ہم ٹی وی کے ڈرامہ لاپتہ کے اداکار مرزا گوہر رشید کا انٹرویو: ’ہمیں عورت کی تکلیف کو حقیقت بنا کر پیش کرنے کے بیانیے کو بدلنے کی ضرورت ہے‘

ڈرامہ لاپتہ

،تصویر کا ذریعہHUM TV

،تصویر کا کیپشناس ڈرامے میں گوہر رشید دانیال کا کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ اداکارہ سارہ خان ان کی بیوی 'فلک' کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس ڈرامے کی دیگر کاسٹ میں عائزہ خان اور علی رحمان خان ہیں

'ٹی وی پر ہم عورت کی خودمختاری پر بات کیوں نہیں کرتے؟ ہم یہ کیوں نہیں دکھاتے کہ عورت اپنا دفاع خود کر سکتی ہے، اسے کسی مرد کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم کسی ڈرامہ سین میں یہ کیوں نہیں دکھاتے کہ اگر مرد نے عورت کو تھپڑ مارا ہے تو عورت بھی پلٹ کر مرد کو زور دار تھپڑ رسید کرے۔'

یہ الفاظ اداکار مرزا گوہر رشید کے ہیں جن کا ڈرامہ 'لاپتہ' آج کل سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے اور اس کی وجہ اس ڈرامے میں دکھائے جانے والا ایک سین ہے جس میں گوہر رشید کا کردار اپنی بیوی کو تھپڑ مارتا ہے تو اداکارہ سارہ خان انھیں جوابی تھپڑ بھی رسید کرتی ہیں (ہم ٹی وی نیٹ ورک کے اس ڈرامے میں گوہر رشید دانیال کا کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ اداکارہ سارہ خان ان کی بیوی 'فلک' کا کردار ادا کر رہی ہیں)۔

لاپتہ ڈرامے کا یہ سین نشر ہونے پر سوشل میڈیا پر آنے والا ردعمل بالکل بھی یکطرفہ نہیں تھا۔ کچھ صارفین نے سارہ خان کے اس ’دلیر کردار‘ کی حمایت کی تو کئی نے اس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’تشدد کا جواب تشدد نہیں ہوتا‘ اور ’یہ متاثرہ شخص کو قصور وار قرار دینے کے مترادف ہے۔‘

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام

یہ تبصرے اتنے زیادہ تھے کہ خود اداکار گوہر رشید کو اس بحث میں کودنا پڑا جنھوں نے اپنی انسٹاگرام اور فیس بک پوسٹ پر یہ تسلیم کیا کہ ماضی میں بدقسمتی سے خواتین پر تشدد کے سین اکثر ٹی وی پر دکھائے جاتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ خواتین کسی خوف کے بغیر فلک (سارہ خان کے کردار) جیسا راستہ اپنا سکتی ہیں۔

گوہر کی سوشل میڈیا پر اس پوسٹ پر جیسے لفظوں کی جنگ شروع ہو گئی ہے کہ آیا کہ یہ سین اور تھپڑ دکھانے لائق تھے بھی یا نہیں۔

گوہر رشید

،تصویر کا ذریعہhttps://www.facebook.com/gohar.rasheed

سیاستدان شرمیلا فاروقی نے اس سین پر کڑی تنقید کی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ 'تشدد کا شکار بننا کوئی آپشن نہیں ہے۔ خواتین کے پاس مرد پر ہاتھ اٹھانے یا اسے چھوڑ دینے کا راستہ نہیں ہوتا۔ ہمارے معاشرے میں گھریلو تشدد، ریپ، تیزاب حملے اس لیے ہوتے ہیں کہ متاثرہ خواتین مالی و جسمانی طور پر بے یار و مددگار ہوتی ہیں۔ اور جو کوئی ایسا کرنی کی جرات کرتیں ہیں یا تو خاموش کروا دیا جاتا ہے، طلاق دے دی جاتی ہے یا قتل کروا دیا جاتا ہے اور یہ شیطانی کھیل کبھی ختم نہیں ہوتا۔

