’سماجی کارکنوں کو مدمقابل لانے والے‘ امریکی ریئلٹی شو پر پرینکا چوپڑا شرمندہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بالی وڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا نے امریکی ایکٹوزم ریئلٹی شو 'دی ایکٹیوسٹ' میں بطور جج کردار ادا کرنے پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اس شو نے 'غلط فہمی' پیدا کی ہے۔
دی ایکٹیوسٹ' صحت، تعلیم اور ماحولیاتی مسائل پر کام کرنے والے لوگوں کا ایک ایسا چیلنج شو ہے جس میں حصہ لینے والے جی-20 ممالک کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں۔
شو کے فارمیٹ پر اس کے پروڈیوسرز نے بھی معافی مانگی ہے۔
جب اس شو کو پیش کرنے والوں کے ناموں کا اعلان کیا گیا تو اس کے بارے میں سوشل میڈیا پر کافی احتجاج ہوا۔ پریانکا چوپڑا کا کہنا ہے کہ انھوں نے احتجاج کی آوازیں 'سنیں۔'
سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے اپنے ایک پیغام میں انھوں نے لکھا: 'پچھلے ہفتے میں نے آپ کی آواز سنی اور میں اس کی طاقت سے متاثر ہوئی۔ مسئلے کو سمجھنے میں شو سے غلطی ہوئی ہے اور مجھے افسوس ہے کہ اس میں میری شرکت سے آپ میں سے بہت سے لوگوں کو تکلیف پہنچی ہے۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
Instagram پوسٹ کا اختتام, 1
انھوں نے مزید لکھا کہ 'اس شو کا ارادہ ان لوگوں کو سامنے لانا ہے جو پردے کے پیچھے رہتے ہوئے بڑے خیالات پر انتھک محنت کرتے ہیں۔ اس کا مقصد ان کے کام اور ان سے ہونے والے اثرات کو سامنے لانا ہے۔'
اس شو پر احتجاج کیوں؟
شو کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ اس شو کا فارمیٹ مختلف ایشوز پر کام کرنے والے لوگوں کے درمیان مقابلہ پیدا کرنا ہے اور ایسا کرنے سے اہم مسائل سے توجہ ہٹاکر ثانوی مسائل کو ریئلٹی ٹی وی پر عالمی سطح پر دکھانا ہے۔
کلائمیٹ جسٹس کی پروفیسر نوامی کلین نے اس کے متعلق خبر کو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: 'میں پریشان ہوں کہ کیا یہ اس بات کا پردہ فاش کرنے کا مارکسی طریقہ کار ہے کہ کس طرح پیسے اور توجہ کی خاطر سماجی کارکن ایک دوسرے کے خلاف ہوجاتے ہیں اور بنیادی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں؟ یا پھر یہ دنیا کا اختتام ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہTwitter
اسی طرح صحافی مانوی نے لکھا: 'صبح بخیر! آج دہلی میں بارش کا دن ہے اور میں یہ سوچ رہی ہوں کہ پرینکا چوپڑا جوناس آخر کب سودھا بھاردواج اور ورور راؤ پر کچھ بولیں گی؟ آپ جانتے ہیں کہ یہ دونوں دہائیوں سے ایکٹیوزم کرنے والے معزز سرگرم کارکن ہیں اور وہ اسی وجہ سے جیلوں میں ہیں کیونکہ انڈیا میں ایکٹیوزم کی حالت خستہ ہے۔'

،تصویر کا ذریعہTwitter
بہر حال اس طرح کی بہت ساری تنقید سامنے آئی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ جس کا خود کسی ایکٹیوزم سے کوئی تعلق نہ ہو وہ کس طرح جج ہو سکتا ہے۔
اس شو کی شوٹنگ مکمل ہوچکی ہے اور اب اسے ایک دستاویزی فلم کی شکل دی جارہی ہے۔ دستاویزی فلم میں وہی کارکن شامل ہوں گے جنھوں نے شو میں حصہ لیا ہے۔
'ہم ایکٹیوسٹ سے معذرت خواہ ہیں'
امریکی ٹی وی نیٹ ورک سی بی ایس اور شو کے پروڈیوسرز لائیو نیشن اور گلوبل سیٹیزن نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شو کا فارمیٹ ایکٹیوسٹ کو 'ان کے کام سے بھٹکاتا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گلوبل سیٹیزن نے کہا: 'عالمی سطح پر ایکٹیوزم باہمی تعاون اور شراکت پر مبنی ہے نہ کے مقابلے پر۔ ہم ایکٹیوسٹس، پریزنٹرز اور بڑی ایکٹیوسٹ برادری سے معذرت خواہ ہیں۔ ہم نے مسائل کو سمجھنے میں غلطی کی۔
'یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس پلیٹ فارم کو دنیا میں تبدیلی لانے کے لیے انتہائی مؤثر طریقے سے استعمال کریں اور ایسے کارکنوں کی کہانیاں پوری دنیا کے سامنے لائیں جنھوں نے پوری زندگی ایک مقصد پر کام کیا ہے۔'
یہ بھی پڑھیے
گلوبل سیٹیزن، سی بی ایس اور لائیو نیشن نے کہا: 'یہ واضح ہے کہ جس شو کا فارمیٹ اعلان کیا گیا تھا وہ ان کارکنوں کو ان کے کام سے ہٹاتا ہے۔ عالمی تبدیلی کے لیے جدوجہد مقابلے پر مبنی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ عالمی سطح پر متحد کوششیں ہونی چاہییں۔'
'کارکن بغیر نام کے کام کرتے ہیں'
بیان میں کہا گیا ہے کہ 'پوری دنیا میں ایکٹیوسٹس اور کمیونٹی لیڈرز ہر روز انتھک محنت کرتے ہیں، وہ نام و نمود کی خواہش کے بغیر لوگوں، ہمارے سماج اور ہماری زمین کی حفاظت کے لیے محنت کرتے ہیں۔
'ہم امید کرتے ہیں کہ ان کے کام کو دنیا کے سامنے لانے سے ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ان کے کام میں شامل ہونے کی ترغیب دے سکیں گے۔ ہم دنیا میں ایسے کارکنوں کی زندگی، ان کی جدوجہد اور ان کے مشن کو سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔'
اس شو کا اعلان گذشتہ ہفتے کیا گیا تھا۔ اس میں ججز کے طور امریکی گلوکار اور نغمہ نگار اشر، امریکی اداکارہ جولیانا ہوف اور انڈین اداکارہ پرینکا چوپڑا شامل تھیں۔
شو کے بارے میں مزید معلومات منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اس کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا۔ اس شو کا موازنہ 'دی ہنگر گیمز' اور 'بلیک مرر' جیسی فلموں سے کیا جانے لگا۔
اس کے بعد جولینا ہوف نے انسٹاگرام پر شو کے بارے میں پوسٹ کیا اور کہا کہ 'شو توقع کے مطابق اپنے اثرات قائم کرنے میں ناکام رہا۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
Instagram پوسٹ کا اختتام, 2
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے اصل مسائل سے توجہ ہٹتی ہے جبکہ بعض لوگوں نے ججز کے انتخاب کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
صحافی سنکل سوناوانے نے لکھا: 'ہم لوگ ایکٹیوسٹ شو میں پرینکا چوپڑا کی شرکت پر ہنس رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایکٹیوزم کو اس حد تک نیچے پہنچا دیا گیا ہے۔ اب یہ معمول ہو گیا ہے کہ امیر والدین کے بڑی یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے بچے اپنے انسٹاگرام ایکٹیوسٹ پیجز کا استعمال کرتے ہوئے آئی وی لیگ میں شامل ہو رہے ہیں۔ ایکٹیوزم اب تبدیلی لانے کے بجائے صرف کریئر بنانے کا ذریعے بن گیا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہTwitter
ڈارکلن گروسو نامی ایک صارف نے لکھا کہ آخر جولیانے ہوف اور پرینکا چوپڑہ ایکٹیوسٹس کو کس طرح جانچیں گی جبکہ انھیں خود ہی ایکٹیوزم کے بارے میں خاطر خواہ علم نہیں ہے اور یہ انتہائی پیچیدہ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
برطانوی اداکارہ اور ایکٹیوسٹ جمیلہ جمیل نے لکھا کہ 'اس شو پر جو ناقابل یقین خرچ وہ کر رہے ہیں اور ایکٹیوزم کو ایک گیم شو میں بدلنے اور اس کے عشر عشیر پیسے کو انعامی رقم میں دینے کے بجائے کیا وہ یہی پیسہ ایکٹیوسٹوں کے مسائل کے حل کے لیے نہیں دے سکتے ہیں؟ لوگ مر رہے ہیں۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس کے جواب میں برائن ہارٹ نے لکھا کہ 'اس میں کوئی شک نہیں لیکن آپ اس میں شرکت کرنے والوں کو ملنے والے رابطے کی قدرو قیمت سے انکار نہیں کر سکتے ہیں۔ ان کو پرائم سکرین پر وقت دینا تاکہ وہ اپنے مقاصد کی تشہیر کر سکیں اس کا بھی فائدہ ہوتا ہے۔'














