’یہ ہماری کار ہے، یہ ہم ہیں اور یہ ہماری پارٹی ہو رہی ہے‘: دنانیر مبین، وہ لڑکی جو ایک وائرل میم بن گئی

    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

ایک نوجوان لڑکی نے اپنے ہاتھ میں کیمرہ پکڑ رکھا ہے جو پہلے اپنے پیچھے کھڑی ایک گاڑی دکھاتی ہے، پھر اپنے چند دوست دکھاتی ہے اور ساتھ ساتھ ہی کہتی ہیں: ’یہ ہماری کار ہے، یہ ہم ہیں اور یہ ہماری پارری (یعنی پارٹی) ہو رہی ہے‘۔

اپنے دوستوں کے ساتھ بنائی گئی محض چارسیکنڈ کی یہ عام سی ویڈیو بنانے والی لڑکی دیکھتے ہی دیکھتے اتنی وائرل ہو گئیں کہ ناصرف انٹرنیٹ پر ہر دوسرے شخص نے ان کے میمز بنا ڈالے بلکہ یہ سرحد پار انڈیا بھی جا پہنچیں جہاں ایک گلوکار نے ان کی ویڈیو کو استعمال کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں ایک ’میش اپ‘ گانا بنا لیا ہے۔

راتوں رات ’میم‘ بن جانے والی یہ لڑکی 19 سالہ دنانیر مبین ہیں۔ دنانیر کے گھر والے انھیں پیار سے ’جینا‘ کہہ کر بلاتے ہیں۔

دنانیر کا تعلق پشاور سے ہے اور وہ خود کو ایک ’کونٹینٹ کریئٹر‘ کہتی ہیں جو اپنے بلاگز پر زندگی کے بارے میں شئیر کرنے کے علاوہ میک اپ فیشن اور لائف سٹائل سے لے کر ذہنی صحت کے مسائل سے متعلق ہر چیز پر بات کرتی ہیں۔

دنانیر کو اپنے خاندان والوں کے ساتھ وقت بِتانے کے علاوہ پینٹنگ اور وقتاً فوقتاً گلوکاری کرنا پسند ہے اور کتوں سے بہت پیار ہے۔

انکی انسٹا گرام پر شائع ہونے والی اس ویڈیو کو اب تک 20 لاکھ سے افراد دیکھ چکے ہیں اور وائرل ہونے کے بعد انسٹاگرام پر ان کے فالووز کی تعداد بڑھ کر تین لاکھ 37 ہزارسے بڑھ چکی ہے۔

تو کیا سوچ کر ویڈیو بنائی تھی جو وائرل میم بن گئی؟

بی بی سی بات کرتے ہوئے دنانیر کا کہنا تھا کہ یہ پہلے سے طے شدہ منصوبہ نہیں تھا۔

دنانیر بتاتی ہیں کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ نتھیا گلی گھومنے گئی ہوئی تھیں اور جب کھانا کھانے کے لیے رکیں اس وقت بس اچانک ہی اپنا موبائل فون نکال ک ویڈیو بنالی اور اپ لوڈ کر دی۔

کیا عام طور پر بھی اسی انداز میں بات کرتی ہیں؟

اس بارے میں دنانیر کہتی ہیں کہ اس طرح برگر سٹائل میں بات کرنا میرا انداز نہیں ہے، میں ایسے بات نہیں کرتی اور صرف ویڈیو بنانے کے لیے یہ مزاحیہ انداز اختیار کیا تھا۔

وہ کہتی ہیں ’مجھے ’پارٹی‘ کہنا آتا ہے اور مجھے پتا ہے کہ یہ ’پارری‘ نہیں پارٹی ہوتا ہے۔

’میں نے تو صرف آپ سب (میرے انسٹاگرام فالوور) کو ہنسانے کے لیے ایسا کیا۔‘

یہ بھی پڑھیے

تاہم دنانیر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے گھر اور دوستوں میں سب کو پتا ہے کہ وہ ذرا مزاحیہ باتیں کرتی ہیں۔

’میں عجیب و غریب تبصرے اور احمقانہ قسم کے مذاق کرتی رہتی ہوں اور میں جن لوگوں کے ساتھ کمفرٹیبل ہوتی ہوں، ان کے ساتھ میری ’یہی وائب‘ (ایسا ہی انداز) ہوتی ہے ’میں ان کے ساتھ بالکل جوکر کی طرح ہوتی ہوں۔‘

ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’اب مجھے پتا چلا ہے کہ لوگوں کو میری شخصیت کی یہ سائیڈ زیادہ پسند ہے، لہذا مستقبل میں کوشش کروں گی کہ اپنے انسٹاگرام اور یوٹیوب پر یہی سائیڈ زیادہ دکھاؤں۔‘

