آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سوشل میڈیا انفلوئنسرز جو فراڈ کے گُر اور لوگوں کی معلومات بیچتے ہیں
- مصنف, کافوئی اوکپٹٹا
- عہدہ, بی بی سی پینورما
سوشل میڈیا پر ایک نئی قسم کے انفلوئنسرز (متاثر کرنے والے افراد) نظر آ رہے ہیں۔ یہ انفلوئنسرز ملبوسات کی برانڈز اور لائف سٹائل کی مصنوعات کو فروغ دینے کے بجائے فراڈ یعنی دھوکہ دہی کو فروغ دے رہے ہیں۔
اپنے چہرے چھپائے اور ہاتھوں میں نقد رقم لیے وہ اُس کی نمائش کرتے ہیں اور اس میدان میں قدم رکھنے والے نئے افراد کو دھوکہ دہی کے گُر بتلا کر لُبھاتے ہیں۔
آپ کو لگتا ہے کہ ان جعل سازوں اور اُن کی غیر قانونی مصنوعات کا سراغ لگانا مشکل ہو گا۔ جی، ایک وقت میں ایسا تھا۔ وہ ڈارک ویب کے پیچھے چھپے ہوئے تھے، مگر اب ایسا نہیں ہے۔
میں نے بی بی سی پینوراما کی تحقیقات کے سلسلے میں دریافت کیا کہ ان جعل سازوں کے ساتھ سودے کرنا اور دھوکہ دہی کے گُر آن لائن خریدنا کتنا آسان تھا۔ اس دوران میں نے ایک گمنام انفلوئنسر کو بے نقاب بھی کیا جو یہ گُر فروخت کر رہا تھا۔
آن لائن ریٹیل پر دھوکہ دینے کے لیے سوشل میڈیا پر یہ لوگ کسی چیز کو ’کلک‘ کرنے کو کہتے ہیں جو بظاہر ایک معصومانہ فعل لگتا ہے۔
لیکن برطانیہ میں پولیس کے ذریعہ چلائی جانے والی ایکشن فراڈ سروس نے اس کی تعریف اس طرح کی ہے کہ یہ دھوکے سے کسی پر مالی یا دوسری برتری حاصل کرنا ہے اور ایسا کرنے والوں کے لیے دس سال تک قید کی سزا ہے۔
جن گائیڈز کی تجارت کی جا رہی ہے انھیں حربوں یا گُر کے نام سے جانا جاتا ہے۔
وہ بینکوں، خوردہ فروشوں اور یہاں تک کہ حکومت کے یونیورسل کریڈٹ سسٹم کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اور اس طرح وہ عوام کے جیبیں خالی کر سکتے ہیں۔
اور اس کے لیے وہ سب " fullz" (فلز) یعنی کسی کی مکمل معلومات پر انحصار کرتے ہیں۔
یہ کسی غیر منسلک شخص کی ذاتی تفصیلات ہوتی ہیں، جس میں عام طور پر کسی فرد کا نام، فون نمبر، پتہ اور بینک کی تفصیلات شامل ہوتی ہیں۔
فِلز کے ہاتھ میں آ جانے کے بعد فریب کرنے والے آن لائن خریداری یا کسی اور کے نام پر قرض لینے کے لیے گائیڈز میں درج مراحل پر عمل کر سکتے ہیں۔
پہلا سوال یہ ہے کہ یہ نجی تفصیلات کس طرح گردش میں آتی ہیں؟
یہ اکثر فشنگ سکیم (گھپلے) کے ذریعے حاصل ہوتی ہیں۔ ان فریبی ای میلز یا ٹیکسٹ پیغامات کے بارے میں سوچیں جس پر جائز ذرائع سے ہونے کا گمان ہوتا ہے اور یہ لوگوں کو اپنی ذاتی معلومات شیئر کرنے کے جال میں پھانس لیتی ہیں۔
بعض اوقات یہ دھوکہ کرنے والے خود فشنگ کی سرگرمیاں کرتے ہیں یا کسی دوسرے سے کراتے ہیں یا بعض اوقات وہ دوسروں کے ذریعے حاصل کردہ معلومات کو اڑا لیتے ہیں۔
کسی شخص کے 'فلز' کا ناجائز استعمال کر کے یعنی اس کی تفصیلات کا استعمال کرکے خریداری کرنے سے اس کا کریڈٹ سکور خراب ہو سکتا ہے۔ خراب کریڈٹ سکور سے زندگی بدلنے والے اثرات ہو سکتے ہیں۔ اس سے آپ کے قرض لینے، یا رہن حاصل کرنے، یا نیا بینک اکاؤنٹ کھولنے کے امکانات متاثر ہوسکتے ہیں۔
میں نے ایک دھوکہ باز سے رابطہ کیا جو اپنی خدمات کی سوشل میڈیا پر تشہیر کر رہا تھا۔ اس نے ایک میسجنگ ایپ کے ذریعے مجھے ایک جعلی ویب سائٹ بنانے کی پیشکش کی اور لوگوں کی ذاتی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے میری جانب سے چار ہزار فشنگ ٹیکسٹ بھیجنے کی پیشکش کی۔ اس کی فیس 115 پاؤنڈ تھی۔
