’تیری یاد‘: نوے دن میں مکمل ہونے والی پاکستان کی پہلی فلم جو بُری طرح فلاپ ہوئی

،تصویر کا ذریعہTeri Yaad Poster/ Pakistan Chronicle
- مصنف, عقیل عباس جعفری
- عہدہ, محقق و مورخ، کراچی
’تصویر (فلم) دیکھنے کے بعد ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ڈائریکٹر صاحب بہت قابل آدمی ہیں۔ وہ اپنے فن کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ نہ سمجھتے ہوتے تو اس عمدگی سے تصویر کی لغویت اور بے ہودگی کو کیسے قائم رکھتے؟ کہیں نہ کہیں لغزش کرتے اور کوئی اچھا ٹکڑا دے ڈالتے۔‘
یہ تھا وہ تبصرہ جو روزنامہ ’امروز‘ کی فلمی مبصر اشتیاق فاطمہ نے پاکستان کی پہلی فلم ’تیری یاد‘ کے بارے میں کیا تھا۔
فلم ’تیری یاد‘ انتہائی قلیل مدت یعنی 90 دن میں مکمل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس کے فلاپ ہونے کی وجوہات کیا تھیں ان کا ذکر آگے چل کر ہو گا۔
پہلے اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ قیام پاکستان کے وقت ملک میں فلم سازی کی روایت اور اس کے لیے درکار سہولیات کا نظام اور فلمسازی کی طرف اشرافیہ کا رویہ کیسا تھا؟
’فلم لذت پرستی کی طرف مائل کرتی ہے، یہ کام کافروں ہی کو کرنا چاہیے‘
یاسین گوریجہ نے اپنی کتاب ’لکشمی چوک‘ میں شامل ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ’15 اکتوبر 1947 کو میکلوڈ روڈ، لاہور میں پیلس سینما کے سامنے ہفت روزہ ’اداکار‘ کے دفتر میں فلمی صنعت سے دلچسپی رکھنے والے چند افراد (فیاض حسین، شوکت حسین رضوی، ڈبلیو زیڈ احمد، میاں احسان، عبدالحمید خان اور نجم الحسن وغیرہ) اکھٹے ہوئے اور انھوں نے فلمی صنعت کو نئے سرے سے اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کے لیے ایک تنظیم قائم کرنے کا فیصلہ کیا جس کا نام ’پاکستان موشن پکچرز ایسوسی ایشن‘ رکھا گیا۔‘
اس اجلاس میں اتفاق رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ دونوں ملکوں کے فلم سازوں اور فن کاروں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔
یاسین گوریجہ کے مطابق ’قیام پاکستان کے وقت لاہور میں 19 فلم تقسیم کار ادارے تھے، جن میں سے صرف تین اداروں کے مالک مسلمان تھے۔ ایورنیو پکچرز (آغا جی اے گل)، ملک ٹاکی ڈسٹری بیوٹرز (باری ملک) اور انڈیا فلم بیورو (قاضی خورشید الحسن)۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کے معروف ہدایت کار ڈبلیو زیڈ احمد نے ’پاکستان سینما‘ کے مصنف مشتاق گزدر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’1949 میں حکومت کی دعوت پر تین فلم سازوں اور 12 تقسیم کاروں پر مشتمل ایک وفد نے مرکزی وزیر صنعت سردرا عبدالرب نشتر سے ملاقات کی۔‘
