کورونا وائرس: بنگلہ دیش میں کپڑوں کی صنعت کی 20 لاکھ ملازمتیں ختم ہونے کا خدشہ

بنگلہ دیش کی ایک خالی فیکٹری جس کے مالکان اور کارکن مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت کے شکار ہیں
،تصویر کا کیپشنبنگلہ دیش کی ایک خالی فیکٹری جس کے مالکان اور مزدور مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت کے شکار ہیں
    • مصنف, اکبر حسین
    • عہدہ, بی بی سی بنگلہ

بنگلہ دیش میں کپڑوں کی صنعت کورونا وائرس کی وبا کے باعث بحران کا شکار ہے اور خدشات ہیں کہ اس شعبے سے منسلک 40 لاکھ ملازمتوں میں سے نصف ختم ہو سکتی ہیں۔

شبینہ اختر ڈھاکہ کے مضافات میں ایک کپڑوں کے کارخانے میں کام کرتی ہیں۔ یہ کارخانہ یورپی منڈیوں کے لیے شرٹیں بناتا ہے اور یہاں 800 لوگ کام کرتے ہیں۔

چند دن قبل کارخانے کے مالک نے اعلان کیا کہ یورپ میں ان کے تمام خریداروں کی جانب سے کورونا وائرس کے پیشِ نظر آرڈر منسوخ کر دیے جانے کے بعد اب وہ یہ کارخانہ نہیں چلاتے رہ سکتے۔

وہ کہتی ہیں ’میں نہیں جانتی کہ میں کیسے گزارا کروں گی۔ میری ملازمت جا چکی ہے اور مجھے معلوم نہیں کہ میں کھانا کیسے خرید سکوں گی۔‘

یہ بھی پڑھیے

کپڑوں کی صنعت بنگلہ دیشی معیشت میں ریڑھ کی حیثیت رکھتی ہے۔ 40 لاکھ لوگوں کی ملازمتیں اس سے وابستہ ہیں جن میں اکثریت خواتین کی ہے۔

انیسہ بیگم کی ملازمت بھی ختم ہوچکی ہے۔ اب وہ ڈھاکہ کے مضافات میں اپنے سات افراد پر مشتمل گھرانے کے ساتھ گھر پر ہی رہ رہی ہیں۔

’گزارا کرنے کا کوئی طریقہ نہیں‘

وہ کہتی ہیں کہ وہ اور ان کے شوہر دن میں ایک مرتبہ کھا کر گزارا کر سکتے ہیں لیکن بچوں کے ساتھ ایسا نہیں ہو سکتا۔

’اگر حکومت ہماری مدد کے لیے آگے نہیں آئی تو ہم بچ نہیں پائیں گے۔‘

انیسہ نہیں جانتیں کہ وہ اپنے بچوں کو کھانا کیسے کھلائیں گی

،تصویر کا ذریعہSalman Saeed

،تصویر کا کیپشنانیسہ نہیں جانتیں کہ وہ اپنے بچوں کو کھانا کیسے کھلائیں گی

خالدہ پروین کہتی ہیں کہ جس کارخانے میں وہ کام کرتی تھیں اس کے مالک نے خبردار کیے بغیر سب کو فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

خالدہ کہتی ہیں کہ ’میں اپنے گاؤں گئی ہوئی تھی کیونکہ قومی تعطیل تھی۔ ہمارا کارخانہ پانچ اپریل کو دوبارہ کھلنا تھا۔ جب میں اس دن کام پر گئی تو کسی نے اعلان چسپاں کر رکھا تھا کہ تمام مزدوروں کو نکال دیا گیا ہے۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ اس کارخانے میں ایک ہزار سے زیادہ مزدور ہیں۔

بنگلہ دیش اپنی برآمدات سے جو پیسے کماتا ہے اس کا 83 فیصد سے زیادہ کپڑوں کی صنعت سے منسلک ہے اور یہ سالانہ 32 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

کورونا بینر
لائن

برآمدات پر بھاری انحصار

یہ صنعت مکمل طور پر یورپی اور امریکی منڈیوں میں برآمد کرنے پر قائم ہے۔ اگر وہ کپڑے خریدنے بند کر دیں تو پوری مقامی صنعت رک جاتی ہے۔

اور دنیا کے سب سے بڑے برانڈز نے تین ارب ڈالر سے بھی زیادہ کے آرڈر منسوخ کر دیے ہیں۔

کچھ کارخانے اب بھی کھلے ہوئے ہیں لیکن غیر ملکی آرڈرز کی منسوخی کے باعث طلب میں کمی ہوئی ہے اور زیادہ تر کارخانے بند ہوگئے ہیں

