کیا لبرل بالی وڈ اب قوم پرستوں کے نشانے پر ہے؟

سوشانت سنگھ اداکارہ بھومی پڈنیکر کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنسوشانت سنگھ اداکارہ بھومی پڈنیکر کے ساتھ
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

بالی ووڈ کے ابھرتے ہوئے اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی خود کشی نے فلم کے شائقین کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔ رواں برس جون میں ان کی خود کشی کے اسباب کی ابتدائی تفتیش سے یہ پتہ چلا کہ وہ ذہنی بیماری میں مبتلا تھے اور ایک عرصے سے گہرے ڈپریشن کا شکار تھے۔

ان کی ذہنی بیماری کا علاج بھی چل رہا تھا۔ سوشانت نے ممبئی میں اپنے فلیٹ میں خودکشی کی تھی۔ ان کی خودکشی کی تفتیش ممبئی پولیس کی خصوصی برانچ کے آفیسرز کر رہے تھے۔

سوشانت کا تعلق انڈیا کی ریاست بہار سے تھا اور بہار میں دو مہینے میں ریاستی اسمبلی کے انتخاب ہونے والے ہیں۔ ان کے معاملے کی تفتیش مہاراشٹر کی پولیس کر رہی تھی جہاں بی جے پی سے رشتہ توڑنے والی شیوسینا کی حکومت قائم ہے جسے گرانے کی کئی بار کوششیں ہوچکی ہیں۔

یہ صورتحال ایک سیاسی پلاٹ کے لیے مکمل تھی۔ حکومت نواز میڈیا نے دن رات کی محنت سے سوشانت کی بظاہر خودکشی کو مشتبہ قتل میں بدلنے کی بھرپور کوشش کی۔ سوشانت کی گرل فرینڈ اداکارہ ریا چکرورتی کو ایک مجرم کی طرح شک کے گھیرے میں کھڑا کر دیا گیا۔

ایسا منظر کھینچا گیا جیسے یہ مبینہ قتل سوشانت کے کروڑوں روپے حاصل کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہو۔ میڈیا نے ریا کو مجرم قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیے

ریا چکرورتی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پانچ ایجنسیوں کی تفتیش کے بعد سوشانت کی موت کامعاملہ اب پس منظر میں چلا گیا ہے۔ 28 سالہ ریا چکرورتی سے کئی تفتیشی اداروں نے بیسیوں گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ سوشانت کی موت کی تفتیش سے شروع ہونے والی یہ کہانی اب فلمی ستاروں کے ذریعے منشیات کے استعمال پر مرکوز ہو گئی ہے۔ 28 سالہ ریا چکرورتی کو منشیات کے استعمال کے سلسلے میں پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

ریا چکرورتی

،تصویر کا ذریعہJyoti Kapoor

اب یہ تفتیش نارکوٹکس کنٹرول بیورو کر رہا ہے۔ بیورو نے کئی اداکاراؤں اور فلم سے وابستہ دوسرے لوگوں سے پوچھ گچھ کی ہے۔ اب مزید تفتیش کے لیے اولین صف کی ہیروئنوں دیپیکا پڈوکون، سارہ ‏علی خان اور شردھا کپورکو بیورو کے دفتر طلب کیا گیا ہے۔ یہ تفتیش واٹس ایپ پر دو یا تین برس قبل ان ستاروں کی چیٹ کی بنیاد پر کی جا رہی ہے جس میں مبینہ طور پر کسی پارٹی میں ڈرگس لینے کے بارے بات چیت درج ہے۔

واٹس ایپ کی یہ کئی برس پرانی چیٹ باہر کیسے آئی۔ پھر یہ پرائیویٹ بات چیت کا ٹیکسٹ میڈیا تک کیسے پہنچا۔ یہ الگ سوالات ہیں۔ لیکن میڈیا میں ایسا منظر کھینچا گیا ہے جیسے بالی وڈ میں بڑے بڑے سٹارز منشیات کا استعمال کر رہے ہوں اور فلم انڈسٹری کے اندر ایک ڈرگ مافیا کام کر رہا ہو۔

جب کہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جن بنیادوں پر بیسیوں فلمی ستاروں اور ان سے منسلک لوگوں کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا جا رہا ہے اس کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ جس طرح ہیروئنوں کی طلبی کو میڈیا میں پیش کیا جا رہا ہے اس پر کئی اداکاراؤں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ان کا امیج جان بوجھ کر خراب کیا جا رہا ہے۔

اس پورے تنازعے میں بالی ووڈ اور اس کے پرستار دو حصوں میں منقسم ہو گئے ہیں۔ ایک وہ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ بالی ووڈ ایک ’لبرل مافیا اور منشیات‘ کی گرفت میں ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اب اس تفتیش سے بالی ووڈ کا یہ چہرہ بے نقاب ہو رہا ہے۔

