دل نا امید تو نہیں: پیمرا کو نئے ڈرامے پر اعتراض، اداکارہ یمنیٰ زیدی نوٹس سے نالاں

حال ہی میں پاکستان کے نجی انٹرٹینمنٹ چینل ٹی وی ون کی جانب سے ڈرامہ سیریل ’دل ناامید تو نہیں‘ نشر کیا جانا شروع ہوا ہے جسے ناظرین کی جانب سے پذیرائی تو ملی، مگر پیمرا کو اس ڈرامے پر چند اعتراضات ہیں۔
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ٹی وی ون کو ہدایت کی ہے کہ وہ پانچ دن کے اندر اندر اس میں موجود مواد کو پیمرا کے ضابطہ اخلاق سے ہم آہنگ کرے۔
پیمرا کے مطابق اس ڈرامے میں معاشرے کی حقیقی تصویر پیش نہیں کی گئی ہے۔
ڈرامے میں انسانی ٹریفکنگ اور بچوں کے جنسی استحصال پر بات کی گئی ہے جبکہ یمنیٰ زیدی نے ایک جسم فروش لڑکی کا کردار ادا کیا ہے۔
یمنیٰ زیدی کے کردار کی مناسبت سے انھیں پارٹیز میں شامل دکھایا گیا ہے جسے خاص طور پر ’غیر اخلاقی مواد‘ قرار دیا گیا ہے۔
ڈرامے کی قسط نمبر دو، تین اور چھ پر اعتراض کیا گیا ہے جن میں حرکات و سکنات، مواد اور مکالموں کو معیوب کہا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگر اس ڈرامے میں مرکزی کردار نبھانے والی اداکارہ یمنیٰ زیدی پیمرا کے اس نوٹس سے نالاں دکھائی دیتی ہیں۔
بی بی سی اردو کے لیے صحافی براق شبیر کے ساتھ گفتگو میں انھوں نے اس ڈرامے کے مواد اور اس پر جاری ہونے والے نوٹس کے حوالے سے بات کی ہے۔
یمنیٰ زیدی کو سماجی موضوعات پر مبنی ڈراموں کے لیے جانا جاتا ہے اور پیار کے صدقے اور ڈر سی جاتی ہے صلہ کے بعد ان کا یہ تیسرا ڈرامہ ہے جس پر پیمرا نے اعتراض کیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پیمرا کے نوٹیفیکیشن میں پاکستان کے سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی کا نام نہیں لیا گیا ہے جس کے چینل پی ٹی وی ہوم پر بھی یہ ڈرامہ نشر ہو رہا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
یمنیٰ زیدی کہتی ہیں کہ دل نا امید تو نہیں صرف اُن کی کہانی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ دو اور ٹریکس ہیں جو بہت ہی ضروری ہیں۔
’پہلے بھی گذشتہ کچھ برسوں میں میرے پراجیکٹس پر نوٹسز (آ چکے ہیں) اور میں کبھی اس پر کوئی بیان جاری نہیں کرتی۔ لیکن دل ناامید تو نہیں بڑا خاص پراجیکٹ ہے اور جن پہلوؤں پر بات کی گئی ہے وہ بہت اہم ہیں۔ ان پر ہمیں بات کرنی چاہیے، ان پر ہمیں سوچنا چاہیے۔‘
پیمرا کے نوٹس کے حوالے سے وہ کہتی ہیں کہ جن مسائل پر ڈرامے میں بات کی گئی ہے، وہ ہمارے دیہات، سرکاری سکولوں اور گلی محلوں میں عام ہیں۔
’مجھے سمجھ نہیں آیا کہ پیمرا نے مواد پر نوٹس کیسے جاری کر دیا۔ میں اس نکتے کو سمجھ نہیں پا رہی کہ ہمارے گاؤں، سرکاری سکولوں، گلی محلوں میں جو مسئلے مسائل ہوتے ہیں، اگر ہم ان پر بات نہیں کریں گے تو ہم صرف خبریں دیکھیں گے، اور وہ حقیقی خبریں یہ ہوں گی کہ کسی بچے یا کسی بچی کے ساتھ یہ ہو گیا۔‘

،تصویر کا ذریعہTV One
یمنیٰ کہتی ہیں کہ اگر وہ کسی چیز پر سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں، اگر کوئی مواد بنایا ہے تو کم از کم اس کو نشر ہونے دینا چاہیے۔
