وائرل سہیلیاں دردانہ علی ملک اور خالدہ امیر: خوبصورتی کے روایتی معیار کو چیلنج کرنے والے غیر روایتی فوٹو شوٹ کے پیچھے کیا کہانی ہے؟

- مصنف, نازش ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان میں گذشتہ دو ہفتوں کے دوران سوشل میڈیا گروپس اور پیجز پر کپڑوں کی دو معروف برینڈز کے فوٹو شوٹ پر کافی بات کی گئی ہے۔
فوٹو شوٹ وائرل اس لیے ہوئے کہ ان میں ملبوسات کسی روایتی نو عمر، دُبلی پتلی ماڈل نے نہیں پہنے بلکہ ان میں ایسی خواتین نظر آئیں جیسی ہمیں اپنے آس پاس نظر آتی ہیں، گھروں میں، احباب میں، پڑوس میں، دفاتر میں، لیکن جن کے متعلق لگتا ہے کہ برانڈز یا تو ان کے لیے کپڑے بناتے ہی نہیں یا اپنے کپڑوں کی ماڈلنگ کے لیے ان کا انتخاب نہیں کرتے۔
ان تصاویر میں کھاڈی برانڈ کے ملبوسات زیب تن کرنے والی آرٹسٹ بے مثال شامل ہیں جو خود کو باڈی امیج ایڈووکیٹ بھی کہتی ہیں۔
’بے مثال‘ فیشن کی دنیا میں خوبصورتی کے طے کردہ معیار سے ایک دو سائز زیادہ ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ہمیں انھی طے شدہ معیاروں سے بالاتر ہونا ہے۔
دوسری طرف وائرل ہونے والی گل احمد برانڈ کے لیے ماڈلنگ کرنے والی دو سہیلیاں دردانہ علی ملک اور خالدہ امیر ہیں، جن کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ ہے۔ یعنی عمر کا وہی حصہ جہاں مارکیٹنگ کی دنیا آپ کو بلڈ پریشر اور شوگر چیک کرنے کے آلات یا جوڑوں کے درد کے جادوئی حل بتانے کے علاوہ مکمل طور پر فراموش کر چکی ہوتی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
Instagram پوسٹ کا اختتام, 1
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لاہور میں واقع دردانہ کے پرانی طرز کے خوبصورت مکان میں ان دو سمدھنوں اور سہیلیوں سے ملاقات قہقہوں سے اس قدر بھرپور تھی کہ حیرت ہوئی کہ کس طرح برانڈ امیجنگ کی دنیا میں ایسی زندہ دل خواتین کو شامل نہیں کیا جاتا جن کے بال تو سفید ہو چکے ہیں لیکن جن کا دل اب بھی جوان ہے۔

دردانہ بھی یہی کہتی ہیں۔ یہ کہ ہم بچوں کو ب سے بُڑھیا پڑھاتے ہیں جن میں بوڑھی عورت چادر میں لپٹی، جھکی گردن، کمر میں خم کے ساتھ عینک ٹکائے نظر آتی ہے۔ اور یہی تصور معمر خواتین کے لیے راسخ کیا جاتا ہے۔ اس 'سٹیریو ٹائپنگ' کو ختم کرنا ہوگا۔
فوٹو شوٹ کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ انھیں برینڈ کی جانب سے ماڈلنگ کی آفر کے بعد اسے قبول کرنے میں کوئی جھجک نہیں ہوئی۔ وہ یہی بتانا چاہتی ہیں کہ وہ عمر کے اس حصے میں کسی نوجوان سے زیادہ پُر اعتماد اور سرگرم زندگی گزار رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی تصاویر وائرل ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قدرتی سفید بالوں میں کوئی ماڈل نظر نہیں آتی جبکہ انھیں اپنے سفید بالوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے جہاں کہیں بڑی عمر کی خواتین کو بطور ماڈل لیا گیا تو یہ پیغام دیا گیا کہ دیکھیں یہ اپنی عمر سے کتنی کم نظر آتی ہیں جبکہ ہمیں ایسا کوئی خبط نہیں ہے۔
خالدہ اور دردانہ فوٹو شوٹ کے بعد آنے والے رد عمل سے بھی خوش ہیں۔ انھیں زیادہ تر اچھے پیغامات ہی ملے۔
لیکن کیا پاکستان میں سلے سلائے کپڑوں کے مقامی برانڈز سے خریداری تمام عمر اور قد و قامت کی خواتین کے لیے آسان بنائی گئی ہے؟
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
Instagram پوسٹ کا اختتام, 2
'پاکستان کی ایک معروف دکان سے کپڑے لینے کے دوران میں نے سیلز گرل سے کہا آپ اس سے بڑا سائزکیوں نہیں بناتے تو مجھے جواب ملا کہ آپ اپنا سائز کم کر لیں۔ بس تب ہی میں نے خود ایسے ملبوسات متعارف کروانے کا سوچا جو میری طرح کی قد و قامت کی خواتین کے کام آئے۔ اور پھر جونو کے نام سے کپڑے بنانے کا کام کیا۔'
یہ کہانی معروف صحافی قطرینہ حسین کی ہے جنھوں نے صحافتی کیرئیر میں سے وقت نکال کر کپڑے بنانے کا بالکل مختلف تجربہ کیا تا کہ ان جیسی کئی عورتوں کی مشکل آسان ہو سکے۔ مشکل لیکن بدستور قائم ہے۔
سلے سلائے کپڑے بنانے کی معروف مقامی برینڈز لارج سائز تک کپڑے بناتی ضرور ہیں لیکن یہ آخری سائز بھی نسبتاً زیادہ دراز قد یا زیادہ وزن کی خواتین کی ضرورت پوری نہیں کرتا۔ یعنی ڈبل ایکسل یا تھری ایکسل کپڑے نہیں ملتے۔ ان برینڈز کی ویب سائیٹس پر شائع کی گئی تصاویر کم عمر اور دبلی پتلی ماڈلز کی ہی ہیں۔ اور انھیں دیکھ کر لگتا ہے کہ پاکستان میں خواتین کی تقریباً تمام آبادی نوجوان اور سمال سائز خواتین کی ہے اور یہاں ملبوسات انھی کے لیے بنتے ہیں۔