معروف بھوجپوری ایکٹر روی کشن نے پارلیمنٹ میں ایک بحث کے دوران کہا ’منشیات کی لت نے فلم انڈسٹری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور جو لوگ اس میں ملوث ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔‘

دوسری جانب وہ لوگ ہیں جن کے خیال میں بالی ووڈ کو سیاسی وجوہات کی بنا پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ معروف اداکارہ اور رکن پارلیمان جیہ بچن نے پارلیمنٹ میں کہا کہ ’کچھ لوگوں کی غلطی کی وجہ سے پوری فلم انڈسٹری کی امیج کو کیوں تباہ کیا جا رہا ہے؟'

انھوں نے الزام لگایا کہ بالی ووڈ کے ہی کئی لوگ بالی وڈ کو نشانہ بنا رہے ہیں ’یہ لوگ جس تھالی میں کھاتے ہیں اسی میں چھید کر رہے ہیں۔‘

دیپیکا پاڈوکون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بالی ووڈ ایک عرصے سے قوم پرستوں کے نشانے پر ہے۔ فلم انڈسٹری نے شعوری طور پر خود کو سیاسی اعتبار سے غیر جانبدار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اسے عمومآ ایک لبرل انسٹی ٹیوشن تصور کیا جاتا ہے۔ اس کی فلموں میں عموماً مذہبی رواداری، مذاہب کی ہم آہنگی اور ایک ملے جلے سماج کی جھلک پیش کی جاتی ہے۔

فلم ایکٹرز، نغمہ نگار، اور فلمی ادیب اکثر انڈین معاشرے میں ہونے والے مظالم اور اہم واقعات پر اپنی تشویش اور مخالفت کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ کبھی سماج میں بڑھتی ہوئی عدم روادی پر انھوں نے تشویش ظاہر کی تو کبھی ہجومی تشدد کے خلاف انھوں نے آواز اٹھائی۔

بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد کئی مرحلوں پر شاہ رخ خان، عامر خان، دیپیکا پڈوکون، شبانہ اعظمی، مہیش بھٹ، جاوید اختر، سورا بھاسکر، انوراگ کشیپ اور فلمی دنیا کے بہت سے دوسرے سرکردہ لوگوں نے ملک کی صورتحال پر پشویش ظاہر کی یا اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ان کے خیالات دائی بازو کی قوم پرستی کے تصورات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انھیں بر سراقتدار بی جے پی کے قوم پرستی کے نظریات کا مخالف تصور کیا جاتا ہے۔ کچھ عرصے سے ان اداکاروں کے خلاف اتنی شدت سے نفرت کی مہم چلائی گئی کہ اب بائیکاٹ اور میڈیا ٹرائل کے خوف سے بیشتر سٹارز نے ملک کے حالات پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا بند کر دیا ہے۔ فلم انڈسری زبردست دباؤ میں ہے۔

انڈیا جیسے معاشرے میں فلم میڈیم عوام تک پہنچنے کا ایک انتہائی موثر ذریعہ ہے۔ وزیر اعظم مودی عوام تک پہنچنے کے لیے اکثر کرکٹرز، کھلاڑیوں اور فلم سٹارز کا سہارا لیتے ہیں۔ حکومت کے پروگراموں اور پالیسیوں کو مشتہر کرنے کے لیے بھی کئی جگہ فلمی ستاروں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ملک میں اس وقت جس طرح کی فضا ہے اس میں حکومت کی تنقید کے راستے محدود ہوتے جا رہے ہیں۔

مودی

،تصویر کا ذریعہPMO INDIA

کھلی بحث اور مباحثے سے بھی لوگ اب ڈرنے لگے ہیں۔ جمہوریت کے فروغ میں یونیورسٹیز، این جی اوز اور سول سوسائٹی کا جو کردار ہوا کرتا ہے وہ اب بدل رہا ہے۔ بالی ووڈ بھی اب اس کی زد میں ہے۔ دائیں بازو کے سخت گیر عناصر اب فلم کی کہانیوں، نغموں اور کرداروں پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فلم انڈسٹری کے لیے یہ ایک دشوار گزار مرحلہ ہے۔

بالی ووڈ پر اثر انداز ہونے کی کوششیں ماضی میں کانگریس کے دور اقتدار میں بھی ہوئی ہیں۔ لیکن سیاسی طور پر اثر انداز ہونی کی یہ کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ بالی وڈ کبھی کسی کے ہاتھ میں نہیں رہا ہے۔ اس کی مقبولیت کا راز اس کے شائقین میں پنہاں ہے۔ شائقین ہی یہ طے کریں گے کہ بالی ووڈ کیسا ہو۔ اس کی فلموں کی کامیابی پر ہی ہزاروں کروڑ روپے کی اس کی معیشت ٹکی ہوئی ہے اور کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ شائقین کے ہاتھ میں ہے۔