’فلم سازوں نے تجویز پیش کی کہ پاکستانی فلمی صنعت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں انڈین فلموں کی درآمد پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کر دی جائے مگر ظاہر ہے یہ تجویز فلمی تقسیم کاروں کو پسند نہیں آئی۔‘

،تصویر کا ذریعہShah Film Distributors via Pakistan Chronicle
’فلمی تقسیم کاروں کا کہنا تھا کہ اس طرح فلمی صنعت سے وابستہ ہزاروں افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔‘
کتاب ’پاکستان سینما‘ کے مطابق سردار عبدالرب نشتر نے فریقین کے بیانات سنے اور پھر جو بیان جاری کیا اس سے اس وقت کی پاکستانی اشرافیہ کی سوچ کا اندازہ ہو سکتا ہے۔
سردار نشتر نے فرمایا ’اصولی طور پر مسلمانوں کو فلم سازی سے اجتناب برتنا چاہیے کیونکہ یہ لذت پرستی اور شہوانیت کی طرف مائل کرتی ہے۔ یہ کام کافروں ہی کو کرنا چاہیے۔‘
’کافر‘ خوش ہو گئے، ان کی فلمیں مومنین کو سکون بخشتی رہیں اور تقسیم کاروں کی لابی نہال ہو گئی۔
قیام پاکستان کے بعد پہلی فلم کی عکس بندی کی ابتدا
قیام پاکستان کے بعد سب سے پہلے کس فلم کی عکس بندی شروع ہوئی اس ضمن میں کئی نام لیے جاتے ہیں۔
یاسین گوریجہ نے ’لکشمی چوک‘ میں لکھا ہے کہ ’قیام پاکستان کے بعد نومبر 1947 میں جس پہلی فلم کی عکس بندی شروع ہوئی، اس کا نام دو کنارے تھا۔‘
اے آر سلوٹ کی مرتب کی گئی ڈائریکٹری کے مطابق ’اس فلم کے فلم ساز رشید بٹ اور مصنف اور ہدایت کار عاشق بھٹی تھے۔ موسیقی فتح علی خان نے ترتیب دی تھی جبکہ اداکاروں میں اختری، سریش، کلاوتی اور ظریف شامل تھے۔ مگر یہ فلم سرمائے کی کمی کی وجہ سے خاصی تاخیر میں مکمل ہوئی اور 22 مئی 1950 کو نمائش پزیر ہوئی۔‘
دوسری طرف مشہور ہدایت کار لقمان زندگی بھر دعویٰ کرتے رہے کہ قیام پاکستان کے بعد سیٹ پر جانے والی پہلی فلم ان کی فلم ’شاہدہ‘ تھی۔

،تصویر کا ذریعہTeri Yaad Via Pakistan Chronicle
گوریجہ کے مطابق ’شاہدہ کی تاریخ یہ تھی کہ اس فلم کے پہلے فلم ساز اور ہدایت کار حمید خان تھے۔ اس فلم کی منصوبہ بندی 1946 میں شروع ہوئی مگر حمید خان کے انتقال کے باعث یہ فلم ادھوری رہ گئی۔‘
’ابتدا میں اس کا نام ’شفق‘ رکھا گیا تھا۔ 1948 میں شاہدہ کے کہانی نگار حکیم احمد شجاع نے اس فلم کو دوبارہ بنانے کا عزم کیا اور ایک فنانسر اکبر شاہ کو فنانس کے لیے اور ہدایت کار لقمان کو ہدایات کے لیے آمادہ کیا۔‘
’اُن دنوں لقمان کی فلم ہم جولی لاہور میں زیر نمائش تھی اور پسند کی جا رہی تھی۔ شاہدہ کے ابتدائی تین گانے ماسٹر غلام حیدر نے ریکارڈ کروائے تھے۔ بقیہ گانوں کے لیے جی اے چشتی کو زحمت دی گئی۔ کیونکہ ماسٹر غلام حیدر بمبئی چلے گے تھے اور ابھی پاکستان نہیں آئے تھے۔‘
’لقمان نے دلیپ کمار کے بھائی ناصر خان کو ہیرو اور پہلے فریدہ خانم اور پھر شمیم بانو کو ہیروئن کے طور پر منتخب کیا اور فلم کی عکس بندی شروع کر دی۔ فلم کی دیگر کاسٹ میں شاکر، بیگم پروین، ایس بانو، نفیس بیگم، جی این بٹ، بے بی شمشاد، خلیل آفتاب، رانی ممتاز، ماسٹر غنی اور ہمالیہ والا شامل تھے۔‘
