آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’وفا بے مول‘ کے اداکار علی عباس: ’میں بحیثیت اداکار آج بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتا‘
’جب میں نے اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا تو اُس دور میں بہت جدوجہد کرنا پڑتی تھی کیونکہ سوشل میڈیا اتنا مقبول نہیں تھا۔ انسٹاگرام کے آنے سے اب ہر کوئی اپنی دنیا میں سٹار بن گیا ہے۔ آج کل آسان ہے کہ آپ اداکاری اور وقت کی نہیں بلکہ پیسوں کی سرمایہ کاری کریں اور لمحوں میں سٹار بن جائیں۔‘
یہ کہنا ہے پاکستانی ٹی وی اداکار علی عباس کا جو تقریباً گذشتہ ایک دہائی سے پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ علی عباس سوشل میڈیا سے خاصے نالاں نظر آتے ہیں اور انھوں نے اس کا کُھل کر اظہار صحافی براق شبیر کو بی بی سی اردو کے لیے دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں بھی کیا۔
علی عباس نے کہا کہ انھیں امریکی گلوگارہ لیڈی گاگا کی ایک بات بہت صحیح لگتی ہے اور وہ ہر جگہ اسے شیئر بھی کرتے ہیں کہ ’سوشل میڈیا اب انٹرنیٹ کا ٹوائلٹ بن چکا ہے۔‘
علی عباس کے مطابق وہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال نہیں کرتے کیونکہ اُن کے خیال میں سوشل میڈیا ’کرپشن کا مرکز‘ بن چکا ہے۔
’کرپشن سے میری مراد یہ ہے کہ مستحق اداکاروں کو اتنی اہمیت نہیں مل رہی جتنی ان اداکاروں کو مل رہی ہے جو پیسے کے ذریعے سب کچھ کروا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بہت سے پیج ایسے ہیں جہاں آپ کو پتہ ہے کہ آپ نے پانچ، چھ ہزار میں ایک پوسٹ خریدنی ہے۔‘
’سوشل میڈیا پر سب کچھ کرنا اب بہت آسان ہے، گذشتہ دو تین سال میں سوشل میڈیا پر جوڑیاں بہت بِک رہی ہیں، اگر جوڑی بن جائے گی تو چار ڈرامے بھی ساتھ ہو جائیں گے۔ پانچ، دس ہزار میں فالوورز خریدے جا سکتے ہیں لیکن مجھے ایسا کرنے سے خوشی نہیں ہو گی۔ میرے فالوروز کم ہیں لیکن وہ ہیں جو میرے کام کو دیکھ کر مجھے فالو کرتے ہیں۔‘
’میں بحیثیت اداکار آج بھی محفوظ محسوس نہیں کرتا‘
علی عباس نے انڈسٹری میں اس بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ایوارڈ اور فالوورز بک رہے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتے۔
’مجھے لگتا ہے کہ میرے لیے تو ہر دن ہی ایک جدوجہد ہے۔ جب بھی کوئی پراجیکٹ ختم ہوتا ہے تو میں خوف محسوس کرتا ہوں کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ اگلا پراجیکٹ کیسا ہو گا، اس میں میرا کام کیسا ہو گا، کیا میں کردار کو اچھے طریقے سے نبھا سکوں گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا کہ ’دنیا بھر میں بہت سے اداکار ہیں جو ’انڈر ریٹڈ‘ (جنھیں اتنی پذیرائی نہیں مل سکی جس کے وہ مستحق) ہیں، انڈیا میں ایسا ہے اور پاکستان میں بھی ایسا ہے لیکن اللہ بھلا کرے عمران اشرف کا کہ وہ انڈر ریٹڈ سے نکل کر آئے اور ایسی پرفارمنسز دی کہ سب کی توجہ حاصل کر لی اس سے باقی اداکاروں کے لیے بھی دروازے کھلے، اب جیسے پری زاد میں احمد علی اکبر ہیں۔‘
’میں بہت کام اور محنت کرتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ میں دس لوگوں کے ڈرائنگ روم میں انڈر ریٹڈ تو ہوں گا لیکن ناظرین کے لیے میں انڈر ریٹڈ نہیں۔ اگر ناظرین مجھے میرے کرداروں کے نام سے بلا رہے ہیں تو میں بہت خوش قسمت ہوں۔‘
’یہ صرف باتیں ہیں کہ مختلف کنٹینٹ (مواد) چاہیے‘
اپنے ڈرامے ’وفا بے مول‘ کی مقبولیت پر بات کرتے ہوئے علی عباس نے کہا کہ ہم لوگ صرف باتیں کرتے ہیں کہ ہمیں مختلف کنٹینٹ (مواد) چاہیے۔
’ہمیں مختلف کنٹینٹ نہیں چاہیے، یہ میں دیکھنے والوں کی بات کر رہا ہوں۔ بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر مجھے یہ کہتے بھی ہیں کہ آپ اتنے مختلف کردار کرتے آئے ہیں تو اب آپ ایسے (روایتی) کردار کیوں کر رہے ہیں؟‘
علی عباس نے مزید کہا کہ ’لیکن یہی بکتا ہے، زیادہ تر لوگ یہی دیکھتے ہیں، وفا بے مول کی کامیابی کے پیچھے بھی یہی فارمولا ہے جو زیادہ تر ہٹ پراجیکٹس کا ہوتا ہے۔‘
ڈرامہ انڈسٹری میں کام کے حوالے سے مزید بات کرتے ہوئے علی عباس نے کہا کہ یہ ایک ’مجبور انڈسٹری‘ ہے۔