ایک مختلف انسٹاگرام پروفائل پر میں نے دیکھا کہ ایک سکیمر نے کچھ 'فِلز' نمونے کے طور پر پوسٹ کیے تھے اور لوگوں کو چوری کی مزید تفصیلات کے لیے اپنی جانب راغب کر رہا تھا۔ میں نے اس کی فراہم کردہ معلومات میں سے چند فون نمبروں پر کال کرنے کا فیصلہ کیا۔
کسی اجنبی کا رد عمل سننا مشکل کام تھا بطور خاص ایسی صورت میں جب میں نے انھیں ان کے نام، پتے، کارڈ کی تفصیلات بتائیں اور یہ بھی بتایا کہ یہ معلومات کس طرح آن لائن پر استحصال کے لیے موجود ہیں۔
میں نے بعد میں اس دھوکے کا شکار ہونے والے اور آکسفورڈ سے تعلق رکھنے والے ایک متاثرہ شخص وِلسن سے ملاقات کی۔ انھوں نے بتایا کہ اپنی تمام تفصیلات آن لائن دیکھنا کتنا خوفناک تھا کیونکہ اس سے انھیں یہ احساس ہوا کہ وہ کتنے غیر محفوظ ہیں۔
تو اس دھوکہ دہی کے پیچھے کام کرنے والے زیادہ لوگ کیوں نہیں پکڑے جا رہے ہیں؟
سائبر کرائم کے ماہر جیک مور کا کہنا ہے کہ تفتیش کاروں کو مجرموں کی تلاش کے لیے ایک جدوجہد کا سامنا ہے۔
وہ کہتے ہیں 'گمنام اکاؤنٹس کی چھان بین کے لیے نہ صرف تھوڑی معلومات ملتی ہیں بلکہ کوئی بھی سراغ نہیں ہوتا ہے۔ اپنے پیچھے وہ اپنا کوئی ڈیجیٹل فٹ پرنٹ نہیں چھوڑتے۔ اس لیے ان کی تحقیقات کرنا تقریباً ناممکن ہے۔'
لیکن ایک انفلوئنسر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی کے کچھ عناصر کو آن لائن شیئر کرتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ کوئی انفلوئنسر بہت سارے نشانات چھوڑ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
وہ اپنے آپ کو ’ٹینکز‘ کہتا ہے اور آن لائن ریپنگ کی اپنی ویڈیوز میں وہ فخریہ کہتا ہے: 'میں لندن کا سکیمر ہوں۔ میں اسے دیکھتا ہوں، میں اسے حاصل کرنا چاہتا ہوں، میں اس پر کلک کرتا ہوں۔'
وہ دھوکہ دہی کے رہنما اصول یا طریقے بیچتا ہے۔
میں نے دھوکہ دہی میں دلچسپی رکھنے اور اس کے بارے میں سیکھنے والے کے طور پر خود کو پیش کیا اور انسٹاگرام کے ذریعے ٹینکز کو اس کے طریقوں کے متعلق پیغام بھیجا۔ ہم نے اس کی ٹاپ گائیڈ 100 پاؤنڈ میں خریدی۔
یہ میرے پاس ایک لنک کے ذریعے پہنچی جو کہ سوشل میڈیا کے ذریعے بھیجی گئی تھی اور کلاؤڈ سٹوریج سسٹم پر اس کی 43 فائلیں تھیں۔
ان فائلوں میں آن لائن خوردہ فروشوں کو دام فریب میں لانے کے بارے میں تفصیلی تکنیک تھیں۔ ان میں مستقبل کے مجرموں کو ایسی ویب سائٹس پر جانے کی ہدایت تھی جہاں سے وہ 'فلز' خرید سکتے ہیں۔
ہم نے اس چھپے ہوئے جعل ساز کو جاننے کی کوشش کی کہ وہ کون ہے۔
پینوراما نے ٹینکز کے ذریعے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی فوٹیج کا تجزیہ کیا اور محسوس کیا کہ اس نے گمنام رہنے کی کوشش میں بہت سے اشارے اور نشانات چھوڑے ہیں۔
ہم نے ایک حوالے میں شمالی لندن کے ویمبلی کو اس کے مقامی علاقے کے طور پر پایا اور ایک میں اس نے ایک یونیورسٹی سے معاشیات اور فائنانس کی تعلیم حاصل کرنے کا ذکر کیا تھا جبکہ ایک میں اس کی کار کی نمبر پلیٹ کی ایک جھلک تھی۔
ایک کلپ میں ایک مخصوص سیاہ اور بھورے رنگ کا قالین بھی نمایاں تھا، اور ہم ویمبلی کے علاقے میں طالب علموں کی رہائش گاہ کے ایک اشتہار میں اس کا ایک میچ ڈھونڈنے میں کامیاب ہوئے۔