جس کے جواب میں گوہر رشید نے لکھا کہ ’پھر ہم کیسے اس شیطانی کھیل کو ختم کر سکتے ہیں، خواتین یہ سب ناانصافیاں برداشت کرنے کی وجہ ان کا خوف، رواج اور قدامت پسندی ہے جو ہمارے غیر مہذب معاشرے نے بنائے ہیں۔ صرف ہم یہ سوچ اور نظریہ تبدیل کر کے ہی اس شیطانی چکر سے انھیں آزاد کروا سکتے ہیں۔ اور یہ تھپڑ والا سین اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ عورت اپنے حق کے لیے کھڑی ہو کر، تشدد کو روک کر اس چکر کو توڑ سکتی ہے۔‘

ٹوئٹر

،تصویر کا ذریعہ@Faryal_ishfaq

جبکہ پاکستانی ڈراموں پر ریویو دینے والی لبنہ فرہاد نے اس سین پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ سین دیکھ کر شاید مشرقی خواتین کو بڑا مزہ آیا ہو گا۔ مگر یہ مزہ صرف دو سیکنڈ کا تھا۔‘

جبکہ ایک ٹوئٹر صارف نے اس سین کے بارے میں لکھا کہ ’ہر مرتبہ جب ایک عورت اپنے حق کے لیے کھڑی ہوتی ہے تو وہ انجانے میں تمام عورتوں کے حق کے لیے کھڑی ہوتی ہے۔ لاپتہ میں فلک نے بہت شاندار رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

جبکہ فریال نامی ٹوئٹر صارف نے اپنی رائے دیتے ہوئے لکھا کہ ’ اس ڈرامے میں بالآخر ہمارے معاشرے کے ایک اہم مسئلہ کو اجاگر کیا گیا ہے، یہ سین یہ بتاتا ہے کہ کیوں عورت کو تعلیم یافتہ، خودمختار اور بااعتماد ہونا چاہیے۔‘

اس ساری گرما گرم بحث کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صحافی براق شبیر نے بی بی سی کے لیے اداکار گوہر رشید کا خصوصی انٹرویو کیا ہے جس میں انھوں نے اس سین کے متعلق بات کی ہے۔

گوہر کہتے ہیں ’پہلی دفعہ میں نے ڈرامے میں ایک عورت پر ہاتھ اٹھایا ہے۔ مجھے جب یہ بتایا گیا کہ مجھے ایک خاتون پر ہاتھ اٹھانا ہے تو میں نے پہلے انکار کر دیا لیکن جب مجھے سین سنایا گیا تو میں نے اس کو اس لیے قبول کیا کیونکہ میں یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ عورت کسی سے کمزور نہیں ہے۔ اس لیے میں نے یہ سین کیا۔‘

گوہر

گوہر رشید کہتے ہیں کہ ٹی وی سب سے زیادہ گھریلو عورت دیکھتی ہے، ہمارے ہاں ٹی وی ڈراموں کا بیانیہ عورت کی بے بسی اور اس پر ہونے والے ظلم کے گرد گھومتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'ہم ٹی وی پر عورت کی خودمختاری پر بات کیوں نہیں کرتے، ہم یہ کیوں نہیں دکھاتے کہ عورت اپنا دفاع خود کر سکتی ہے اسے کسی مرد کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم کسی ڈرامہ سین میں یہ کیوں نہیں دکھاتے کہ اگر مرد نے عورت کو تھپڑ مارا ہے تو عورت بھی پلٹ کر مرد کو زور دار تھپڑ رسید کرے۔'

