میمز کلچر: میم جو غم بھلا دے اور فلموں ڈراموں میں کام بھی دلا دے

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو لاہور

پاکستان میں مہنگائی کا مسئلہ ہو، کرکٹ ٹیم انڈیا سے میچ ہار جائے یا جیت بھی جائے، پیٹرول کی قیمتیں بڑھ جائیں یا کووڈ کی وبا کی وجہ سے ملک میں لاک ڈاؤن لگا دیے جائیں، ان تمام صورتوں میں کرکٹ کے مداحوں اور عام آدمی کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔

لیکن پاکستان کے سائبر سپیس یا انٹرنیٹ پر ایک متوازی دنیا ایسی بھی ہے جہاں یہ مسائل کوئی مسئلہ ہی نہیں بلکہ تفریح کا ذریعہ ہیں۔ یہ ہے میمز کی دنیا۔

یہاں تصاویر اور ویڈیوز کے ساتھ ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ کر کے انھیں طنز و مزاح کا رنگ دیا جاتا ہے اور پھر ان میمز کو اس حقیقی سنجیدہ صورتحال پر استعمال کیا جاتا ہے۔

ایسا نہیں کہ میمز کی اس دنیا کا ایک چکر لگانے سے عام آدمی کے یہ سنجیدہ مسائل ختم ہو جاتے ہیں لیکن یہ ضرور ہوتا ہے کہ وہ کچھ دیر کے لیے اپنا غم بھول جاتا ہے، مسکرا اٹھتا ہے اور پھر اسے یہ حوصلہ بھی ملتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں۔

مہوش بھٹی ’ماہوبلی‘ کے نام سے ٹوئٹر پر میمز بنانے اور اپنے طنز و مزاح کے انداز کے لیے مقبول ہیں۔ انھیں 80 ہزار سے زائد لوگ فالو کرتے ہیں اور ان کے بنائے میمز شیئر کیے جاتے ہیں۔

وہ سمجتھی ہیں کہ ’اس دنیا کا چکر لگا کر آپ کو لگتا ہے کہ اور بھی لوگ ہیں جو آپ ہی کی طرح ان مسائل سے گزر رہے ہیں اور آپ کو حوصلہ ملتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں پاکستان میں میمز کا ایک کلچر پایا جاتا ہے جس کا معیار بہت ہی زیادہ اچھا ہے۔ اس کے اچھے ہونے کی وجہ ’پاکستانیوں کی اپنی ہی ابتری پر انتہائی خوبصورت انداز میں طنز کرنے اور اس کا مذاق اڑانے کی صلاحیت ہے۔‘

لیکن یہ میم بنانے کی صلاحیت آتی کہاں سے ہے؟ کیا ان کو بنانے والوں کو بہت تحقیق کرنی پڑتی ہے، سوچ بچار کرنا ہوتا ہے یا پھر کسی شاعر کی طرح بیٹھے بٹھائے ’آمد‘ ہوتی ہے؟

اب آپ عبدالاحد جاوید کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہی دیکھ لیں۔ اس کا نام انھوں نے ’بوبی وڈ‘ رکھا ہے۔

یہ نام انڈیں فلمسٹار بوبی دیول کی نسبت سے ہے اور اس پر خالصتاً بوبی دیول کی فلموں کے چھوٹے چھوٹے کلپ آپ کو ملیں گے۔ پاکستان کے باہر سے بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس کے پیج کے مداح ہیں۔

اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس پر آپ کو کسی بھی بظاہر سنجیدہ صورتحال پر بوبی دیول کی فلم کا ایسا سین ملے گا کہ آپ حیران رہ جائیں گے کہ یہ تو ہو بہو اس پر فٹ بیٹھتا ہے۔ لیکن عبدالاحد نے اتنی جلدی یہ سین ڈھونڈ کیسے لیا؟

