اداکارہ لیلیٰ واسطی کا انٹرویو: ’میں دس سال تک انڈسٹری سے باہر رہی واپسی پر کسی نے ہیروئن کا کردار تو نہیں دینا تھا‘

’مجھے کبھی بھی اپنی عمر کو لے کر کوئی پریشانی یا کمپلکس نہیں تھا، جب میں دس برس تک انڈسٹری سے باہر رہی تو مجھے پہلے کی طرح ہیروئن کے کردار تو نہیں ملنے تھے۔‘
یہ الفاظ ہیں پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی اداکارہ و ہدایتکارہ لیلیٰ واسطی کے جو آج کل دو مقبول پاکستانی ڈراموں ’ہم کہاں کے سچے تھے‘ میں اداکارہ ماہرہ خان کی والدہ جبکہ ڈرامہ ’عشقِ لا‘ میں اداکارہ سجلی علی کی والدہ کے کرداروں میں نظر آ رہی ہیں۔
بی بی سی اردو کے لیے ایک خصوصی انٹرویو میں صحافی براق شبیر نے ان سے ان کے فنی سفر سمیت مختلف موضوعات پر بات کی ہے۔
’ہم کہاں کے سچے تھے‘ ڈرامہ سیریل میں کام کرنے کے حوالے سے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے اداکارہ لیلیٰ واسطی کا کہنا تھا کہ ’جب مجھے کال آئی اور بتایا گیا کہ فاروق رند اس کے ہدایتکار ہیں تو میں نے اپنا کردار دیکھے بنا ہی ہاں کر دی۔‘
’اس ڈرامے کی پہلی کاسٹ کچھ اور تھی‘
اداکارہ لیلیٰ واسطی کا کہنا تھا کہ جب اس ڈرامے کی پروڈیوسر نینا کاشف نے مجھے کال کی تھی تو اس وقت مجھے کوئی اور کردار دیا گیا تھا اور اس وقت اس ڈرامے کی تقریباً سبھی کاسٹ کچھ اور تھی۔
’چند ماہ کی تاخیر کے بعد مجھے کہا گیا کہ آپ کو دوسرا کردار دیتے ہیں تو میں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ 'مجھے پہلے جو کردار آفر کیا گیا تھا میں وہ ہی کروں گی۔‘

،تصویر کا ذریعہHUM TV
ڈراموں میں اپنے کردار کی لک پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں لیلیٰ واسطی کا کہنا تھا کہ ’جیسی لک ڈائریکٹر، پروڈیوسر کو چاہیے میں اس میں بالکل دخل اندازی نہیں کرتی۔‘
ہم ٹی وی نیٹ ورک پر ہی نشر ہونے والے دوسرے ڈرامہ سیریل ’عشق لا‘ پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس ڈرامے میں میرا کردار اتنا زیادہ نہیں مگر سجل کے ساتھ کام کر کے تو دل خوش ہو گیا۔ وہ اپنے فن کو لے کر اپنے کام سے اتنا لگاؤ رکھتی ہے، اتنی توجہ مرکوز رکھتی ہے جو بہت کم لوگ رکھتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم دونوں ہی شوٹ سے پہلے 15-20 مرتبہ ریہرسل کرتے تھے۔‘
عشق لا کی شوٹنگ کے دوران پیش آئےایک واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اس ڈرامے کے ہدایت کار امین اقبال نے ’ہمیں ایک سین دیا جس کی ہم نے دس دس بار ریہرسل کی اور جب ہم نے اس کو عکس بند کروایا تو اس کے امین اقبال نے ہم سے کہا کہ آپ نے تو کہا تھا کہ آپ نے اس سین کو بار بار ریہرس کیا ہے۔‘
’جیسے ہی انھوں نے ایسا کہا ہم افسردہ ہو گئے کہ شاید یہ سین اچھا نہیں ہوا یا انھیں پسند نہیں آیا۔ تو اس پر انھوں نے کہا کہ میں آج سیٹ اور لائیٹنگ کے باعث خوش نہیں تھا اور میرا خیال تھا کہ یہ سین اچھا نہیں ہو گا لیکن آپ لوگوں نے میری زندگی کا بہترین سین ادا کیا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ڈائریکٹر کی طرف سے تعریف آنا ایک بہت بڑی بات تھی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