لقمان کا کہنا تھا کہ اس فلم کا مکالمہ ’اللہ میری عزت تیرے ہاتھ میں ہے‘ پاکستان میں ریکارڈ ہونے والا پہلا مکالمہ تھا، جسے حکیم احمد شجاع نے تحریر کیا تھا اور جسے فلم ’شاہدہ‘ کی ہیروئن شمیم بانو پر فلمایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
ہدایت کار لقمان نے منیر احمد منیر کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’وہ شاہدہ کو بہتر سے بہتر بنانا چاہتے تھے۔ اس لیے اس کی تکمیل میں کچھ دیر لگ گئی۔ لقمان کی خواہش تھی کہ شاہدہ کو پاکستان سے زیادہ بھارت میں چلنا چاہیے اور وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب بھی رہے۔ فلمی ریکارڈ کے مطابق اس فلم میں پاکستان میں تو کوئی خاص بزنس نہیں کیا لیکن لکھنؤ اور دہلی میں سلور جوبلی کرنے میں کامیاب رہی۔‘
’شاہدہ‘ کی عکس بندی جاری تھی کہ ’تیری یاد‘ ریلیز کر دی گئی

،تصویر کا ذریعہPakistan Chronicle
مختلف فلمی تاریخیں اور ڈائریکٹریاں بتاتی ہیں کہ ابھی شاہدہ کی عکس بندی جاری تھی کہ پنچولی فلمز کے بینر تلے دیوان سرداری لال نے دیوان ڈی پی سنگھا کی مدد سے ایک فلم ’تیری یاد‘ کے نام سے بنانی شروع کر دی اور محض 90 دن میں مکمل کر کے سات اگست 1948 کو عیدالفطر کے دن میکلوڈ روڈ لاہور پر واقع پربھات سینما (موجودہ ایمپائر سینما) میں نمائش کے لیے پیش کر دی۔
دیوان سرداری لال ایک زیرک اور ہوشیار آدمی تھے۔ قیام پاکستان سے پہلے وہ پنچولی آرٹ سٹوڈیوز کے جنرل منیجر تھے جب کہ اس سٹوڈیو کے مالک دل سکھ پنچولی تھے۔
قیام پاکستان کے بعد دیوان سرداری لال نے دل سکھ پنچولی کو خوفزدہ کر کے پاکستان سے بھگا دیا اور خود ان کے کاروبار کے انچارج بن گئے انھوں نے مسلمان کارکنوں کو اکٹھا کیا اور فلم سازی کی ابتدا کی۔
داؤد چاند 1931 سے فلمی دنیا میں تھے۔ شروع شروع میں وہ خاموش فلموں میں اداکاری کیا کرتے تھے۔ بولتی فلموں کا دور آیا تو ہدایت کار بن گئے۔ بطور ہدایت کار ان کی پہلی فلم ’جیون کا سپنا‘ تھی جو جمنا آرٹ پروڈکشنز کلکتہ کے بینر تلے تیار ہوئی تھی۔
قیام پاکستان سے قبل ان کی ڈائریکٹ کردہ یادگار فلموں میں ’سپاہی‘، ’شان اسلام‘، ’سسی پنوں‘، ’پرائے بس میں‘، ’آر سی‘ اور ’ایک روز‘ کے نام لیے جا سکتے ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد انھیں پاکستان کی پہلی فلم ’تیری یاد‘ کی ہدایات دینے کا اعزاز حاصل ہوا۔ یہ فلم انھوں نے تین ماہ کے عرصے میں مکمل کی تھی۔
تیری یاد کے ہیرو دلیپ کمار کے چھوٹے بھائی ناصر خان اور ہیروئن آشا پوسلے تھیں جب کہ فلم کے دیگر اداکاروں میں نجمہ، سردار محمد، رانی کرن، زبیدہ، جہانگیر، نذر اور ماسٹر غلام قادر شامل تھے۔ اس فلم کی کہانی اور مکالمے خادم محی الدین نے لکھے تھے۔

