردعمل پر نظر ڈالنے سے قبل پڑھیے کہ ’غگ‘ کی رسم کیا ہے اور فی الحال پاکستان میں اس کی قانونی حیثیت کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہHum TV
’غگ‘یا ’ژغ‘ کی رسم کیا ہے؟
بی بی سی نے 21 نومبر 2019 کو غگ کی رسم پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی۔
غگ پشتو زبان کا لفظ ہے جس کے معنی آواز لگانے یا اعلان کرنے کے ہیں۔ یہ قدیم روایت بیشتر قبائلی علاقوں میں رائج تھی اس روایت کے تحت جس بھی مرد کو کوئی خاتون پسند آ جاتی تھی تو وہ اس خاتون کے گھر آ کر شادی کا اعلان کر دیتا تھا کہ یہ خاتون اب میری ہے، اسے غگ یا ژغ کہتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس رسم کے تحت اگر برادری کا کوئی شخص کسی خاتون سے شادی کا اعلان کرتا ہے تو برادری کا کوئی اور شخص اس خاتون کے لیے رشتہ نہیں بھجواتا اور اس خاتون کے لیے شادی کے رشتے آنا بند ہو جاتے تھے۔
اس روایت یا رسم کے زیادہ تر واقعات بھی جنوبی علاقوں خاص طور پر جنوبی وزیرستان میں پیش آتے رہے ہیں۔
اس روایت کے تحت اس میں خاتون، اس کے والدین یا رشتہ داورں کی رضامندی کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی تھی۔

،تصویر کا ذریعہHum TV
اس فرسودہ روایت کے تحت بعض اوقات لوگوں کا مقصد خاتون سے شادی کرنا نہیں ہوتا تھا بلکہ خاتون کے خاندان کو تنگ کرنا یا اپنی شرائط پر ان سے معاملات طے کرنا ہوتا تھا۔
یہ رسم بنیادی طور پر جنوبی وزیرستان سے شروع ہوئی اور پھر صوبے کے دیگر علاقوں تک پھیل گئی۔
شیر عالم شنواری کلچر ثقافت اور تاریخی واقعات پر گہری نگاہ رکھتے ہیں اور ان سے متعلق ڈان اخبار میں لکھتے رہتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ ایک انتہائی بدترین رسم تھی جسے 2012 میں ایک قانون کے تحت قابل گرفت جرم بنا دیا گیا ہے۔
شادی کا کیا طریقہ ہوتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قبائلی علاقوں خاص طور پشتون علاقوں میں یہ رسم پائی جاتی تھی۔ اس کے تحت لڑکے کے گھر والے پہلے تو رشتہ مانگنے کے لیے لوگ بھیجتے تھے جسے جرگہ بھی کہا جاتا تھا۔ شیر عالم شنواری کے مطابق لڑکی والوں کی جانب سے انکار کی صورت میں لڑکے والے پھر غگ یعنی پکار یا اعلان کرتے تھے جس میں لڑکی کے گھر والوں کے فیصلے کو چیلنج کیا جاتا تھا۔
اس غگ کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ علاقے کے کوئی اور لوگ پھر اس لڑکی کا رشتہ نہیں بھیجتے اور اگر کوئی بھیجے تو پھر دشمنیاں شروع ہو جاتیں اور لوگ قتل کیے جاتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ غگ بظاہر عوامی سطح پر اعلان ہوتا تھا کہ باقی لوگ رشتہ نہ بھیجیں۔
شیر عالم شنواری کے مطابق ایسی صورتحال میں خاتون اور اس کے گھر والے بُری طرح متاثر ہوتے تھے۔ اور یا تو وہ خاتون ہمیشہ کے لیے گھر بیٹھ جاتی اور اس کا رشتہ کہیں نہیں ہو پاتا تھا یا ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ لڑکی کو کوئی نقصان پہنچا دیا جاتا جس سے اس لڑکی کے رشتے سے باقی لوگ گریز کرتے۔
اس قانون یعنی غگ ایکٹ کے بعد اور قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد اس طرح کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن پھر بھی کہیں اکا دکا ایسے واقعات پیش آ ہی جاتے ہیں۔
غگ ایکٹ کب منظور ہوا؟

،تصویر کا ذریعہAFP
اس روایت کے خاتمے کے لیے اگرچہ مختلف ادوار میں آواز اٹھائی گئی لیکن سنہ 2013 میں پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے اس فرسودہ روایت کے خلاف عملی اقدامات کرتے ہوئے قانون سازی کی اور صوبائی اسمبلی سے یہ قانون منظور کروایا تھا۔
اس قانون کے تحت جرم ثابت ہونے پر زیادہ سے زیادہ سات سال اور کم سے کم تین سال قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔
غگ ایکٹ کے قانون کی منظوری میں عوامی نیشنل پارٹی کی سابق رکن صوبائی اسمبلی ستارہ ایاز نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
سنہ 2019 میں انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس فرسودہ رسم کے بارے میں بہت شکایات آ رہی تھیں جس پر سنہ 2012 میں اس کے خلاف قانون سازی پر کام شروع کیا گیا تھا۔
ستارہ ایاز کے مطابق اب بھی اس بارے میں آگاہی نہیں ہے کہ یہ رسم قابل سزا جرم بن چکی ہے اور حکومت کو اس سلسلے میں آگاہی مہم شروع کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ پولیس تھانوں اور متعلقہ محکموں کو بھی معلومات ہونی چاہییں کہ غگ اور ژغ اب ایک قابل گرفت جرم ہے۔
سوشل میڈیا پر ردِعمل: ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ سنگِ ماہ میں ’غگ‘ جیسے سنگین مسئلے کو اجاگر کیا گیا‘

،تصویر کا ذریعہ@urfavloss
ڈرامہ سیریل سنگِ ماہ میں 'غگ' یا 'ژغ' کی فرسودہ قبائلی روایت پر روشنی ڈالنے کے لیے اس ڈرامے اور ڈائیلاگز کی تعریف کی جا رہی ہے۔
حریم نے ڈرامے کی تعریف کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی لکھا کہ انھیں بہت خوشی ہے کہ اس ڈرامے میں غگ جیسے حساس مسئلے کو اجاگر کیا گیا ہے۔
افشاں نے ٹویٹ کیا ’سنگِ ماہ ایک مختلف قسم کا ڈرامہ ہے اس جیسا ڈرامہ ہم نے پاکستانی ٹی وی پر پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘
ایک صارف نے لکھا کہ ’سنگ ماہ ایک ایسا ڈرامہ ہے جو غگ جیسی فرسودہ رسم کے خلاف بنایا گیا ہے اور یہ ایک ایسی رسم ہے جس میں مرد کو حق دیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی لڑکی کو اپنی ملکیت بنا سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@misbahologist