اداکارہ لیلیٰ واسطی کا کہنا تھا کہ دونوں ڈراموں کے نشر ہونے کے بعد انھیں سوشل میڈیا پر ناظرین اور مداحوں کی جانب سے بڑا اچھا ردعمل ملا ہے۔
’مجھے لگتا ہے کہ ’ہم کہاں کے سچے تھے‘ میں سب بہت حقیقت سے قریب نظر آ رہے ہیں۔ تمام اداکار اپنے کرداروں کے مطابق نظر آ رہے ہیں اور کسی کو یہ فکر نہیں کہ وہ سکرین پر کیسے دکھ رہے ہیں۔‘
آج کل انھیں کس قسم کے کردار مل رہے ہیں اور ان میں کام کا کتنا مارجن ہے، کے سوال پر اداکارہ لیلیٰ واسطی کا کہنا تھا کہ ’تقریباً دس برس انڈسٹری سے باہر رہنے کے بعد جب میں واپس آئی تو خوش قسمت تھی کہ مجھے کرداروں کی پیشکش ہوئی۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے اس بات کا ادراک تھا کہ مجھے کوئی ہیروئن نہیں لے گا لہذا مجھے بھابھی، بہن اور پھر ماں کے کرداروں کی پیشکش ہونے لگی۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’میں ایک اداکار ہوں مجھے ماں کے کردار کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں تھا بشرطیکہ وہ حقیقت کے قریب ہوں۔ ‘
وہ ان کرداروں میں کام کے مارجن پر بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’جب کوئی مجھے کسی کردار کے لیے کال کرتا ہے تو میں اس سے ایک سوال پوچھتی ہوں کہ کیا آپ کو اس کردار کے لیے میں ہی چاہیے یا کوئی بھی اس کو ادا کر سکتا ہے۔‘
’میں ان سے کہتی ہوں مجھے 500 سین نہیں چاہیں، چاہے ایک سین ہو لیکن اس میں مجھے کام کرنے کا موقع ہو۔ میں کہتی ہوں مجھے ضائع مت کرو۔‘
لیلیٰ اپنے کرداروں کے متعلق کہتی ہیں کہ ’میں چاہتی ہوں سین میں میری موجودگی کی کوئی اہمیت ہو۔ میں نہیں چاہتی کہ میرے ایسے مکالمے ہوں کہ ’بیٹا فریش ہو جاؤ میں چائے بنا کر لاتی ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے ہر ڈرامے میں مختلف نظر آنے کی کوشش کرتی ہوں۔ جیسے میں نے ’ڈنک‘ میں ساڑھیاں پہنیں ہیں تو اب طویل عرصے تک میں کسی اور ڈرامے میں ساڑھی نہیں پہنوں گی۔

’میں اداکارہ نہیں ٹیچر بننا چاہتی تھی‘
ادکارہ لیلی واسطی نے بتایا کہ وہ اداکارہ نہیں بلکہ ٹیچر بننا چاہتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے چند ماہ ٹیچنگ کی بھی لیکن شاید چاک کی دھول بہت زیادہ تھی اس لیے مجھے یہ پیشہ زیادہ پسند نہیں آیا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ جب آپ کے والدین کا کسی پیشے سے تعلق ہوتا ہے تو آپ اس کو اتنا سنجیدہ نہیں سمجھتے۔ بچپن میں میرے ارد گرد انڈسٹری ہی تھی، امی ابا کے سب دوست تھے۔
یاد رہے لیلیٰ واسطی ماضی کے مقبول اداکار رضوان واسطی اور اداکارہ طاہرہ واسطی کی بیٹی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
اپنی اداکاری کی پہلی پیشکش کا واقعہ سناتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ وہ اپنے والدین کے ہمراہ لاہور کے دورے پر تھیں تو اس وقت پی ٹی وی لاہور سنٹر کے نامور ڈائریکٹر نصرت ٹھاکر نے انھیں انار کلی پر مبنی ڈرامہ میں انار کلی کا مرکزی کردار کرنے کی پیشکش کی۔
