شوبز ڈائری: فلم گنگو بائی کاٹھیاواڑی پر عالیہ بھٹ کی عدالت طلبی

،تصویر کا ذریعہSUJIT JAISWAL
- مصنف, نصرت جہاں
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
’شاہ رخ خان کی فلم میں رومانس جس مرحلے پر دو گھنٹے میں پہنچتا ہے میری فلم میں اس مقام تک پہنچنے میں دو منٹ بھی نہیں لگتے۔‘
یہ دعویٰ عمران ہاشمی کے علاوہ اور کون کر سکتا ہے جو اسی ہفتے 42 سال کے ہوئے ہیں۔
ان کی سالگرہ کے موقع پر بالی ووڈ ہنگامہ کے فریدون شہریار نے زوم پر انٹرویو میں جب ان سے پوچھا کہ شاہ رخ اور عمران ہاشمی کے رومانس میں کیا فرق ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ان کی فلموں میں رومانس فاسٹ فارورڈ ہوتا ہے اور اس میں زیادہ وقت ضائع نہیں ہوتا۔
ساتھ ہی عمران کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ کترینہ کے مداح ہیں اور ان کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔
عمران ہاشمی کی فلم ممبئی ساگا پچھلے ہفتے ہی ریلیز ہوئی ہے اور اب انھیں امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ’چہرے‘ کی ریلیز کا انتظار ہے۔ اس کے علاوہ عمران ہاشمی ٹائیگر تھری میں سلمان خان کے سامنے ولن کا کردار بھی نبھائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBrian Dowling
گنگو بائی کاٹھیوالی پر عالیہ بھٹ عدالت طلب
تاریخی واقعات یا تاریخی کرداروں پر فلم بنانا کتنا مشکل ہوتا ہے اس کا اندازہ ماضی میں ریلیز ہونے والی کئی فلموں سے لگایا جا سکتا ہے چاہے وہ شیکھر کپور کی فلم ’بینڈٹ کوئن‘ ہو یا پھر انوراگ کشیپ کی ’بلیک فرائیڈے‘ یا پھر سنجے لیلا بھنسالی کی فلم باجی راؤ مستانی۔
سنجے ایک بار پھر تنازعے کا شکار ہوتے نطر آ رہے ہیں۔ اس ہفتے ان کی نئی فلم گنگو بائی کاٹھیوالی کے سلسلے میں ممبئی میں ایڈیشنل چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت نے انھیں اور عالیہ بھٹ کو طلب کیا ہے۔
گنگوبائی کاٹھیوالی کے گود لیے گئے چار بچوں میں سے ایک بابو راجی شاہ نے ہتک عزت کا مقدمہ کیا ہے۔ عالیہ اس فلم میں گنگو بائی کا کردار نبھا رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFilm Poster
روزنامہ انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق سنجے اور عالیہ کو 21 مئی کو ممبئی کی عدالت میں بھی پیش ہونا پڑے گا۔
سنجے لیلا بھنسالی کی فلم گنگوبائی کاٹھیوالی حسین زیدی کی کتاب ’مافیا کوئینز آف ممبئی‘ پر مبنی ہے۔
بابو راجی شاہ کا کہنا ہے کہ ’حسین زیدی کی اس کتاب میں گنگو بائی کاٹھیوالی سے متعلق باب ہتک آمیز ہے اور اس سے ان کی شبیہ داغدار ہوتی ہے۔‘
گنگوبائی کاٹھیا واڑی 30 جولائی کو سینما گھروں میں ریلیز ہونے والی ہے۔

،تصویر کا ذریعہSUJIT JAISWAL
کیارا اڈوانی نے ایک بااختیارخاتون کے کردار کی آفر کیوں ٹھکرائی؟
یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ اداکارہ کیارا اڈوانی نے پچھلے دو برسوں میں جو کچھ حاصل کیا کافی حد تک اس کا سہرا فلم کبیر سنگھ کے سر جاتا ہے۔
پروڈیوسر مراد کھیتانی کی اس فلم کے بعد کیارا کو بڑی فلموں کی پیشکش آنے لگیں جس کے بعد انھیں اسی بینر کے تحت فلم ’بھول بھولیا ٹو‘ بھی ملی۔
تمل فلم ارجن ریڈی کے ہندی ری میک کبیر سنگھ پر مختلف ردِ عمل سامنے آئے تھے، کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ فلم پدر شاہی کو بڑھاوا دیتی اور عورتوں کو کمتر دکھاتی نظر آتی ہے۔
فلم میں مرکزی کردار میں کیارہ اڈوانی کو بھی ایسے کردار کے انتخاب کے لیے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ویب سائٹ بالی ووڈ ہنگامہ کے مطابق کیارا کو فلم ’اپوروا‘ میں ایک بااختیار اور با اثر خاتون کے کردار کی آفر ہوئی تھی لیکن کیارہ نے چھوٹے بجٹ کی اس فلم کو ٹھکرا دیا۔
شاید کیارا ایسے موقع پر چھوٹے بجٹ کی فلم کرنے کا خطرہ نہیں مول لینا چاہتی جب وہ بڑے پروڈکشن ہاوسسز کی فلمیں سائن کر رہی ہیں۔











