بھاونا مینن: اغوا اور جنسی حملے کا شکار ہونے والی انڈین اداکارہ نے اپنی خاموشی توڑ دی

،تصویر کا ذریعہBHAVANA MENON
- مصنف, گیتا پانڈے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
انڈین ریاست کیرالہ کی مشہور اداکارہ بھاونا مینن نے پانچ سال بعد اپنے اغوا اور جنسی حملے کے واقعے پر خاموشی توڑتے ہوئے ایک تکلیف دہ سفر پر بات کی ہے۔ یہ واقعہ سنہ 2017 میں ہوا تھا۔
مینن جنوبی انڈیا کی زبانوں میں بنی 80 سے زیادہ فلموں میں کام کر چکی ہیں اور کئی ایوارڈ جیت چکی ہیں۔ فروری 2000 میں چند افراد نے اس وقت ان پر جنسی حملہ کیا تھا جب وہ تھریسر سے کوچی جا رہی تھیں۔
یہ واقعہ اخباروں کی شہ سرخیوں میں آیا خصوصاً اس لیے بھی کیونکہ انڈین ملیالم فلم اندسٹری کے ایک معروف اداکار دلیپ، جنھوں نے مینن کے ساتھ بھی ایک درجن فلموں میں کام کیا ہے، اس کیس میں ملزم نامزد ہوئے اور ان پر مقدمہ درج ہوا۔
دلیپ نے اپنے اوپر عائد الزامات سے انکار کیا لیکن ان کو گرفتار کر لیا گیا اور تین ماہ تک حراست میں رہنے کے بعد ان کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اس وقت یہ مقدمہ عدالت میں چل رہا ہے۔
مینن نے بنگلور سے فون پر بات کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ: 'میں ایک عام سی زندگی کا مزہ لینے والی لڑکی تھی اور پھر اچانک اس ایک واقعے نے میری زندگی الٹ کر رکھ دی۔ زیادہ تر لوگ سوشل میڈیا پر میری ہنستی مسکراتی تصویریں دیکھتے ہیں لیکن میں تو جہنم سے ہو کر واپس آئی ہوں۔'
انھوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد 'میں جنسی حملے کی شکار ایک اداکارہ بن کر رہ گئی اور بہت دیر تک میں خود سے سوال کرتی رہی کہ میں ہی کیوں؟ میں خود کو الزام دے رہی تھی اور اس سب سے نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کر رہی تھی۔'
'لیکن پھر سنہ 2020 میں مقدمہ شروع ہوا اور 15 دن مجھے عدالت کے سامنے ثبوت دینے پڑے۔ اور یہی وہ وقت تھا جب سب کچھ بدلنا شروع ہوا۔ میں جو سب بھلانے اور آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی تھی، اچانک مجھے سب کچھ دوبارہ سے یاد کرنا تھا، کیس سے جڑی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی۔'
جس دن مینن کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا وہ اپنے آبائی علاقے تھریسر سے کوچی جا رہی تھیں جہاں ان کو اگلی صبح ایک فلم کی ڈبنگ کرنی تھی۔ اسی سفر میں ان کو اغوا کر لیا گیا۔ اغواکاروں نے جنسی حملے کی ویڈیو بھی بنائی۔ 'شاید وہ مجھے بلیک میل کرنا چاہتے تھے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہARUN CHANDRA BOSE
مینن اور دلیپ کے سلیبرٹی ہونے کی وجہ سے اس کیس پر میڈیا کی بہت توجہ رہی اور تقریبا ہر دن مقامی ٹی وی چینلز پر لوگوں کو اس موضوع پر بات کرنے کے لیے مدعو کیا جاتا جن میں سی کوئی ان کے حق میں تو کوئی ان کے خلاف بات کرتا۔
سوشل میڈیا پر کئی افراد نے مینن کو ہی مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کی۔ کسی نے سوال کیا کہ وہ شام کے سات بجے کیوں سفر کر رہی تھیں، تو کسی نے ان کے کردار پر سوال اٹھائے، کسی نے ان کو گالیاں دیں تو کسی نے کہا کہ یہ سب مینن کا رچایا ہوا جھوٹا ڈرامہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے
انڈین ڈیجیٹل پلیٹ فارم موجو سے بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ 'یہ سب میرے لیے بہت تباہ کن تھا، مجھے ایسا لگا کہ میرے لاکھوں ٹکڑے ہو چکے ہیں۔ ان سب باتوں نے مجھے بہت تکلیف پہنچائی۔ کبھی کبھی میرا دل کرتا تھا کہ میں زور زور سے چلاوں۔'
'مجھ سے میری عزت چھین لی گئی اور مجھ پر ہی الزام لگایا گیا۔'
انڈیا کے قانون کے تحت جنسی حملوں کا شکار ہونے والوں کی شناخت ہر قیمت پر صیغۂ راز میں رکھی جاتی ہے لیکن مینن کے کیس میں ایسا نہیں ہوا۔ وہ کہتی ہیں کہ پہلے دن سے ہی سب کو علم ہو چکا تھا کہ یہ حملہ مجھ پر ہوا ہے۔
'میں ایک جانی پہچانی اداکارہ تھی اور ابتدائی رپورٹ میں جب صرف یہ کہا گیا کہ مجھے اغوا کیا گیا ہے، اس لیے کچھ ٹی وی چینلز نے میری تصاویر نشر کیں۔ جب جنسی حملے کی معلومات سامنے آئیں تو ان چینلز نے میری تصاویر تو ہٹا دیں لیکن تب تک سب کو معلوم ہو چکا تھا کہ یہ میں ہوں۔'
جنوری میں اس 'ڈراونے خواب' کے آغاز کے پانچ سال بعد خود مینن نے پہلی بار ایک انسٹا گرام پوسٹ کے ذریعے اعتراف کیا کہ اس جنسی حملے کا شکار وہی تھیں۔
انھوں نے لکھا تھا: 'یہ کوئی آسان سفر نہیں تھا۔ ظلم کا شکار بننے سے لے کر اب ایک سروائور تک کا سفر۔ پانچ سال تک میرا نام اور میری شناخت اس حملے کے بوجھ تلے دبی رہی جس کا شکار میں تھی۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
Instagram پوسٹ کا اختتام
انھوں نے لکھا کہ: 'اگرچہ اس کیس میں جرم میں نے نہیں کیا تھا، لیکن اس کے باوجود میری تذلیل کرنے، مجھے خاموش کرانے اور مجھے تنہا کرنے کی کئی کوششیں ہوئیں۔ لیکن ایسے وقتوں میں مجھے کچھ ایسے لوگ بھی ملے جنھوں نے آگے بڑھ کر میری آواز زندہ رکھنے میں مدد دی۔ اب جب میں اپنے حق میں اٹھنے والی بہت سی آوازیں سنتی ہوں تو مجھے یقین ہوتا ہے کہ انصاف کی لڑائی میں اکیلی نہیں ہوں۔'
مینن کی اس پوسٹ کو ملیالم فلم اندسٹری کے بڑے ناموں نے بھی شیئر کیا جن میں موہن لال اور مموتی سمیت کئی بالی وڈ اداکارائیں بھی شامل تھیں۔
دی نیوز منٹ ویب سائٹ کے ایڈیٹر ان چیف دھنیا راجیندرن نے کہا کہ اپنی آواز بلند کرنے کا فیصلہ کر کے مینن نے محتاط رہتے ہوئے بہادری دکھائی کیوںکہ کیس ابھی عدالت میں چل رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ 'حملہ ہونا ایک بات ہے لیکن وہ ایک جانی پہچانی اداکارہ بھی ہیں اس لیے ان کو شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا جس میں معاشرے کے ساتھ ساتھ فلم انڈسٹری بھی شریک تھی۔ ابھی عدالت میں کیس بھی چل رہا ہے۔ پھر اس حملے کی ویڈیو کا معاملہ بھی ہے اور یہ ڈر ہمیشہ رہے گا کہ کہیں اس ویڈیو کو لیک نا کر دیا جائے۔'
مینن مانتی ہیں کہ سیلیبرٹی ہونا ان کے لیے کسی حد تک فائدہ مند بھی رہا کیوںکہ ان کے خاندان اور شوہر کی جانب سے ان کا بھرپور ساتھ دینے کے علاوہ ان کے پاس اتنے مالی وسائل بھی تھے کہ وہ اپنا کیس لڑ سکیں۔ اس کے باوجود گزشتہ پانچ سال ان کے لیے آسان نہیں تھے۔
'ایسے سو سے زیادہ مواقع آئے جب میں نے سوچا کہ بس بہت ہو گیا۔ کئی بار میں نے اپنے دوستوں اور وکیلوں سے پوچھا کہ کیا ہم یہ کیس واپس لے سکتے ہیں کہ شاید وقت واپس لوٹ جائے۔ میں نے ملک چھوڑ دینے کے بارے میں بھی سوچا کہ کہیں جا کر ایک نیا آغاز کروں۔ کئی بار تو خود کشی کا بھی خیال آیا۔'
میں نے مینن سے سوال کیا کہ پھر آخر ایسی کون سی چیز تھی جس کے سہارے وہ چلتی رہیں؟
انھوں نے جواب دیا کہ 'ہر بار جب میں نے کیس سے پیچھے ہٹنے کا سوچا تو 24 گھنٹوں کے اندر اندر میری سوچ تبدیل ہو گئی۔ اس لیے کہ یہ میری عزت کا سوال ہے، مجھے اپنی بے گناہی ثابت کرنی ہے، مجھے ثابت کرنا ہے کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔'