’مجھے دل ناامید تو نہیں پر جو رائے مل رہی ہے وہ اتنی اچھی ہے، میں توقع نہیں کر رہی تھی۔ مجھے بڑا افسوس ہوا کہ پیمرا کی جو پوری ٹیم ہے وہ پھر کس چیز کی اجازت دینا چاہتے ہیں؟‘
وہ کہتی ہیں کہ پاکستانی انڈسٹری کے پاس پہلے ہی بہت کم وسائل ہوتے ہیں۔ ’اس پر اگر ہم بطور انڈسٹری کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اسے نشر تو ہونے دیں۔‘
اس سوال پر کہ انھیں معاشرے کے اس حصے کے بارے میں کیا لگتا ہے جو اس طرح کا مواد ٹی وی پر نشر کیا جانا پسند نہیں کرتے، یمنیٰ زیدی کہتی ہیں کہ ’جو لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں ان کے بھی خاندان ہیں، بچے ہیں، ہزار قسم کے مسئلے مسائل ہوتے ہیں، آپ اسے کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟‘
وہ کہتی ہیں کہ ’ہم صرف ساس بہو کے ڈرامے نہیں بنا سکتے، ہم رومانوی بھی بناتے ہیں، تو جب بہت ساری چیزوں کو جگہ دی جاتی ہے تو اسے بھی چھوٹی سے جگہ دینی چاہیے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ویسے تو اداکاروں کے لیے اپنے کسی ڈرامے کی شوٹنگ کے بعد اس کی ہر قسط دیکھنا ممکن نہیں ہوتا لیکن یہ ڈرامہ اُن کے لیے مختلف حیثیت رکھتا ہے۔
’میں تو صرف اداکارہ ہوں، مجھے نہیں پتا اس پر بنانے والوں کا کیا ردِ عمل ہے، لیکن مجھے بہت تکلیف ہوئی۔ میں ذاتی طور پر اس پراجیکٹ کی ہر قسط دیکھتی ہوں، اور سوچتی ہوں کہ کتنا اچھا بنایا ہوا ہے، کتنی عمومی چیزوں پر بات کی گئی ہے جس سے ہم میں سے کوئی نہ کوئی گزرا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ پیمرا کے نوٹس سے خوش نہیں ہیں۔
’پہلے بھی میرے پراجیکٹس کو نوٹسز ملے ہیں مگر اس (نوٹس) پر مجھے بڑی تکلیف ہوئی کہ اسیا نہیں ہونا چاہیے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ لوگ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بات کر رہے ہیں اور انھیں یہ دیکھ کر اچھا لگ رہا ہے۔
’میں نے زیادہ تر یہ دیکھا کہ لوگ اس کی حمایت کر رہے ہیں اور وہ پیمرا کے نوٹس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس چیز پر خود انھیں نظرِثانی کرنی چاہیے کہ انھوں نے اسے نوٹس کیوں جاری کیا ہے۔‘
کیا اس پراجیکٹ کی پیشکش پر سوچا تھا کہ اس طرح کا ردِعمل آ سکتا ہے؟ اس سوال پر وہ کہتی ہیں کہ اُنھیں نہیں پتا تھا کہ یہ ڈرامہ کون سے چینل پر چلے گا یا کیا ردِعمل ملے گا۔ ’میں نے تو ایک مقصد کے لیے کرنا چاہا تھا، تو اس مقصد کے لیے میں ابھی بھی اس پر بات کر رہی ہوں۔‘

’بس مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں خالی خالی کام نہ کروں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ اگر میری تصویر کسی پراجیکٹ پر ہے تو اس کی کوئی روح، کوئی مقصد ہونا چاہیے۔ اور چیزیں تو بنتی رہتی ہیں، مگر میری ذاتی چوائس یہ ہوتی ہے۔ اسی لیے سکرپٹ کے انتخاب میں وقت لگتا ہے اور پریشانی بھی ہوتی ہے۔‘
’شکر ہے کہ میری زندگی ایسی نہیں‘
جیسے کہ پہلے بتایا گیا کہ یمنیٰ نے اس ڈرامے میں ایک جسم فروش لڑکی کا کردار ادا کیا ہے۔ اس کردار نے انھیں کتنا متاثر کیا، اس پر بات کرتے ہویے وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے اس کردار کو کافی قریب سے محسوس کیا ہے۔