’یہاں پر سوائے چار یا پانچ ڈائریکٹر کے کوئی بھی ایسا نہیں جو اپنی مرضی کی کاسٹ کا انتخاب کر سکے۔ ڈائریکٹر کہتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے ہمیں چینل نے کہا ہے۔ میں انھیں مجبور ڈائریکٹر کہتا ہوں تو جب کیپٹن ہی مجبور ہو تو اداکار تو اس کے بعد آتا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
تاہم انھوں نے بتایا کہ ڈرامہ ’وفا بے مول‘ اور ’میرے اپنے‘ میں ان کے ڈائریکٹرز نے ان کے ساتھ بہت تعاون کیا۔
’میں نے ان ڈائریکٹرز کے ساتھ مل کر کوشش کی کہ چلو ہے تو یہ ایک جیسا کام لیکن اس کردار کو کچھ مختلف کر لیتے ہیں۔‘
’انڈسٹری میں اقربا پروری ایک فرضی بات ہے‘
سوشل میڈیا اور پاکستانی ڈراموں میں روایتی کرداروں سے خائف علی عباس البتہ انڈسٹری میں اقربا پروری کے رجحان کی موجودگی سے انکار کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے لگتا ہے کہ اقربا پروری ایک فرضی بات ہے۔ اگر یہ فرضی بات نہ ہوتی تو ابھیشک بچن بالی وڈ کے سب سے بڑے اداکار ہوتے کیونکہ وہ بالی وڈ کے سب سے بڑے سٹار کے بیٹے ہیں۔ ایک باپ اپنے بیٹے کو ایک یا دو بار تو سہارا دے سکتا ہے لیکن تیسری بار دیکھنے والے اسے مسترد کر دیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ایسا نہیں کہ باپ اس انڈسٹری میں اپنے بچوں کی مدد نہیں کر رہے۔ بینکر باپ بھی اپنے بچے کو بینک میں ایک بار انٹرن شپ دلا دیتا ہے لیکن اگر وہ قابل ہو گا تو نوکری اسے تب ہی ملے گی۔ اگر نوکری مل بھی جائے تو وہ ترقی تب ہی کرے گا جب اس میں قابلیت ہو گی۔‘
علی عباس کہتے ہیں ’میرے خیال میں اقربا پروری تلخ لوگوں کا لفظ ہے، جو اسے ایک عذر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔‘
’لوگ میرا موازنہ میرے والد کے ساتھ کرتے ہیں جو غیر منصفانہ ہے‘
علی عباس پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے نامور اداکار وسیم عباس کے صاحبزادے ہیں۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ اپنے والد سے اپنے کام کے بارے میں بات کرتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ’میں نے اپنے والد سے کبھی نہیں پوچھا کہ آپ نے میرا وہ ڈرامہ دیکھا، نو سال میں انھوں نے کوئی چار سے پانچ مرتبہ ہی مجھے کہا کہ تم نے اچھا کام کیا لیکن میں اپنے کام کے حوالے سے ان سے بہت کم ہی بات کرتا ہوں۔‘
’کبھی بہت مشکل میں آ جاؤں، کوئی کردار سمجھ نہ آئے تو ان سے معمول کی بات چیت میں پوچھ لیتا ہوں لیکن زیادہ تفصیلات میں نہیں جاتا کیونکہ اگر انھوں نے کچھ ایسا بتا دیا جو میں کر نہ سکا تو پھر زیادہ بے عزتی ہو گی۔‘
تاہم علی عباس کا کہنا ہے کہ لوگ میرا اکثر موازنہ میرے والد سے کرتے ہیں، جو غیر منصفانہ ہے۔
’ایک شخص کا 40 سال کا تجربہ ہے اور ایک ابھی آیا ہے اور آپ کہیں کہ یہ باپ کی طرح کا نہیں ہے۔ آخر وہ کیسے اپنے والد کی طرح ہو سکتا ہے وہ تو ابھی آیا ہے، ابھی تو انڈے سے چوزا نکلا ہے ابھی اس نے مرغی یا مرغا بننا ہے، تو اسے وقت دیں۔‘
جب علی عباس سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنے بچوں کو اس انڈسٹری میں آنے کی اجازت دیں گے تو انھوں نے کہا کہ ’میں بلکل چاہوں گا کہ اگر میرے بچے اس فیلڈ میں آنا چاہتے ہیں تو ضرور آئیں کیونکہ میں اپنی فیلڈ کی بہت عزت کرتا ہوں اور ان لوگوں کی بالکل عزت نہیں کرتا جو اس کی عزت نہیں کرتے۔
لیکن علی عباس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس انڈسٹری میں آنے سے پہلے ان کے بچوں کو اپنی پڑھائی ضرور مکمل کرنا ہو گی۔
’میں ہمیشہ سے اداکاری کرنا چاہتا تھا لیکن میں نے اپنی پڑھائی مکمل کی کیونکہ ڈگری آپ کا دماغ کھولتی ہے۔ جب آپ بڑے لوگوں کی بڑی باتیں پڑھتے ہیں تو آپ کو زندگی میں بہت مدد ملتی ہے اور بحیثیت اداکار بھی بہت مدد ملتی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’پڑھائی بہت ضروری ہے لیکن انگریزی بولنا اتنا ضروری نہیں۔ انگریزی تو دو سال امریکہ میں رہ کر آنے والے میٹرک فیل بھی بول لیتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا دماغ کھل گیا ہے یا وہ پڑھے لکھے انسان بن گئے۔‘
علی عباس نے یہ بھی کہا کہ ہمارے اداکاروں کے ساتھ بھی یہ المیہ ہے کہ جو انگریزی نہیں بولتا ہم اسے اونچے رتبے کا نہیں مانتے لیکن انڈسٹری کو چاہیے کہ وہ انھیں قبول کریں۔