جیسے ان کی یہ ٹویٹ جو ٹینس سٹار نوواک جوکووچ کو حال ہی میں آسٹریلیا میں کورونا کی ویکیسن نہ لگوائے ہونے کی وجہ سے ائیرپورٹ پر روک لیے جانے کے حوالے سے تھی۔

یا پھر یہ والا ٹویٹ جس میں ’بوبی وڈ‘ کے مطابق ’بوبی دیول نے کئی برس پہلے ہی کورونا اور اس کے حفاظتی اقدامات کی پیش گوئی کر دی تھی۔‘

کیا میمز کی بھی ’آمد‘ ہوتی ہے؟

عبدالاحد جاوید ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں وہ حقیقت میں بوبی دیول کے مداح ہے اور اس پیج کے بنانے کا مقصد کسی کو ٹرول کرنا یا اس کی ذات کا مذاق اڑانا نہیں ہے۔

’یہ صرف ایک کوشش ہے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بھکیرنے کی اور مختلف قسم کی صورتحال میں انجوائے کرنے کی۔ مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ خود بوبی دیول سمیت لوگوں نے اسے اسی نظر سے دیکھا اور اتنا پسند کیا ہے۔‘

تاہم سوال یہاں بھی وہی ہے کہ عبدالاحد یا ان جیسے دیگر ڈیجیٹل کریئٹر اتنی جلدی ایسے میمز بنا کیسے لیتے ہیں؟ کیسے وہ اتنے کم وقت میں بوبی دیول کی فلموں کے صورتحال کے حساب سے موزوں سین تلاش کر لیتے ہیں یا پھر ویڈیوز کاٹ پیٹ کر ایک نئی چیز تخلیق کر لیتے ہیں؟

عبدالاحد کے مطابق یہی آپ کی تخلیقی صلاحیت ہے ’کہ آپ کم وقت میں جلد از جلد ایسی چیز بنا کر سامنے لے آئیں جو اس صورتحال کی وضاحت خوشگوار مزاح کی صورت میں کر دے تو زیادہ سے زیادہ لوگ اس کو سمجھ پاتے ہیں۔‘

ان کے لیے ایسا کرنا ایک میکانکی عمل ہے اس لیے انھیں زیادہ کوشش نہیں کرنی پڑتی۔ اور بوبی دیول کے مداح ہونے کی وجہ سے انھوں نے ان کی ساری فلمیں بھی دیکھ رکھی ہیں۔

’جیسے ایک دم شیطان سوار ہو جاتا ہے‘

تبصرہ نگار اور میمز میکر مہوش بھٹی کے مطابق یہ واقعتاً ایک فطری یا میکانکی عمل ہے۔

’جیسے کہتے ہیں نہ ایک دم شیطان سوار ہو جانا۔ یہ آپ کا مشاہدہ بھی ہے۔ آپ بہت سارے پیجز دیکھتے رہتے ہیں اور پھر آپ کچھ تصاویر وغیرہ اپنے پاس محفوظ کرتے رہتے ہیں کہ جب وقت آئے گا تو استعمال کروں گی۔‘

وہ اس کی وضاحت اپنے تخلیق کردہ ایک حالیہ میم سے کرتی ہیں جو ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کا ان دنوں سرِورق ہے۔

وہ سمجھتی ہیں کہ میمز خاص طور پر ایک ایسا ذریعہ ہے جس میں آپ وہ بات بھی ہنسی مذاق میں کر دیتے ہیں جو آپ عام حالات میں کھل کر نہیں کہہ پاتے۔ ’وہ لوگ جو آپ کو پسند نہیں کرتے وہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ’بات اس نے غلط نہیں کی، ہمیں پتہ نہیں کیوں غصہ چڑھا ہوا تھا‘۔‘

’انڈیا کے لوگ خود تعریف کرتے ہیں‘

میمز زیادہ تر سیاسی صورتحال یا دیگر سماجی اور معاشی مسائل کے گرد گھومتے ہیں۔

یا پھر انڈیا اور پاکستان کے صارفین کی ٹویٹر پر کرکٹ میچ کے بعد ہونے والی ’جنگ‘ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