ہم اس بلاک تک گئے، وہان گاڑی کو کھڑی دیکھا اور انتظار کرنے لگے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ ایک آدمی گاڑی کے قریب پہنچ رہا ہے جس نے بالکل وہی ٹریک سوٹ پہن رکھا ہے جو اس دن ایک سوشل میڈیا ویڈیو میں ٹینکز نے پہنا ہوا تھا۔
ہم نے نقاب کے پیچھے چھپے دھوکے باز کو بے نقاب کر دیا تھا لیکن وہ آخر تھا کون؟
اس کی سوشل میڈیا پوسٹس گمنام تھیں، لیکن ہم نے دریافت کیا کہ اس کے گانے ایپل میوزک پر درج تھے۔ اس کے ایک ٹریک پر ٹینکز کے نام پر کاپی رائٹ درج نہیں تھا بلکہ بظاہر اس کے اصلی نام لیوک جوزف پر درج تھا۔
بات وہیں پر ختم نہیں ہوئی۔ ہم نے ٹینکز کے آفیشل ایڈریس سے بھیجی گئی ایک ای میل دریافت کی جس میں اسی نام کا حوالہ تھا۔ یہاں تک کہ ٹینکز کے نام سے ای بے پر ایک اکاؤنٹ تھا، جہاں رابطے کے پتے کے طور پر لیوک جوزف کا پتہ درج تھا۔
بالآخر ہم نے دریافت کیا کہ ویمبلی میں طالب علموں کے اسی رہائشی بلاک میں اسی نام کا کوئی شخص رہتا ہے۔ ایسا لگا کہ ٹینکز لندن کا طالب علم ہے جسے لیوک جوزف کہتے ہیں۔
ہم نے لیوک جوزف اور ٹینکز سے رابطہ کیا، لیکن ہمیں جواب نہیں ملا۔
جب پینوراما نے ایسے شخص اور مواد کے بارے میں مطلع کیا تو ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور سنیپ چیٹ نے اپنے پلیٹفارم سے ان کے اکاؤنٹس کو ہٹا دیا۔
اس کے بعد اس نے ایک نیا ٹک ٹاک اکاؤنٹ بنایا ہے جہاں وہ اپنی زندگی کے بارے میں پوسٹ کرتا رہتا ہے۔
تو پھر حکام آن لائن دھوکہ دہی اور اسے فروغ دینے والوں کے خلاف کیا کر رہے ہیں؟
رواں سال کے شروع میں حکومت نے غیر قانونی اور نقصان دہ ڈیجیٹل مواد کو کم کرنے کے منصوبوں کا انکشاف کیا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ کمیونیکیشن ریگولیٹر 'آف کام' سوشل میڈیا کی نگرانی کرے اور بڑی ٹیک کمپنیوں کو ذمہ دار ٹھہرائے۔
دھوکہ دہی سے متعلقہ مواد کو پہلے اس آن لائن ’سیفٹی بل‘ میں شامل کرنے کا ارادہ نہیں تھا لیکن آخری لمحات میں حکومت نے اپنا ارادہ بدل لیا۔ لفظ 'فراڈ' اب بھی اس میں سے غائب ہے لیکن اس بل کے 'غیر قانونی مواد' والے فقرے میں اس کا احاطہ ہو جاتا ہے۔
بعض افراد نے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ یہ خاص طور پر اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔
فراڈ کے معاملات میں مہارت رکھنے والے وکیل ارون چوہان کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں یہ بل 'فراڈ کے خلاف جنگ کے مقاصد کے حصول کے لیے موزوں نہیں ہے۔'
لیکن ایک حکومتی ترجمان نے پینورما کو بتایا کہ نیا قانون گھپلوں سے 'لوگوں کے تحفظ میں اضافہ' کرے گا اور کہا کہ وہ 'دھوکہ دینے والوں کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہیں' اور 'ان کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش میں ہیں جن کا وہ استحصال کرتے ہیں۔'
ٹک ٹاک، فیس بک، سنیپ چیٹ، انسٹاگرام اور یوٹیوب سب نے ہمیں بتایا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر فراڈ کی اجازت نہیں دیتے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ فراڈ کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور مجرمانہ مواد پر مسلسل قدغن لگا رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا وہ اسے پوسٹ کیے جانے کے بعد زیادہ تیزی سے اپنے پلیٹفارم سے ہٹا سکتے ہیں؟