سوچا تھا کہ ویڈیو اتنی وائرل ہو جائے گی؟

دنانیر کہتی ہیں ’سچ بتاؤں تو جب میں ویڈیو اپ لوڈ کر رہی تھی، اس وقت مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ اتنی وائرل ہو جائے گی۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ وہ تو بس سب کو ہنسانا چاہتی تھیں اور ان کا خیال ہے کہ وہ اس مقصد میں کامیاب رہی ہیں۔

’اتنا پیار مل رہا ہے کہ میرے سے ہضم نہیں ہو رہا لیکن اب میرے پاس ایک بڑا خاندان ہے جس کے لیے میں اپنے تمام فالورز کی بہت شکر گزار ہوں۔‘

کیا گھر والوں کو معلوم ہے کہ انٹرنیٹ پر کتنی ’پارری‘ ہو رہی ہے؟

خاندان کے ردِعمل کے بارے میں بتاتے ہوئے دنانیر کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں وہ بہت خوش قسمت ہیں اور اس وائرل ویڈیو سے پہلے بھی ان بلاگ کے حوالے سے فیملی ان کا بہت ساتھ دیتی ہے۔

’خاص کر میری اماں، جب سے شوبز کے بڑے بڑے ستاروں نے میری ویڈیو ریکریٹ کی ہے، انھیں تو یقین ہی نہیں آ رہا اور وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہیں۔‘

دنانیر پر میمز بنانے والوں میں صرف پاکستانی ہی نہیں انڈین بھی شامل ہیں۔ حتیٰ کہ ایک انڈین گلوکار، یش راج میکھاتے نے ان کا وائرل ویڈیو استعمال کرتے ہوئے ایک میش اپ بھی بنا ڈالا ہے۔

دنانیر کو انڈین گلوکار کامیش اپ‘ گانادیکھ کر کیسا لگا؟

دنانیر کا کہنا ہے کہ جہاں دنیا بھر میں اتنی پریشانیاں اور اتنی تقسیم ہے، ایسے وقت میں سرحد پار پیار بانٹنے سے بہتر کیا ہو سکتا ہے؟

’مجھے خوشی ہے کہ میری ویڈیو کے باعث اب ہم اور ہمارے ہمسائے مل کر ’پارٹی‘ کر رہے ہیں۔‘

یش نے اپنے میش اپ کی کیپشن میں لکھا ہے ’آج سے میں پارٹی نہیں صرف پارری کروں گا کیونکہ پارٹی کرنے میں وہ مزا نہیں جو پارری کرنے میں ہے۔‘

دنانیر کی ویڈیو پر بےشمار میمز بنیں، تو ان کی سب سے پسندیدہ میم کون سی ہے؟

اس بارے میں وہ کہتی ہیں کہ ناصرف دنیا بھر بلکہ پاکستان بھر کے کونے کونے سے لوگ (گھروں، دفاتر، کالجز حتیٰ کہ سکول کے بچے تک) میمز اور ویڈیوز ریکریٹ کرکے بھیج رہے ہیں اور میرا نہیں خیال کوئی ایک ویڈیو میری پسندیدہ ہے۔

اور خاص کر جب پاکستانیوں کی بات آئے تو ’پاکستانی بہت اعلیٰ پائے کے میمز تخلیق کرتے ہیں اور وہ سب کے سب اتنے ہمہ گیر اور دل کو چھونے والے ہیں کہ میں ان میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کر سکتی۔‘

سوشل میڈیا پر ردِعمل:

سوشل میڈیا پر #pawrihoraihai پیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے اور پاکستان کیا، انڈیا اور دنیا بھر میں عام لوگوں سے لے کر مشہور شخصیات حتیٰ کہ کئی نوعمر لڑکے لڑکیاں بھی اس ہیش میں اپنی ویڈیوز بنا بنا کر شئیر کر رہے ہیں۔

کوئی کہتا ہے ’یہ ہماری گاڑی ہے، یہ ہم ہیں اور اور ہم خوار ہو رہے ہیں تو کوئی خاتون اپنے بیٹی کی ویڈیو دکھا کر کہتی ہیں ’یہ میں ہوں، یہ میری بیٹی ہے اور یہاں ہماری نیندیں حرام ہو رہی ہیں‘۔

جہاں ایک بچے نے ویڈیو بنائی ’یہ ہماری کتابیں ہیں، یہ ہم ہیں اور یہ سر کھپائی ہو رہی ہے‘ وہیں ایک لڑکی نے کچھ ایسی ویڈیو اپ لوڈ کی ’یہ ہماری تنہائی ہے، یہ ہم ہیں اور ہم بور رہے ہیں۔‘

تاہم کچھ لوگ یہ بھی پوچھتے نظر آئے کہ بھائی یہ ’پارری‘ کیا چیز ہے؟

ہمار خیال ہے کہ شاید ان لوگوں کو ابھی تک واٹس ایپ پر کسی نے دنانیر کی کلپ نہیں بھیجی اور وہ ’پارری‘ کرنے سے محروم رہ گئے ہیں۔