مہوش بھٹی کہتی ہیں چاہے پاکستان میچ ہار بھی گیا تو ان کی میمز اتنے اچھے معیار کے ہوتے ہیں کہ ’خود انڈیا کے لوگ ان کی تعریف کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔‘

کیا میمز زندگی بدل سکتے ہیں؟

پاکستان میں میمز کا کلچر اتنا پروان چڑھ چکا ہے کہ یہاں میمز کی وجہ بن جانے والے یا خود میم بن جانے والی افراد کی زندگیاں بیٹھے بٹھائے بدل گئیں۔

فیس بک پر کچھ عرصہ قبل ایک تصویر وائرل ہوئی جس میں ایک صاحب نے تصویریں لگا کر لکھا تھا کہ آج سے ان کی فلاں سے دوستی ختم اور فلاں سے شروع ہو گئی ہے۔

ان کی اس تصویر کے اتنے میمز بنے کے حال ہی میں اسے ’ڈیجیٹل آرٹ‘ کے طور پر ایک بین الاقوامی نیلامی میں 50 ہزار ڈالرز سے زائد کی رقم کے عوض خرید لیا گیا۔ اس تصویر یا میم کے حقیقی مالک پاکستان کے شہر گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

دنانیر مبین ایک پاکستانی ڈرامے ’صنفِ آہن‘ میں ان دنوں اداکاری کر رہی ہیں۔ انھیں شوبز میں آنے کا موقع بھی ان کی اس ویڈیو کے بعد ملا جو حال میں بین الاقوامی طور پر وائرل ہوئی۔ اس ویڈیو پر بے شمار میمز پاکستان اور پاکستان سے باہر تشکیل دیے گئے۔

یہاں تک کہ ان کی بولی گئی لائن ’یہ ہماری پاوری ہو رہی ہے‘ کو انڈین فلم انڈسٹری کے سٹارز نے بھی میمز کی شکل میں بنایا۔

’یہ ایک ذریعہ بنا۔۔۔مجھے فلموں، ڈراموں میں لیڈ رولز مل رہے ہیں‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دنانیر مبین نے بتایا کہ اس سے پہلے ان کا انسٹاگرام پر ایک بلاگ تھا تاہم اس ویڈیو کے میمز کا نشانہ بننے کی وجہ سے ملنے والی مقبولیت کے بعد وہ بڑی سطح پر سامنے آئیں۔ انھوں نے کبھی شوبز میں آنے کا نہیں سوچا تھا۔

’یہ ایک ذریعہ بنا اب مجھے فلموں اور ڈراموں میں لیڈ رولز مل رہے ہیں اور بہت سی آفرز میرے سامنے ہیں۔ جو آپ کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے وہ آپ کو مل جاتا ہے لیکن میں یہ کہوں گی کہ اسی کے بعد مجھے یہ مواقع ملے۔‘

کیا میمز بنانے والے بھی پیسے کماتے ہیں؟

احمر نقوی ’کراچی کھٹمل‘ کے نام سے ٹوئٹر پر موجود ہیں اور انھیں بھی 80 ہزار سے زیادہ صارفین فالو کرتے ہیں۔ وہ لکھاری بھی ہیں اور ڈیجیٹل کریئٹر بھی اور خصوصاً کرکٹ پر دنیا کی اچھی ویب سائٹس کے لیے ان کے لکھے کالم نظر آتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی میمز بنانے والوں کے لیے اس میں کوئی مستقل کمائی یا کریئر بنانے کا راستہ موجود نہیں ہے۔

’کچھ لوگ جو بہت اچھے میمز بنا رہے ہوتے ہیں اپنی ان صلاحیتوں کو سوشل میڈیا مینیجمنٹ جیسے کام کی طرف موڑ سکتے ہیں۔ کچھ لوگ جو کچھ پیجز یا اکاؤنٹس چلاتے ہیں ان کو اس طرح میڈیا مینیجمنٹ کی نوکریاں بھی ملی ہیں۔‘