’بذاتِ خود میری بہت سمٹی ہوئی شخصیت ہے اور میں زیادہ گھلتی ملتی یا بات نہیں کرتی، تو جب ہم کچھ پارٹیوں کے مناظر شوٹ کر رہے تھے تو مجھے وہ احساس ہی اتنا برا لگا، میں نے سوچا کہ جن لوگوں کی ساری زندگی ہی ایسی ہوتی ہے تو وہ کتنی کٹھن ہوتی ہو گی۔‘
’میں نے شکر کیا کہ میری ساری زندگی ایسی نہیں ہے، اور میں نے شکر کیا کہ اس پر ایسا ڈرامہ بنایا جا رہا ہے کہ ایک لڑکی اس سے کیسے لڑ کر نکلتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہPTV Home
’آج کل صرف یہی ڈرامہ دیکھنے لائق ہے‘
پیمرا کے نوٹس کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے عمومی طور پر ڈرامے کی حمایت میں تبصرے دیکھنے میں آ رہے ہیں جبکہ شاذ و نادر ہی کوئی تبصرہ اس ڈرامے کے خلاف دیکھنے میں آ رہا ہے۔
زیادہ تر پاکستانی انٹرٹینمنٹ صارفین ٹوئٹر پر اس جانب توجہ دلاتے ہوئے نظر آئے کہ جن چیزوں کی اس ڈرامے میں عکاسی کی گئی ہے، ان میں سے زیادہ تر رویے پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔
فیشن ویب سائٹ سمتھنگ ہاٹ کے مینیجنگ ایڈیٹر حسن چوہدری نے لکھا کہ ہاں، دل ناامید تو نہیں یقینی طور پر 'پاکستانی معاشرے کی حقیقی تصویر' نہیں دکھا رہا۔
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں آج تک بچوں کے جنسی استحصال، تشدد، خواتین کے جنسی استحصال، سکول جانے والی لڑکیوں پر دباؤ اور جہیز کے لیے شادی کا ایک بھی واقعہ نہیں ہوا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
صارف عطیہ طارق نے کہا کہ یہ مضحکہ خیز ہے کہ کیسے پیمرا نے بچوں کے جنسی استحصال کے حوالے سے آگاہی پھیلانے والے ڈرامے اُڈاری پر پابندی لگانے کی کوشش کی اور اب سیکس ٹریفکنگ، جہیز، بچوں اور خواتین کے جنسی استحصال اور دیگر موضوعات پر کھلے انداز میں بات کرنے والے ڈرامے دل ناامید تو نہیں کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ لیکن اس سے انھیں حیرت نہیں ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@tariq_attya
صارف ماریہ نواز نے لکھا کہ آج کل ٹی وی پر جو واحد ڈرامہ دیکھنے لائق ہے وہ ’دل ناامید تو نہیں‘ ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@mariyanawaz
تاہم کچھ افراد نے پیمرا کے اس فیصلے کی حمایت بھی کی۔
صارف کوکب زیدی نے الزام عائد کیا کہ یہ ڈرامہ غیر ملکی فنڈنگ سے بنایا گیا ہے اور اس پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ڈرامہ حقیقی تصویر پیش نہیں کرتا۔
تاہم انھوں نے اپنے اس الزام کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@kaukabzaidi1
ایک اور صارف ثنا نے کہا کہ یورپ ان لوگوں کی تعریف کرتا ہے اور یہ لوگ اُن جیسے بننا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ جانتی ہیں کہ زیادہ تر چیزیں پاکستان میں ہوتی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم 'بے حیائی اور فحاشی' پھیلانے کے لیے حدیں پار کریں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Sana62937415











