پاکستان میں بھنگ سے بنی یہ جینز کیا کپڑے کی صنعت کا مستقبل ہے؟

- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، فیصل آباد
پاکستان کے شہر فیصل آباد میں زرعی یونیورسٹی کے ماہرین نے ایسی جینز کی پینٹ تیار کی ہے جس میں بھنگ کے پودے کا استعمال کیا گیا ہے۔
اس جینز کو بنانے میں جو دھاگہ استعمال کیا گیا اس میں بھنگ کے پودے سے لیا گیا ریشہ ایک خاص تناسب سے شامل کیا گیا ہے۔
زرعی یونیورسٹی کے شعبہ فیبرک اینڈ ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی کے ماہرین نے پاکستان میں قدرتی طور پر اگنے والی جنگلی بھنگ کو استعمال کرتے ہوئے لیبارٹری کے اندر بھنگ اور کپاس کو ملا کر دھاگہ تیار کیا ہے۔ اس کے بعد اس سوتر سے جینز تیار کرنے تک کا تمام عمل بھی تجربہ گاہ میں مکمل کیا گیا۔
لیکن یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ دنیا میں پہلے ہی سے بھنگ ملی جینز تیار بھی ہو رہی ہے اور پہنی بھی جا رہی ہے۔
پاکستان ہی میں متعدد ٹیکسٹائل ملز اس قسم کی جینز کارخانوں میں تیار کرنے کے بعد برآمد کر رہی تھیں۔ تاہم ان پتلونوں میں استعمال ہونے والا بھنگ کا سوتر درآمد کیا جاتا تھا۔ کیونکہ یہ سوتر مہنگا ہوتا ہے، اس لیے بھنگ ملی جینز کی تیاری محدود پیمانے پر کی جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ فیصل آباد زرعی یونیورسٹی کے ماہرین کی حالیہ کاوش کو پاکستان کی معیشت اور خصوصاً کپڑے کی صنعت کے مستقبل کے لیے ایک اچھی خبر تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ فیبرک اینڈ ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی کے چیئرمین ڈاکٹر اسد فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بھنگ اربوں ڈالر کی صنعت ہے۔ عالمی منڈی میں بھنگ ملی جینز کی مانگ بہت زیادہ ہے اور مسلسل بڑھ رہی ہے۔ پاکستان اس کی فروخت سے اربوں ڈالر زرِ مبادلہ کما سکتا ہے۔‘
’تاہم اس کے لیے ضروری یہ تھا کہ ایسی جینز کی تیاری میں استعمال ہونے والا بھنگ کا دھاگہ مقامی طور پر بنایا جائے۔ اس طرح بھنگ کے دھاگے کی فراہمی یعنی سپلائی کا ایک حجم بنایا جا سکے گا جس سے اس کی قیمت میں کمی آ جائے گی۔‘

اس سستے دھاگے کو استعمال کر کے پاکستان میں جینز بنانے والی ملز سستے طریقے سے پتلونیں تیار کر کے عالمی منڈی میں مہنگی فروخت کر سکتی ہیں۔
امریکہ اور یورپ میں خصوصاً اس قسم کی جینز کی مانگ میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
مکمل طور پر کپاس سے تیار کی گئی جینز کے مقابلے میں بھنگ ملی جینز کی قیمت کہیں زیادہ ہے۔ اسی کو دیکھتے ہوئے لاہور میں جینز بنانے اور برآمد کرنے والی ایک بڑی کمپنی یو ایس گروپ نے ڈاکٹر اسد اور ان کے شعبے سے رابطہ کیا اور انھیں اس پر کام کرنے کی دعوت دی۔
مقامی طور پر تیار کی جانے والی جینز ان دونوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت بنائی گئی ہے تاہم سوال یہ ہے کہ بھنگ جینز میں ملائی ہی کیوں جا رہی ہے، اس میں ایسی کیا خاص بات ہے؟

بھنگ ملی جینز کیا ہے؟
شعبہ فیبرک اینڈ ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی کے چیئرمین ڈاکٹر اسد فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ بھنگ ملی جینز کی خاص بات یہ ہے کہ ’یہ ایک پائیدار جینز ہے۔‘
تو کیا کپاس سے بنائی جانے والی جینز پائیدار نہیں تھی؟ ڈاکٹر اسد فاروق کے مطابق بھنگ ملی جینز کو اس لیے پائیدار کہا جاتا ہے کہ کپاس کے مقابلے میں بھنگ از خود ایک پائیدار فصل تصور کی جا رہی ہے۔ اسی لیے بھنگ سے بنی جینز کی تیاری کا طریقہ کار بھی زیادہ پائیدار ہے۔
’دنیا بھر میں یہ تصور وجود پا چکا ہے کہ کپڑے کی صنعت آلودہ اور آلودگی پیدا کرنے والی صنعت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کپاس کی فصل کے لیے بڑی مقدار میں پانی اور کیمیائی کھادوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ کیڑا کش ادویات اس کے علاوہ ہیں۔‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ تیزی سے رونما ہوتی ماحولیاتی تبدیلیوں اور ان سے بچنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے نتیجے آنے والے دنوں میں کپاس زیادہ مقدار میں میسر نہیں ہو گی۔ یعنی وہ کپڑے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہو گی۔ اس لیے وہ پائیدار نہیں رہی۔