قطرینہ حسین کا کہنا ہے کہ حیرت کی بات ہے کہ آن لائن یا سٹور پر خریداری کے لیے جائیں تو لارج سائز عموماً بک چکا ہوتا ہے۔ یعنی اس سائز کے خریدار موجود ہیں لیکن برینڈز اس سائز کی خواتین کو اپنا' چہرہ' نہیں بنانا چاہتیں۔ اور اس کے پیچھے وہی معاشرے میں رچی بسی' باڈی شیمنگ 'ہے۔
یہاں جنریشن نامی برینڈ کا ذکر بر محل ہے جنھوں نے تواتر سے ہر عمر اور قد کاٹھ کی خواتین کے ذریعے اپنے ملبوسات کی نمائش کی ہے۔
ان کے حالیہ کلیکشنز میں ماڈلنگ کے لیے ایسی خواتین بھی شامل ہیں جنھیں جسمانی معذور کہا یا سمجھا جاتا ہے۔ بے مثال کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ بات قبول کرنا ہو گی کہ دنیا اب آگے بڑھ چکی ہے، اب وہ وقت نہیں رہا کہ کسی کے خلاف تعصب رکھا جائے۔
خوبصورتی کسی ایک شکل یا سائز تک محدود نہیں ہے، ماڈل کی کوئی ایک قسم نہیں ہو سکتی۔ جتنا جلد اس بات کو مان لیا جائے اچھا ہے۔
'بل بورڈ پر دکھائی جانے والی ماڈلز کے پیچھے جو لوگ کام کرتے ہیں وہ بھی ایسے دکھائی نہیں دیتے یہاں تک کہ خود ماڈلز بھی ایسی نہیں دکھائی دیتیں۔ ان کی تصاویر کو ایڈٹ کیا جاتا ہے'۔ اپنی تصاویر وائرل ہونے کے متعلق بے مثال کا کہنا ہے کہ چند ایک کے علاوہ انھیں بھی اچھا رد عمل ملا۔ اور کھاڈی کے بعد بہت سی دوسری برانڈز نے بھی انھیں اپنے ساتھ کام کرنے کی آفر کی۔

،تصویر کا ذریعہFacebook Quatrina Hosain
کھاڈی برانڈ کی کارپوریٹ کمیونیکیشن کے لیے ڈائریکٹر انجم ندا رحمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کھاڈی کا ماننا ہے کہ تمام خواتین خوبصورت اور فیشن ایبل ہیں اور ہمارے ملبوسات انھیں یہ اعتماد دیتے ہیں کہ وہ اپنی شخصیت کا اظہار کریں۔
’ہماری 'ناؤ اور نیور' کیمپین اس بات کا اظہار ہے کہ فیشن میں تمام طرح کی خواتین کی شمولیت لازم ہے۔ یہی 'نیو نارمل' ہے۔ ہماری کیمپین اسی لیے وائرل ہوئی کہ خواتین کو اس میں اپنا آپ نظر آیا۔‘
اپنی گفتگو میں بے مثال نے کئی ایک کمپنیز کا نام لیا جو اب پلس سائز یا فربہ خواتین کے لیے ملبوسات تیار کر رہی ہیں۔
کئی بین الاقوامی مصنوعات کے بعد امید پیدا ہوئی ہے کہ اب مقامی سطح پرریڈی میڈ کپڑے ہر عمر اور ڈیل ڈول کی عورت کے لیے دستیاب ہونے لگیں گے۔ اور ملبوسات کی تیاری میں یہ تبدیلی اسی وقت ممکن ہو گی جب ذہن بھی تبدیل ہوں، جب خوبصورتی کسی ایک معیار پر نہ پرکھی جائے اورجب عورت کو مخصوص زاویہ سے دیکھنا ترک کیا جائے۔