،تصویر کا ذریعہMUNIR UZ ZAMAN

،تصویر کا کیپشنکچھ کارخانے اب بھی کھلے ہوئے ہیں لیکن غیر ملکی آرڈرز کی منسوخی کے باعث طلب میں کمی ہوئی ہے اور زیادہ تر کارخانے بند ہوگئے ہیں

گیپ، زارا اور پرائی مارک ان خریداروں میں شامل ہیں۔ پرائی مارک نے اٹلی، فرانس، سپین، آسٹریا اور برطانیہ میں اپنے تمام سٹور بند کر دیے ہیں جبکہ زارا نے بھی عارضی طور پر اپنی دکانیں بند کر دی ہیں۔

اخلاقی ذمہ داری نہ لینے کا الزام

ہیومن رائٹس واچ نے کپڑوں کی کچھ مغربی برانڈز کے رویوں پر تنقید کی ہے۔ تنظیم نے ان کمپنیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ کارخانوں کی جانب سے کئی مصنوعات مکمل تیار کر لیے جانے کے باوجود انھوں نے کوئی مالی یا اخلاقی ذمہ داری لیے بغیر آرڈر منسوخ کر دیے۔

بڑھتی ہوئی تنقید اور دباؤ کے باوجود ایچ اینڈ ایم اور زارا کی مالک کمپنی انڈیٹیکس سمیت کچھ برانڈز نے کپڑے تیار کرنے والی کمپنیوں کو مذکورہ آرڈرز کی مکمل ادائیگی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مگر مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم سینٹر فار گلوبل ورکرز رائٹس کے ایک حالیہ سروے کے مطابق آرڈرز منسوخ ہونے کی وجہ سے کاروبار اور مزدوروں پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔

خریداروں کا ادائیگی سے انکار

تحقیق میں کہا گیا کہ جب آرڈر منسوخ کیے گئے تو 72.1 فیصد خریداروں نے خام مال (کپڑے وغیرہ) کی ادائیگی کرنے سے انکار کر دیا جو کہ فراہم کنندہ ادارہ خرید چکا تھا، اور 91.3 خریداروں نے تیاری پر ہونے والے اخراجات ادا کرنے سے انکار کر دیا۔

نتیجتاً جن کارخانوں کا سروے کیا گیا ان میں سے 58 فیصد اپنا زیادہ تر یا سارا کام بند کر چکے ہیں۔

بنگلہ دیش گارمنٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشین کی صدر روبانہ حق کہتی ہیں کہ ’کپڑے کے کارخانوں میں کام کرنے والے 20 لاکھ سے زیادہ لوگ اپنی ملازمتیں گنوا دیں گے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’کوئی بھی شخص اس وقت کپڑوں پر خرچ نہیں کرے گا بلکہ وہ سب وبا کے باعث خوراک اور دواؤں پر زیادہ خرچ کرنا چاہ رہے ہیں۔‘

کارخانہ مالکان کو بھی نقصان ہوا ہے

میران علی میسامی گارمنٹس لمیٹڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ ان کا کارخانہ ایچ اینڈ ایم کے لیے کپڑے بناتا ہے اور وہ یہ کام 1991 سے کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم زبردست مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یقینی بربادی ہمارے سامنے ہے۔‘

ان کے پاس 16 ہزار ملازمین ہیں۔ وہ کارخانہ دوبارہ کھولنا چاہتے ہیں لیکن جب لوگ عموماً ایک دوسرے کے ساتھ بہت قریب قریب رہ کر کام کریں تو سماجی دوری بہت مشکل ہوگی۔

فیکٹری مالک میران علی کہتے ہیں کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ان کا کاروبار بند ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہSalman Saeed

،تصویر کا کیپشنفیکٹری مالک میران علی کہتے ہیں کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ان کا کاروبار بند ہوا ہے

حکومت مزدوروں کی اجرتوں میں سبسڈی دینے کے لیے ایک پیکیج کی پیشکش کر رہی ہے مگر مشکلات بہت بڑی ہیں۔

’خوف کا دور دورہ‘

بنگلہ دیش 26 مارچ سے لاک ڈاؤن میں ہے جب ٹرانسپورٹ اور کاروبار کو بند کر دیا گیا تھا۔ جمعرات 23 اپریل تک بنگلہ دیش میں 4186 مصدقہ متاثرین سامنے آ چکے ہیں جبکہ 127 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

کپڑوں کی صنعت کو لاک ڈاؤن سے استثنیٰ دیا گیا ہے مگر مزدوروں کا کہنا ہے کہ کچھ کارخانے ان کی حفاظت کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

ایک کارخانے کے ملازم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں روزانہ کام پر جا رہا ہوں اور بہت ڈرا ہوا ہوں۔

’اس کارخانے میں بہت سے لوگ ایک چھوٹی سی جگہ پر کام کرتے ہیں جس سے کورونا کے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مجھے اپنی جان کا خوف لاحق ہے۔‘