ساتھ ہی کچھ کمپنیاں خاص طور پر اپنے سوشل میڈیا مینیجرز سے میمز بنواتے ہیں۔ ’لیکن اس کو اس طرح دیکھنا کہ جو کوئی بھی تھوڑی بہت اچھی میمز بناتا ہے تو وہ بہت پیسے کما سکتا ہے تو میرے خیال میں وہ پاکستان میں کسی بڑے پیمانے پر ممکن نہیں ہے۔‘

’آنے والا وقت میم مارکیٹنگ کا ہے‘

تاہم ڈیجیٹل کریئٹر عبدالاحد کہتے ہیں کہ انھوں نے آج سے چار سال قبل اس بات کی پیش گوئی کی تھی کہ آنے والا وقت ’میم مارکیٹنگ‘ کا ہے۔

وہ اس کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں کہ ’ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا مقصد ہی یہی ہے کہ ایک فین یا صارف کے ساتھ رابطے میں آنا اور رہنا اور میرے خیال میں اس کا بہترین ذریعہ میمز ہیں۔‘

ان کے خیال میں اگر کوئی وائرل ہو جائے اور اس کو دیکھے جانے والوں کی تعداد زیادہ ہو تو کون سا ایسا برانڈ ہے جو یہ نہیں چاہے گا کہ وہ اس کی سپورٹ کرے تا کہ زیادہ سے زیادہ صارفین اسے دیکھ سکیں۔ احد کے خیال میں برانڈز کو چاہیے کہ وہ میم مارکیٹنگ کے طریقے کو آزمائیں۔

میمز بعض اوقات ایسے سنجیدہ بحث مباحثوں کا حصہ بھی نظر آتے ہیں جو آگے چل کر ٹرینڈز وغیرہ کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہونے والے یہ ’ٹرینڈز‘ حکومتوں کو اپنے فیصلے تبدیل کرنے یا کوئی اقدام اٹھانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

’دوا نہ سہی، دعا والا اثر ضرور ہے‘

سارہ فاطمہ ٹوئٹر اور سوشل میڈیا پر گہری نظر رکھتی ہیں اور ان کے تبصرے ان کو فالو کرنے والے ہزاروں افراد پسند کرتے ہیں۔

وہ سمجھتی ہیں کہ سوشل میڈیا ٹرینڈز وغیرہ حکومتوں کے لیے ایک سروے کی مثال ہے جس سے انھیں اندازہ لگانے میں آسانی ہوتی ہے کہ مقبول عوامی رائے کسی مسئلے پر کیا ہے۔ ان کے خیال میں میمز محض ایک وقت گزاری کا ذریعہ نہیں بلکہ ان کا اثر اس سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

’میمز مزاح پر ہی بنی ہوتی ہیں اور سیاسی نوعیت کے میمز اس بات کی بڑی مثال ہیں کہ کس طرح لوگ اپنی روزمرہ زندگی کی مایوسیوں کو میمز کی شکل دے کر آسان بنا دیتے ہیں اور اس پر ہنستے ہیں۔‘

حالانکہ اگر مثال کے طور پر مہنگائی جیسے مسئلے کو دیکھا جائے تو وہ لوگوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہے۔

’میمز حقیقت تو تبدیل نہیں کر سکتے لیکن اگر آپ کے دل کا حال اچھا ہو جائے تو آپ کا باہر کا حال بھی تھوڑی دیر کے لیے اچھا ہو جاتا ہے اور آپ بھول جاتے ہیں کہ آپ کتنے مشکل حالات میں سے گزر رہے ہیں۔‘

سارہ فاطمہ کے مطابق اس طرح میمز کا ایک بامعنی اثر بھی ہے جس کی وجہ سے آپ ذہنی دباؤ سے چھٹکارا حاصل کر لیتے ہیں۔

’(میمز کا) دوا نہ سہی لیکن تھوڑا سا دعا والا اثر ہے۔‘