آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کائلی جینر کی تصویر منال خان کی انسٹا سٹوری میں: ’منال خان واقعی یہ سوچتی ہیں کہ ہم میں سے کوئی کائلی جینر کو فالو نہیں کرتا‘
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
ایک ٹرے میں مختلف اقسام کے کٹے ہوئے پھل انتہائی نفیس انداز میں پڑے ہوں اور ساتھ روح کو تازہ کر دینے والا شربت بھی ہوں۔
کون نہیں چاہے گا کہ اس کے دن کا آغاز ’فروٹ پلیٹر‘ سے ہو۔ ایسے کسی ٹرے کی تصویر دیکھ کر ہی دل للچا جاتا ہے۔
شاید پاکستانی اداکارہ منال خان کا دل بھی ایسے ہی ایک ٹرے کو دیکھ کر للچا گیا ہو اور انھوں نے اسے اپنا سمجھ کر اس کی تصویر اپنے انسٹاگرام پر بطور سٹوری لگا دی۔
لیکن یہی بات ان کی سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کی وجہ بن گئی۔
تصویر دیکھنے والے سوشل میڈیا صارفین کو یہ تاثر ملا کہ شاید منال خان یہ کھانا کھا رہی ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔
یہ تصویر دراصل امریکی اداکارہ کائلی جینر نے اپنی انسٹا سٹوری پر ڈال رکھی تھی، اور منال خان نے وہاں سے ان کی تصویر اٹھا کر امریکی اداکارہ کا نام کاٹ کر اسے اپنی سٹوری پر لگا دیا تھا اور اس پر کچھ بھی درج نہیں کیا تھا جس سے یہی تاثر مل رہا تھا کہ شاید یہ منال خان ہی کھا رہی ہیں۔
صارفین جہاں منال خان کا مذاق اڑا رہے ہیں وہیں یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور مشہور شخصیات اپنی زندگی کو اصل زندگی سے کتنا الگ دکھاتے ہیں؟ اور یہ مشہور شخصیات اپنے فالوئرز کو اتنا بیوقوف کیوں سمجھتے ہیں؟
اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہم نے کچھ سوشل میڈیا انفلوئنسرز سے بات کی ہے لیکن اس سے قبل آئیے جانتے ہیں کہ لوگ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر کیا کہہ رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
'کائلی جینر برائے مہربانی منال خان کی سٹوری کی تصویر چوری مت کریں'
اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارف نیہا آرائیں نے سوال کیا کہ 'کیا منال خان واقعی یہ سوچتی ہیں کہ ہم میں سے کوئی بھی کائلی جینر کو فالو نہیں کرتا یا جانتا ہے؟'
حبا ابراہیم نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ 'لوگ سکون کریں، کیونکہ کائلی جینر اور منال خان ایک ساتھ ایک فلائٹ پر گلگت کا سفر کر رہی تھیں اور یہ پی آئی اے کا مینو ہے، ڈائیٹ کرنے والی مشہور شخصیات کے لیے ہے۔'
اس کے علاوہ بھی بہت سے ایسے صارفین بھی ہیں جنھوں نے طنزیہ انداز میں اداکارہ کائلی جینر کو سوشل میڈیا پر ٹیگ کر کے لکھا کہ 'برائے مہربانی آپ ہماری اداکارہ منال خان کی سٹوری کی تصویر چوری مت کریں۔'
سوشل میڈیا پر اداکارہ، مشہور شخصایات اور انفلوئنسرز اپنے فالوئرز کو سب اچھا اور خوبصورت دکھانے کے لیے ایسی چیزیں پوسٹ کرتے ہیں جن کو اگر حقیقی زندگی میں دیکھیں تو وہ ویسی نہیں ہوتی ہیں۔ یہی سوال لے کر ہم نے چند ایسے لوگوں سے باتکی جن کو سوشل میڈیا صارفین کی کثیر تعداد فالو کرتی ہے۔
’اگر کوئی یہ کہے کہ جو سوشل میڈیا پر دکھاتے ہیں وہ حقیقت ہے تو یہ جھوٹ ہے‘
عائشہ (فرضی نام) نے بی بی سی بات سے ایک ایسے موضوع پر بات کی جس سے وہ اور ان کا روزگار منسلک ہے۔
ہماری طرف سے ان سے سوال کیا گیا کہ کیا انفلوئنسرز کی حقیقی زندگی سوشل میڈیا زندگی سے مختلف ہوتی ہے؟ جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ تو 100 فیصد درست بات ہے۔
’اگر کوئی یہ کہے کہ جو سوشل میڈیا پر دکھاتے ہیں وہ حقیقت ہے تو یہ جھوٹ ہے۔ آپ مجھے بتائیں کہ کون سوشل میڈیا پر یہ بتاتا اور دکھاتا ہے کہ آج اس نے گھر میں ٹینڈے گوشت کھائے؟ یا کون ہر وقت میک اپ کرتا ہے۔‘
’ہاں اگر یہی وہ کسی ریستوران کے بلانے پر جائیں گے تو وہاں کے کھانے کی فوٹو تعریفوں کے ساتھ ضرور لگائیں گے کیونکہ یہی تو ہمارا کام ہوتا ہے۔ میں بھی جب ویڈیو بناتی ہوں تو تیار ہوتی ہوں، اپنے کمرے کے ایک کونے کو صاف کر کے اسے بہترین انداز میں دکھاتی ہوں۔‘
