وائرل ویڈیوز: انڈیا میں سوشل میڈیا پر 2021 کے یادگار لمحات

    • مصنف, اینڈرو کلیرینس
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دلی

یہ ایک مشکل سال رہا، کووِڈ کی تباہ کن دوسری لہر کے صرف چند ماہ بعد اومیکرون کی وجہ سے تیسری لہر کا خوف بڑھ رہا مگر اداسی کے اس عہد میں سوشل میڈیا پر چند ایسے یادگار لمحے بھی آئے جنھوں نے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیں۔

2021 کے ایسے ہی پانچ لمحات کا ذکر کرتے ہیں۔

پانچ برس کا کووِڈ ’سپاہی‘

اپریل اور مئی کے دوران انڈیا میں کورونا کی دوسری ہلاکت خیز لہر آئی جس نے صحت عامہ کا نظام مفلوج کر کے رکھ دیا۔ چھ مئی کو سب سے زیادہ 4 لاکھ 14 ہزار کیس رپورٹ ہوئے۔

مگر جب اس کی شدت میں کمی واقع ہوئی اور ریاستی حکومتوں نے پابندیاں نرم کیں تو سیاحوں نے مشہور تفریحی مقامات کا رخ کرنا شروع کر دیا۔

جولائی میں جب بغیر ماسک پہنے سیاحوں کی ویڈیوز عام ہوئیں تو حکومت نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ کووڈ کے ضابطوں پر عمل کریں۔

اس وقت انڈیا کی شمالی ریاست ہِماچل پردیش کے قصبے دھرمشالا کی ایک مصروف مارکیٹ میں بنائی گئی ایک ویڈیو وائرل ہو گئی۔

اس میں ایک پانچ سال کا بچہ جس کے پاؤں ننگے ہیں ایک ہاتھ میں بوتل اور دوسرے میں ایک ڈنڈا لیے لوگوں کو ہلکی ضرب لگا کر پوچھ رہا ہے کہ ماسک کہاں ہے اور انھیں اسے پہننے کی تاکید کر رہا ہے۔

کچھ لوگ اسے دیکھ کر دنگ رہ گئے اور کچھ محظوظ ہوئے، ایک نے تو اس کے گال پر تھپکی بھی دی مگر مقامی پولیس بہت متاثر ہوئی اور اسے نئے جوتے اور کھانے پینے کی چیزیں خرید کر دیں اور اعلان کیا کہ کورونا وائرس کے خلاف مہم میں وہ اس کی مدد لے گی۔

اطلاعات کے مطابق مقامی لوگوں نے بھی اعلان کیا کہ غبارے بیچ کر اپنا اور گھر والوں کا پیٹ پالنے والے اس بچے کی مدد کریں گے۔

جب انڈیا اور پاکستان میں ایک ساتھ ’پارری‘ ہوئی

فروری میں جب ایک پاکستانی انسٹاگرام صارف دنانیر مبین نے انسٹاگرام پر پانچ سیکنڈ کی ایک ویڈیو لگائی تو انھیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ پاکستان اور انڈیا دونوں میں ہی پاپ کلچر سٹار بننے والی ہیں۔

دنانیر کی عمر اس وقت 19 سال تھی۔ اس ویڈیو میں وہ اپنی کار اور دوستوں کی جانب اشارہ کر کے اور لہرا کر کہہ رہی ہیں: ’یہ ہماری کار ہے، اور یہ ہم ہیں اور یہ ہماری ’پارری‘ ہو رہی ہے۔‘

وہ انگریزی لفط ’پارٹی‘ کو بگاڑ کر ’پارری‘ کہہ رہی ہیں۔

اس پوسٹ کے نیچے لکھا ہے کہ انھوں نے ’برگرز‘ کی نقل اتاری ہے۔ پاکستان میں ’برگرز‘ کی اصطلاح امیر طبقے کے ان نوجوانوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جنھوں نے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کی ہے اور جو امریکی یا برطانوی لب و لہجے یعنی اردریزی (اردو اور انگریزی کا ملغوبہ) میں بات کرتے ہیں۔

مقامی اور سستے بن کباب کے مشابہ غیر ملکی برگرز جب پاکستان میں متعارف ہوئے تو مہنگے ہوتے تھے اور صرف امیر لوگ مہنگے ریستورانوں میں جا کر آرڈر کرتے تھے۔ یوں عام پاکستانی سے الگ تھلگ بود و باش کی وجہ سے انھیں طنزیہ طور پر برگر کلاس کہا جانے لگا۔

یہ ویڈیو پہلے پہل تو صرف پاکستان میں وائرل ہوئی لیکن جلد ہی یہ انڈیا میں بھی مشہور ہو گئی جب ایک میوزک پروڈیوسر نے ایک دلکش دھن پر اس کلپ کا ری مِکس بنایا۔