،تصویر کا ذریعہPakistan Cronicle
اس کی موسیقی ماسٹر عنایت علی ناتھ نے ترتیب دی تھی جب کہ اس کے نغمات قتیل شفائی اور تنویر نقوی نے تحریر کیے تھے۔ فلم کی عکاسی رضا میر نے کی تھی، تدوین کار ایم اے لطیف تھے، آڈیو گرافی اے زیڈ بیگ نے کی تھی جبکہ پروسیسنگ کے فرائض پیارے خان اور وارث نے انجام دیے تھے۔
اس فلم کے لیے کل 13 گانے ریکارڈ کیے گئے تھے لیکن فلم میں صرف 10 گانے شامل کیے گئے جنھیں منور سلطانہ، علی بخش ظہور اور آشا پوسلے نے گایا تھا۔
بدقسمتی سے ان گیتوں کے ریکارڈ نہیں بنے تھے جن کی وجہ سے یہ گیت عوام تک نہیں پہنچ سکے تاہم حال ہی میں پاکستانی فلمی موسیقی کے مشہور ریکارڈ کلکٹر فیاض احمد اشعر نے اس فلم کا ایک ریکارڈ دریافت کیا ہے جو انھوں نے سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیا ہے۔
ظفر ندیم نے اپنی کتاب ’تاریخ فلم‘ میں لکھا ہے کہ ’تیری یاد بے جان کہانی، کمزور موسیقی اور فنی خامیوں کی وجہ سے بری طرح ناکام رہی۔ کہنہ مشق ہدایت کار داؤد چاند بھی اسے سنبھالا نہ دے سکے اور ہندوستان کی فلموں کے مدمقابل تیری یاد نے دم توڑ دیا۔‘
تیری یاد کے ناکام ہونے کا سبب بتاتے ہوئے اس فلم کے عکاس رضا میر نے برسوں بعد عارف وقار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’تیری یاد اتنی بری فلم نہیں تھی کہ لگتے ہی فلاپ ہو جاتی۔ لیکن دیوان سرداری لال نے تیزی سے شوٹنگ مکمل کر کے دس ہزار آٹھ سو فٹ کے رش پرنٹ آگے پیچھے جوڑ کر، بنا کسی ایڈیٹنگ کے ریلیز کر دیا۔‘
مزید پڑھیے
’دیوان سرداری لال کا اصل ہدف دل سکھ پنچولی کا چھوڑا ہوا سٹوڈیو اپنے نام الاٹ کروانا تھا۔ (اس زمانے میں) حکومت نے الاٹمنٹ کے سلسلے میں یہ اصول وضع کیا تھا کہ متروکہ سینما ہال اور فلم سٹوڈیو ایسے افراد کو الاٹ کیے جائیں جو فلم سازی سے تعلق رکھتے ہوں چنانچہ دیوان سرداری لال نے جلدی جلدی فلم ریلیز کی اور خود کو ایک پروڈیوسر ثابت کر کے ایک مسلمان حصے دار (ملکہ پکھراج) کو ساتھ ملا کر پنچولی سٹوڈیو ون پر قبضہ کر لیا۔‘
تیری یاد سے فلم بینوں پر کیا گزری اس کا اندازہ اشتیاق فاطمہ کے اس فلمی تبصرے سے لگایا جا سکتا ہے جو اس فلم کی ریلیز کے ایک ماہ بعد سات ستمبر 1948 کو روزنامہ امروز لاہور میں شائع ہوا تھا۔ اس تبصرے کی آخری سطور میں لکھا گیا تھا۔
’تصویر (فلم) دیکھنے کے بعد ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ڈائریکٹر صاحب بہت قابل آدمی ہیں۔ وہ اپنے فن کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ نہ سمجھتے ہوتے تو اس عمدگی سے تصویر کی لغویت اور بے ہودگی کو کیسے قائم رکھتے؟ کہیں نہ کہیں لغزش کرتے اور کوئی اچھا ٹکڑا دے ڈالتے۔‘