’گلیمر دیکھ کر ہی تو مداحوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے‘
عائشہ کے مطابق انفلوئنسرز اپنے مداحوں کو ایک ایسی خوبصورت دنیا دکھاتے ہیں جسے برقرار رکھنے کی استطاعت ایک عام آدمی میں نہیں ہوتی اور اس سے ہمارے فالوورز میں احساس کمتری اور محرومی پیدا ہوتی ہے۔
’زیادہ تر انفلوئنسرز ہر وقت ایسا لائف سٹائل دکھاتے ہیں جس میں صرف مہنگے کپڑے پہننا، بڑے ریستوران میں کھانا کھانا، باہر کے ملکوں میں گھومنا پھرنا اور دیگر ایسی سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں۔‘
عائشہ نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ لوگوں کو متاثر کرنے والی زیادہ تر سوشل میڈیا شخصیات اپنا فیس بک یا انسٹاگرام چلانے کے لیے فیک فالوورز اور ویوز تک بھی خریدتی ہیں تاکہ بڑے برانڈز انھیں زیادہ سے زیادہ کام دیں۔
’اس سے پیسے تو ملتے ہی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کو کافی پی آر پیکیجز بھی ملتے ہیں۔ جس سے فالوورز پر عام تاثر یہی جاتا ہے کہ یہ لوگ بڑے برانڈز کے لیے اہم ہیں اور ان کی زندگی کتنی اچھی ہے کہ انھیں سب کچھ مفت مل جاتا ہے۔‘
عائشہ نے کہا کہ حال ہی میں سوشل میڈیا پر کچھ اکاونٹس کی جانب سے بہت سی سوشل میڈیا شخصیات کے نام سامنے آئے جو انٹرنیٹ سے خوبصورت تصویریں نکال پر اپنے پیچ پر لگاتے ہیں۔
’ایسا کرنے سے وہ یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ دیکھیں ہم دنیا کے اس ملک میں پھر رہے ہیں اور مہنگی چیز کھا یا پہن رہے ہیں۔ اکثر تو ایسے انفلوئنسرز بھی ہیں جنھوں نے 300 والی چیز پہن کر کہا کہ یہ اتنے ڈالر کی ہے اور اس ڈیزائنر کی لیکن وہ پکڑے گئے۔‘
عائشہ کہتی ہیں کہ انفلوئنسرز کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے فالوورز لاکھوں میں ہوتے ہیں اور زیادہ تر انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین سیانے ہو چکے ہیں۔
’وہ آپ کو پکڑ بھی لیتے ہیں اور پھر ان دھوکوں کو وائرل بھی کر دیتے ہیں۔‘
کیا انفلوئنسرز کی سوشل میڈیا زندگی فالوئرز کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے؟
حال ہی میں سوشل میڈیا پر موجود کئی ایسے پیچ سامنے آئے جن پر فالوووز کی جانب سے ایسی شکایات سامنے آئیں کہ انھوں نے اپنی پسندیدہ شخصیت کی سٹوری یا پوسٹ دیکھ کر کوئی چیز خریدی لیکن وہ معیاری نہیں نکلی۔
ایسی ہی کچھ شکایت اکثر کھانوں اور ریستوران کے حوالے سے بھی سامنے آتی ہیں۔
شہرت رکھنے والے کئی انفلوئنسرز سے متاثر رمشا نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے دیکھا کہ ان کے کتنے وارے نیارے ہوتے ہیں۔
’میں تو سوشل میڈیا پر انھیں دن رات دیکھتی ہوں، لوگ انھیں ڈھیروں ڈھیر تحفے بھجتے ہیں اور کیا شاہانہ زندگی گزارتے ہیں۔ میں بھی چاہتی ہوں کہ ایسا ہی کوئی کام شروع کروں لیکن سمجھ نہیں آتا کہ یہ سب کرتے کیسے ہیں۔‘
اسی موضوع پر مزيد بات کرتے ہوئے انفلوئنسر ثوبیہ سلیم کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ انفلوئنسرز کی سوشل میڈیا زندگی فالوورز کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے لیکن یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ ان کی زندگی کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ بھی پڑھیے
’اگر میں اپنی ہی بات کروں تو مجھ سے جڑی زیادہ تر چیزیں ویسی ہی ہیں جو میرے سوشل میڈیا اکاونٹ پر نظر آتی ہیں۔ زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم اچھی اور آرام دے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ ایسا نہیں۔ کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ ایک پوسٹ یا ویڈیو کو بنانے میں کتنی محنت درکار ہوتی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا ’یہی نہیں بلکہ یہاں میں یہ بھی کہنا چاہوں گی کہ ہمیں ہر چیز مفت دستیاب نہیں ہوتی۔ اگر ہم کسی برانڈ کے لیے کام کرتے ہیں تو ہماری یہی کوشش ہوتی ہے کہ ہم اپنے فالوورز کو وہی رائے دیں جو سچ ہے۔‘