لکس ایوارڈز: ایکٹر ان لا اور اڈاری سب سے آگے

مایا علی

،تصویر کا ذریعہFaisal Farooqui

،تصویر کا کیپشنمایا علی کو ’من مائل‘ کے لیے بہترین اداکارہ کا ایوارڈ دیا گیا
    • مصنف, حسن کاظمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں ہونے والے 16ویں لکس سٹائل ایوارڈز میں ’ایکٹر ان لا‘ چار ایوارڈز جیت کر سب سے آگے رہی۔

ان ایوارڈز میں اس مرتبہ بالی وڈ کے تین ستارے نامزد تھے جن میں فلم ایکٹر ان لاء کے لیے اوم پوری اور فلم جانان کے ٹائیٹل ٹریک کے لیے شریا گوشل اور ارمان ملک بہترین گلوکاروں کی کیٹیگری میں نامزد تھے۔

تاہم جیسے فلم فیئر میں نامزد پاکستان فنکاروں کو ایوارڈ نہیں مِل سکا، پاکستان میں بھی بھارتی فنکاروں کو ایوارڈ نہیں ملا۔

16ویں لکس سٹائل ایوارڈز میں گلوکارہ ٹینا ثانی، اور سٹائلسٹ طارق امین کو ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔ اس موقعے پر ہال میں موجود تمام افراد نے کھڑے ہو کر ان کے احترام میں تالیاں بجائیں۔

فلم کے شعبے میں گزشتہ سال کی سب سے کامیاب فلم ایکٹر ان لا نے چار ایوارڈز اپنے نام کیے جن میں بہترین فلم، بہترین اداکار (فہد مصطفیٰ)، بہترین ہدایتکار (نبیل قریشی) اور بہترین گلوکار عاطف اسلم شامل ہیں۔

ماہرہ خان نے اس سال بھی فلم 'ہو من جہاں' کے لیے بہترین اداکارہ کا ایوارڈ جیت لیا جبکہ اسی فلم کے لیے بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ 'ہو من جہاں' کے لیے شہریار منور کے حصے میں آیا۔

ماہرہ خان

،تصویر کا ذریعہFaisal Farooqui

،تصویر کا کیپشنماہرہ خان نے اس سال فلم 'ہو من جہاں' کے لیے بہترین اداکارہ کا ایوارڈ جیتا

یہ ایوارڈ اس لحاظ سے متنازع ہے کہ شہریار منور کا اس فلم میں مرکزی کردار تھا تاہم انہیں معاون اداکار کے لیے نامزد کیا گیا، اگرچہ شہریار نے ایوارڈ وصول کرتے ہوئے یہ کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ وہ کیوں اس شعبے میں نامزد کیے گئے۔ تاہم انھوں نے یہ ایوارڈ تسلیم کرلیا۔

بہترین معاون اداکار کے شعبے ہی میں بالی وڈ کے اوم پوری فلم ایکٹر ان لا کے لیے نامزد تھے۔

دوسری جانب بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ فلم 'دوبارہ پھر سے‘ کے لیے صنم سعید نے اپنے نام کیا جبکہ فلم 'لاہور سے آگے' کے گانے قلاباز دل پر آئمہ بیگ کو بہترین گلوکارہ قرار دیا گیا۔

اگر ٹیلی ویژن کی بات کی جائے تو گزشتہ برس کے متنازع ڈرامے 'اڈاری' نے تین ایوارڈ جیت لیے۔

بہترین ہدایتکار احتشام الدین ’اڈاری‘ کے لیے قرار پائے جبکہ اسی ڈارمے کی مصنفہ فرحت اشتیاق کو بہترین لکھاری کا ایوارڈ بھی ملا۔

اڈاری میں منفی مگر مؤثر کردار ادا کرنے والے احسن خان کو بہترین اداکار کا ایوارڈ دیا گیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان میں کسی منفی کردار پر بہترین اداکاری کا ایوارڈ دیا گیا ہو۔

طارق امین

،تصویر کا ذریعہFaisal Farooqui

،تصویر کا کیپشنسٹائلسٹ طارق امین کو ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا

اس موقع پر احسن خان نے کہا کہ یہ ڈرامہ معاشرے کی مجموعی فلاح کے لیے تھا کیونکہ معاشرے کو اخلاقی تعلیم کی ضرورت ہے تاکہ مشال خان جیسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔

ٹی وی کے شعبے ہی میں اے آر وائی کے ڈرامے ’دل لگی‘ کو بہترین ڈرامہ قرار دیا گیا جبکہ بہترین ساؤنڈ ٹریک 'من مائل' کے لیے قرۃ العین بلوچ اور اسی ڈرامے کے لیے مایا علی کو بہترین اداکارہ کا ایوارڈ دیا گیا۔

اس طرح ٹی وی کے شعبے میں ہم ٹی وی کے ڈراموں نے مجموعی طور پر پانچ ایوارڈز جیتے جبکہ ایک ایوارڈ اے آر وائی کے حصے میں آیا۔

موسیقی کے شعبے میں قرۃ العین بلوچ کے گانے ’سائیاں‘ کو بہترین گانا جبکہ زوئی وکاجی کے گانے ’ہوجاؤ آزاد‘ کی ویڈیو پر ہدایتکار کمال خان کو بہترین ویڈیو ہدایتکار کا ایوارڈ ملا۔ بہترین ابھرتا ہوا ٹیلنٹ حمزہ اکرم قوال 'خودی' پر قرار دیے گئے۔

عاطف اسلم

،تصویر کا ذریعہFaisal Farooqui

،تصویر کا کیپشنعاطف اسلم کو بہترین گلوکار قرار دیا گیا

سال کی بہترین البم کا اعزاز عزیر جسوال کے ’نہ بھلانا‘ کو دیا گیا۔

فیشن کیٹیگری میں سال کے بہترین ماڈلز کا ایوارڈ صدف کنول اور حسنین لہری کو دیا گیا، جبکہ بہترین ابھرتا ہوا ٹیلنٹ حرا شاہ کو قرار دیا گیا۔

دوسری جانب بہترین فوٹوگرافی شہباز شازی اور بہترین میک اپ کا ایوارڈ صائمہ راشد کو دیا گیا۔

فیشن کے دیگر شعبوں میں فیشن ڈیزاین (پریٹ) جینریشن ، فیشن ڈیزائن (لگژری پریٹ) شہلا چتور ، فیشن ڈیزائن (عروسی) فراز منان ، فیشن ڈیزائن (لان) ایلان اور مردوں کے بہترین ڈیزائنر کا ایوارڈ اسماعیل فرید کے نام رہا۔