اس کے مقابلے میں بھنگ کو نہ تو پانی کی ضرورت ہوتی ہے، نہ ہی کھاد اور کیڑا کش ادویات کی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بھنگ سے تیار کیے جانے والی جینز کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔
بھنگ ہی کیوں، کوئی اور فصل کیوں نہیں؟
ڈاکٹر اسد فاروق کے مطابق بھنگ نہ صرف یہ کہ ایک پائیدار پودا ہے بلکہ اس کے اندر جراثیم کش خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔
’بھنگ کا دھاگہ اس کی چھال یا تنے کے اندر موجود ہوتا ہے اس لیے اسے حشرات یا کیڑے نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اور یہ پودہ بارش کے پانی سے قدرتی طور پر اگتا ہے یعنی اسے زیادہ پانی اور کھاد کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔‘
ڈاکڑ اسد کے مطابق اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ ایک نیچرل فائبر یا قدرتی دھاگہ ہے۔ ’کپاس کو جب آپ کسی دوسرے سوتر سے تبدیل کرتے ہیں تو وہ قدرتی ہونا چاہیے۔ بھنگ کے اندر یہ صلاحیت موجود ہے کہ یہ کپاس کا نعم البدل بن سکتا ہے۔‘
جینز میں جراثیم کش خصوصیات کیسے کام کریں گی؟
ڈاکٹر اسد فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈینم کو بنانے کا عمل ایسا ہوتا ہے کہ اس کے تانے بانے سے دو رنگ پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے باہر کا حصہ نیلا جبکہ اندر کا حصہ سفید ہوتا ہے۔

'ہم نے بھنگ کے دھاگے کو جینز کے اندر کے حصے کی طرف رکھا ہے تا کہ وہ مسلسل جلد کے ساتھ لگتا رہے اور بھنگ کی جراثیم کش خصوصیات کے ذریعے جلد پر موجود بیکٹیریا ختم ہوتے رہیں۔'
تاہم یاد رہے کہ صنعتی بھنگ کی جراثیم کش خصوصیات کے حوالے سے دنیا بھر مین تحقیق کی جا رہی ہے اور اس کے مخصوص اینٹی مائکروبیئل فوائد حتمی شکل میں سامنے نہیں آئے جن پر دنیا بھر میں اتفاق کیا جا سکے۔
کیا نئی پائیدار جینز میں کپاس کو بھنگ سے تبدیل کر دیا گیا؟
ڈاکٹر اسد فاروق کے مطابق مکمل طور پر ایسا کرنا تاحال ممکن نہیں تھا۔ شعبہ فیبرک اینڈ ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی نے جو جینز تیار کی ہے اس میں بھنگ کو کپاس کے ساتھ ملایا گیا ہے جس میں بھنگ کی شرح 20 فیصد ہے۔
کپاس کے مقابلے میں بھنگ زیادہ سخت سوتر ہے۔ اس کو مخصوص طریقہ کار کے ذریعے نرم کیا جاتا ہے۔ 'اگر نرم نہ کیا جائے تو اس میں ٹویسٹ یعنی لچک نہیں آتی اور ایسا دھاگہ کپڑے کی بنوائی کے دوران خلا چھوڑ جاتا ہے۔'
ڈاکٹر اسد فاروق کا کہنا تھا کہ یہی لچک حاصل کرنا اور بھنگ کو کپاس کے ساتھ ملانا ہی ان کی ٹیم کے لیے ایک چیلنج تھا۔ اس کے بعد بھنگ ملا دھاگہ حاصل کرنے سے لے کر جینز تیار کرنے تک کا عمل وہی تھا جو عام طور پر کپاس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
'ہم نے اب تک 20 اور 30 فیصد بھنگ کو کپاس کے ساتھ ملا کر کام کیا ہے اور ہمیں اس میں کامیابی ہوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ کپاس کے ساتھ 20 یا 30 فیصد بھنگ شامل کرتے ہیں تو آپ اسے 20 یا 30 فیصد پائیدار بنا رہے ہیں۔'