بالی ووڈ ستاروں اور انڈین فوجیوں سمیت بہت سے لوگوں نے اسی طرز پر اپنی اپنی وڈیوز بنا کر شیئر کیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ساؤتھ افریقہ کے خلاف سیریز جیتنے کے بعد ٹیم اسی انداز میں اپنی ویڈیو بنا رہی ہے۔

دنانیر اپنی اس کاوش پر خوش تھیں۔ بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ’جہاں دنیا بھر میں اتنی پریشانیاں اور اتنی تقسیم ہے، ایسے وقت میں سرحد پار پیار بانٹنے سے بہتر کیا ہو سکتا ہے؟‘

انڈیا میں کووڈ کا پہلا ٹیکہ

جنوری میں جب کووڈ سے بچاؤ کے لیے انڈیا میں دنیا کی سب سے بڑی ویکسینیشن مہم شروع ہوئی تو پہلا ٹیکہ ایک خاکروب کو لگایا گیا۔

چونتیس برس کے منیش کمار دلی کے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں کام کرتے ہیں۔

منیش کمار نے اے این آئی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ’میرا تجربہ بہت اچھا رہا۔ مجھے ویکسین لگوانے میں بالکل جھجھک محسوس نہیں ہوئی۔ لوگوں کو پریشان نہیں ہونا چاہیے۔‘

مہم کے افتتاح کے لیے انھیں منتخب کرنے کا مقصد اس عزم کا اظہار کرنا تھا کہ ویکسینیشن مہم کے دوران ہر اول دستے میں شامل کارکنوں کو ترجیح دی جائے گی۔

صفائی کرنے والے عملے کے ارکان اکثر خراب حالات میں بغیر کسی حفاظتی ساز و سامان اور سماجی ستائش کے کام کرتے ہیں۔

اولمپکس میں انڈیا کا پہلا ایتھلیٹِکس گولڈ میڈل

نیرج چوپڑا نے اگست میں ٹوکیو اولمپکس کے دوران 87.58 میٹر دور نیزہ پھینک کر انڈیا کے لیے پہلا اولمپک ایتھلیٹِکس گولڈ میڈل حاصل کیا۔ انڈیا بھر میں اس تاریخی کامیابی کا جش منایا گیا۔

2008 میں بیجنگ اولمپکس میں ابھیناؤ بِندرا کے بعد نیرج دوسرے انڈین ایتھلیٹ ہیں جنھوں نے انفرادی کیٹیگری میں گولڈ حاصل کیا۔

ان کے اس بہترین تھرو کی وڈیو وائرل ہو گئی جس میں وہ بغیر یہ دیکھے کہ ان کا نیزہ کہاں جا کر گرا ہے فاتحانہ انداز سے اپنے ہاتھ بلند کر کے خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ سب ناقابل یقین لگتا ہے۔ یہ میرے اور میرے ملک کے لیے فخر کی گھڑی ہے۔‘

’راسپوتین چیلنج‘

اپریل میں جنوبی ریاست کیرالا میں میڈیکل کے دو طالب علموں نے اپنی مصروفیت میں سے وقت نکال کر بونی ایم کی 1978 کی ڈِسکو ہِٹ راسپوتین پر ڈانس کیا۔

طبی یونیفارم میں ملبوس اپنے کالج کی سنسان راہداریوں میں رقص کرتے ہوئے جانکی اومکمار اور نوین رزاق کی 30 سیکنڈ کی اس وڈیو کو لاکھوں افراد نے دیکھا۔

دونوں کے پر اعتماد انداز میں رقص اور آخر میں رزاق کے ابرو کی جنبش کو بہت سے لوگوں نے سراہا۔

مگر بعد میں انھیں اس وقت قدرے نفرت کا بھی سامنا کرنا پڑا جب فیس بک پوسٹ پر کسی نے لکھا کہ دونوں کا تعلق الگ الگ مذاہب سے ہے، پوسٹ میں جانکی اومکمار کے والدین کو خبردار کیا گیا تھا کہ نوین مسلمان ہیں جبکہ ان کی بیٹی ہندو ہے۔

مگر جانکی اومکمار اور نوین رزاق کو کافی تائید و حمایت بھی حاصل ہوئی، اور دوسرے کالجوں کی طلبہ تنظیموں نے جب لوگوں سے کہا کہ وہ اسی طرز پر اپنے رقص کی وڈیوز بنا کر شیئر کریں تو رقص کرتے میڈیکل سٹوڈنٹس کی بہت سی وڈیوز سامنے آ گئیں۔

ایک ورژن میں جانکی اور نوین کے دوستوں نے اسی گانے پر رقص کرکے آخر میں دونوں کو یکجا کر دیا اور لکھا: ’اگر تم نفرت پھیلاؤ گے تو ہم مزاحمت کریں گے۔‘

کالج کی راہداریاں ڈانس فلور بن گئیں جب طلبہ نے سٹیپنگ اگینسٹ ہیٹرڈ کے ہیشٹیگ کے ساتھ سوشل میڈیا پر اپنی وڈیوز کی بھر مار کر دی۔