یہ بھی پڑھیے

گوہر کہتے ہیں کہ 'الیکٹرونک میڈیا لاشعوری طور پر ناظرین پر اثر انداز ہوتا ہے کہ جو دکھایا جا رہا ہے وہ ٹھیک ہے اور ہم عورت کی تکلیف کو ایک حقیقت بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ ہمیں اس بیانیے کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے اپنے ناظرین کو سکینڈلز، سنسنی اور منفی کرداروں کا عادی بنا دیا ہے۔ ہمیں اپنے ناظرین کو دوبارہ سے سیکھانا پڑے گا کہ عورت کا معاشرے میں ایک مضبوط مقام ہے۔ جتنی ضرورت عورت کو مرد کی ہے اتنی ہی مرد کو بھی ہے۔'

انھوں نے ٹی وی ڈراموں کے معاشرے پر پڑنے والے اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم نے گھریلو عورت کے لیے یہ قابل قبول بنا دیا ہے کہ اگر مرد آ کر اسے تھپڑ مار دیتا ہے تو یہ عام بات ہے جو کہ بہت غلط ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ’اب ہمیں یہ تعلیم دینے کی ضرورت ہے کہ ضروری نہیں کہ عورت ہمیشہ مظلوم ہی ہوں، کسی پر انحصار کر رہی ہو، وہ ایک مضبوط شخصیت کی مالک اور خود مختار ہو سکتی ہے۔‘

گوہر رشید کہتے ہیں ’بطور اداکار یہ کوشش کی کہ میں اپنے ڈراموں میں کسی بھی عورت پر ہاتھ نہ اٹھاؤں۔ میرے اس فیصلے پر بہت بحث بھی ہوئی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایک اداکار ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ تمام حدیں عبور کر جائیں، آپ کو کہیں نہ کہیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔‘

’جب میں نے ڈراموں کے لیے یہ شرط رکھی تو مجھے بہت سے ڈراموں کی کاسٹ سے نکال دیا گیا۔ لیکن میں سمجھتا ہو کہ سماجی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ اگر میں کوئی بیانیہ پیش کرنا چاہتا ہوں تو اس کے نتائج مجھے بھگتنا پڑیں گے۔‘

پاکستانی معاشرے میں خواتین کے لیے سکڑتی جگہ اور ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم معاشرے میں کیا مثال قائم کر رہے ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے میں بچ نکلوں کا، معاشرے میں احتساب کا کوئی خوف نہیں ہے۔

گوہر رشید

’ہم نے لاشعوری طور پر سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے یہ بیانیہ بنا لیا ہے کہ ایک لڑکی یا عورت اکیلی کہیں نہیں جا سکتی، یہ ایک خوفناک بات ہے اور اگر ہمیں اس صورتحال کا اب بھی ادراک نہ ہوا تو اگلی نسل اس سے بدتر معاشرے میں ہو گی۔‘

ان سے پوچھا گیا کہ انڈسٹری میں اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ خواتین اداکاراؤں کے لیے خوبصورت کے معیار مقرر ہوتے ہیں۔۔۔ کیا مردوں کے معاملے میں بھی ایسا ہے؟

اس حوالے سے گوہر کہتے ہیں کہ بالکل ایسا ہے اور اس میں انڈسٹری کا قصور نہیں معاشرے میں خوبصورتی کے معیار ہیں۔ ’میں اپنے چہرے پر موجود نشانات کا علاج کروا سکتا ہوں 'مگر مجھے میرے ان نشانوں سے پیار ہے۔ یہ میری شناخت بتاتے ہیں، انھیں رکھنا میرا اپنا انتخاب ہے اور اس کے پیچھے ایک وجہ ہے۔'

وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ 'جب میں شروع شروع میں ٹی وی پر آیا تو مجھے ایک مداح کا میسج آیا کہ میرے چہرے پر بھی آپ جیسے نشانات ہیں اور میں بھی اداکار بننا چاہتا ہوں مگر اسی کمپلیکس میں رہتا تھا کہ ان نشانوں کے ساتھ میں کبھی اداکاری نہیں سکتا مگر گوہر بھائی آپ کو دیکھ کر مجھے ہمت ملی ہے۔'