لیکن بھنگ تو نشہ ہے، تو کیا اس جینز میں نشہ آور اجزا شامل ہیں؟
بھنگ یا کینابیس کو دنیا بھر میں نشہ تصور کیا جاتا ہے جسے نشے میں کئی طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم ڈاکٹر اسد فاروق کے مطابق دنیا بھر میں بھنگ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک نشہ آور اور دوسرا وہ جو نشہ آور نہیں ہے۔
'بھنگ کی ایک نان ٹاکسک ہوتی ہے یعنی اس میں ٹی این سی کی شرح عشاریہ تین فیصد سے کم ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کسی قسم کا نشہ پیدا نہیں کرتا۔ اس کو صنعتی بھنگ کہا جاتا ہے۔ یہ بھنگ جینز بنانے یا کپڑے بنانے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔'
دنیا میں کئی ممالک نے ادویات میں اس کے استعمال یا طبی بنیادوں پر اس کے استعمال کی اجازت دے رکھی ہے۔
پاکستان میں بھنگ قدرتی اگتا ہے تو استعمال کیوں نہیں کیا جاتا؟
پاکستان میں قدرتی اگنے والے بھنگ کی جنگلی قسم ٹاکسک ہے یعنی یہ نشہ پیدا کرتی ہے۔ اس لیے اس کی کاشت غیر قانونی ہے۔ تاہم حال ہی میں حکومتِ پاکستان نے صنعتی بھنگ کی خصوصیات سے فائدہ اٹھانے کے لیے ملک کے تین اضلاع میں صنعتی بھنگ کی کاشت کی اجازت دی ہے۔
اس سے قبل صنعتی بھنگ کی عدم دستیابی کی وجہ سے ملوں کو بھنگ کا سوتر زیادہ تر چین سے درآمد کرنا پڑتا تھا۔ ڈاکٹر اسد کے مطابق بھنگ کا یہ سوتر کپاس کے مقابلے تین گنا زیادہ مہنگا پڑتا تھا۔ اس طرح اس مہنگے سوتر سے تیار ہونے والی جینز کی فروخت سے ملنے والا منافع بھی کم تھا۔

'لیکن جب صنعتی بھنگ پاکستان ہی میں اگنا شروع ہو جائے گی تو اس سے بننے والے سوتر کی قیمت کپاس سے کہیں زیادہ کم ہو جائے گی۔ اس کی فراہمی بھی زیادہ ہو گی۔ اس طرح زیادہ سے زیادہ ملیں اسے استعمال کر سکیں گی اور ان کا منافع بھی کئی گنا بڑھ جائے گا۔'
یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر اسد اور ان کی ٹیم کی بنائی گئی جینز خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ جینز ظاہر کرتی ہے کہ 'پاکستان کے پاس بھنگ سے سوتر حاصل کرنے سے لے کر جینز بنانے تک کی ٹیکنالوجی اور صلاحیت موجود ہے۔'
جیسے ہی حکومت کی طرف سے دی گئی اجازت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی طور پر صنعتی بھنگ کی کاشت شروع ہو گی تو پاکستان میں اکادمی اور صنعت فوری طور پر اس سے کپڑا بنانے کے لیے تیار ہوں گے۔
کیا پاکستان میں صنعتی بھنگ کاشت کی جائے گی؟
فیصل آباد یونیورسٹی آف ایگریکلچر کے شعبہ فیبرک اینڈ ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی کے چیئرمین ڈاکٹر اسد فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اور ان کے دیگر ساتھی پہلے ہی سے اس پر کام کر رہے ہیں کہ صنعتی بھنگ کی پاکستان میں کاشت کا آغاز کیا جائے۔
'بیرونِ ممالک سے صنعتی بھنگ کا بیج درآمد کیا جائے گا۔ پھر ہم اسے پاکستان کے موسمی حالات کے مطابق ڈھالیں گے۔ اس کے بعد جس بیج میں ہمیں وہ خصوصیات ملیں گی جن کی ہمیں ضرورت ہے تو اس بیج کو پاکستان میں کاشت کیا جائے گا۔'
ڈاکٹر اسد کا کہنا تھا کہ اس تمام عمل میں چند برس کا وقت درکار ہو گا۔ تاہم اس کے بعد 'ہم ایک چین بنا لیں گے جس میں ایک طرف صنعتی بھنگ کی فصل کی سپلائی ہو گی اور دوسری طرف اس سے جینز بنانے کی ٹیکنالوجی ہو گی۔'
اس سے پاکستان کو کیا فائدہ ہو گا؟
ڈاکٹر اسد کے مطابق پاکستان دنیا میں بھنگ کو استعمال کرتے ہوئے کپڑا اور خصوصاً جینز بنانے کے حوالے سے ایک مانگ جنم لے رہی ہے جو پاکستان میں ڈینم یا جینز بنانے والی ملوں کے پاس بھی پہنچ چکی ہے۔

'پاکستان میں مقامی طور پر صنعتی بھنگ سے سستی جینز بنانے کی صلاحیت مل جانے سے پاکستان عالمی منڈی میں کئی گنا زیادہ زرِ مبادلہ کما سکتا ہے۔'
ڈاکٹر اسد کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کپڑے کی صنعت کے پاس کورونا کے بعد کے لیے دنیا میں پیدا ہونے والی کپڑے کی مانگ کو پورے کرنے کے لیے بڑی تعداد میں آرڈر موصول ہو چکے ہیں۔ اسی پس منظر میں انہوں نے یہ نئی جدت اپنائی ہے۔