وہ بتاتی ہیں کہ ’اس وقت میں سولہ سترہ برس کی تھی۔ اس کے لیے ہم نے کچھ ریہرسل وغیرہ بھی کی لیکن مجھے اس وقت یہ کرنا بالکل اچھا نہیں لگا کیونکہ اس وقت مجھے صاحب عالم قسم کی اداکاری میں کوئی شوق نہیں تھا۔ میں نے اپنے والدین سے کہا کہ میں یہ نہیں کر سکتی ہوں لیکن پھر اسے شاید کاپی رائٹس کے معاملے کی وجہ سے آخری وقت پر روک دیا گیا تھا اور میں بہت خوش ہوئی تھی۔‘
اداکاری کو بطور پیشہ اپنانے پر ان کا کہنا تھا کہ ’میری والدہ ایک ٹیلی فلم لکھ رہی تھیں جو ایک سسپنس تھرلر تھی اور مجھے یہ بہت پسند تھی تو اس میں کاظم پاشا صاحب نے آفر کی کہ کیا آپ کی بیٹی کام کریں گی۔ مجھے ویسے بھی اپنی والدہ کی کہانیاں بہت پسند تھی تو جب میں نے سکرپٹ پڑھا تو مجھے بہت اچھا لگا اور میں نے ہاں کر دی۔‘

’میرا پہلا سین زنیت یاسمین کے ساتھ تھا اور جب میں نے وہ کیا تو مجھے احساس ہوا کہ یہ تو میں کر سکتی ہوں۔ تو پھر میں نے اداکاری شروع کی اور جب آپ کا شوق آپ کا پیشہ بن جائے تو پھر کام بوجھ نہیں لگتا۔‘
’عمران خان کے آنے پر کوئی لڑکی چیخیں مت مارے‘
اداکار والدین کی وجہ سے بچپن سے ہی شوبز انڈسٹری کی چکا چوند کی یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اداکارہ لیلیٰ واسطی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان بھی ان کے والدین کے دوست تھے اور ان کے پچپن میں اکثر ان کے گھر آتے جاتے تھے۔
وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’میں بہت چھوٹی تھی جب ان سے ملی تھی۔ کوئی سات آٹھ برس کی تھی جب عمران خان صاحب ہمارے گھر آئے تو ان کے بازوں پر ٹانکے لگے ہوئے تھے۔‘
’میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو انھوں نے بچوں کے لیے کہانی گھڑ لی کہ مگرمچھ نے کاٹ لیا تھا اور میں اس پر بہت زیادہ حیران ہوئی تھی۔‘
اسی طرح ایک اور واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میری والدہ کا ایک بیوٹی سیلون بھی تھا اور جب میں بارہ برس کی تھی تو اس کے افتتاح کے لیے عمران خان صاحب آئے تھے۔ تب انڈسٹری کے بہت سے بن بلائے افراد بھی شامیانے توڑ توڑ کر اس تقریب میں پہنچ گئے تھے۔‘
’جب عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال کے عطیات کے لیے اپنی مہم کا آغاز کیا تو اس وقت میں سینٹ جوزف کالج میں پڑھتی تھی اور انھوں نے وہاں آنا تھا تو ہماری پرنسپل نے صبح اسمبلی میں باضابطہ طور پر کہا تھا کہ جب عمران خان آئیں گے تو کوئی لڑکی چیخیں نہیں مارے گی لیکن آپ سوچ سکتے ہیں کہ کیا ہوا ہو گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’سوشل میڈیا کی اہمیت کو رد نہیں کر سکتے‘
اداکاہ لیلیٰ واسطی کا کہنا ہے کہ انھیں ٹیکنالوجی سے زیادہ لگاؤ نہیں لیکن آپ سوشل میڈیا کی اہمیت کو رد نہیں کر سکتے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’بہت سے نئے آنے والے افراد کے لاکھوں مداح ہیں تو اگر وہ کسی ڈرامے میں آتے ہیں تو اس کی ریٹنگ زیادہ آتی ہے۔ کاروباری لحاظ سے یہ بری بات نہی لیکن میں چاہتی ہوں کہ اداکاروں کو ہی ڈراموں میں آنا چاہیے۔‘
وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’بہت سے نئے بچے آئے ہیں جو بہت محنت کر رہے ہیں۔ وہ اپنے سنیئرز کی بھی بہت عزت کرتے ہیں اور ان سے سیکھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔‘













