یاسر حسین: ’باہر کا کچرا مال برابر‘ کہنے پر پاکستانی اداکار ارطغرل کے پرستاروں کی طرف سے تنقید کی زد میں

یاسر حسین

،تصویر کا ذریعہFacebook/IamYasirHussain

جب سے ترک ڈرامہ ارطغرل غازی اردو زبان میں پاکستانی ٹیلی ویژن پر نشر ہونا شروع ہوا ہے، آئے روز اس سے جڑی نئی نئی باتیں سامنے آتی ہیں۔ کبھی ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس کے مرکزی کردار اینگن التن دزیتن 'پاکستان سے اچھی آفر' کے منتظر ہیں تو کبھی یہ کہ حلیمہ سلطان کا کردار نبھانے والی اسرا بِلگِچ اشتہارات میں ایک اور مقامی برانڈ کا چہرہ بن گئی ہیں۔

لیکن ایک چیز مستقل رہی ہے۔ وہ یہ کہ تمام پاکستانی فنکار یہاں ارطغرل کی پذیرائی اور مقبولیت سے خوش نہیں ہیں۔ آئے روز کسی نہ کسی مقامی ادارکار کا بیان سامنے آجاتا ہے جس میں ارطغرل کی نشریات کی مخالفت کی جاتی ہے اور حکومتی سطح پر مقامی فلم و ڈرامہ انڈسٹری کے لیے حمایت طلو کی جاتی ہے۔

گذشتہ روز بھی ایسا ہی ہوا جب اداکار یاسر حسین نے سوشل میڈیا پر 'پاکستانی ارطغرل اور پاکستانی تورگت' کے نام سے پوسٹ ہونے والی ایک تصویر کے ردِعمل میں لکھا کہ: 'ان کو کوئی نہیں پوچھے گا کیونکہ گھر کی مرغی دال برابر اور باہر کا کچرا بھی مال برابر۔'

یہ بھی پڑھیے

یاسر حسین کا اتنا ہی کہنا کافی تھا کہ پورے ملک میں موجود ارطغرل غازی کے پرستاروں نے ان پر دھاوا بول دیا اور یوں لگنے لگا جیسے سب نے ڈرامے کی طرح اصل زندگی میں جنگ کے لیے تلواریں نکال لی ہوں۔

ارطغرل

،تصویر کا ذریعہTWITTER

اریبہ لکھتی ہیں کہ ’آپ کسی کو کچرا کیسے کہہ سکتے ہیں۔ یاسر حسین کیا آپ ہوش میں ہیں؟‘

اسلام آباد میں ترک سفیر مصطفیٰ یردکل نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے ٹویٹ کرتے ہوئے لوگوں سے دریافت کیا کہ 'ارطغرل سے متعلق بحث میں کون درست ہے؟' ان کا مطلب تھا کہ آیا وہ لوگ درست ہیں جو ارطغرل کے اداکاروں کو 'غیر ملکی کچرا' سمجھتے ہیں یا وہ جو کہتے ہیں کہ 'ارطغرل دیکھ کر لوگ گھر میں ہونے والے کچرے جیسے کام کو مسترد کر رہے ہیں۔'

ارطغرل

،تصویر کا ذریعہTWITTER

پہلا بیان یاسر حسین سے منسوب کیا جا رہا ہے لیکن انھوں نے اسے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'میری ہر بات کو ترک ڈرامے کی کاسٹ سے مت جوڑیں۔ میں اداکاروں کی بہت عزت کرتا ہوں۔۔۔ باتوں کو گھما کر خبریں مت بنائیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'آج بھی نیشنل کی استری سب سے پائیدار ہے۔ وزیر آباد کی کٹلری کمال ہے۔'

جبکہ دوسرا بیان اداکارہ اور وی جے انوشے اشرف کا ہے جس میں انھوں نے یاسر حسین کے بیان کے ردعمل میں کہا کہ 'یاسر کو یاد کرانے کی ضرورت ہے کہ کون کچرا ہے۔ اگر ان کا کام انھیں پسند نہیں تو اس کے باوجود دنیا بھر کے اداکاروں کی عزت کرنی چاہیے۔' انھوں نے اس طرف اشارہ کیا کہ سکرپٹ، شو اور بجٹ کے اعتبار سے ارطغرل مقامی ڈراموں سے کہیں بہتر ہے۔

ارطغرل

،تصویر کا ذریعہTWITTER

’جھوٹی بہت اچھا ڈرامہ ہے؟‘

لیکن یاسر اور انوشے کے نوک جھونک سے پرے پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے یاسر حسین کی شامت آئی ہوئی ہے۔ یاسر حسین اس وقت پاکستان میں ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ کئی لوگوں کے مطابق وہ ارطغرل کی کاسٹ سے 'جلتے ہیں۔' تو دوسری طرف بعض صارفین ان کی بات سے متفق بھی ہیں۔

ٹوئٹر پر صارف ثنا جمال کے مطابق 'یاسر حسین کو کوئی نہیں جانتا۔ پاکستانیوں کو ارطغرل بہت پسند ہے۔'

ارطغرل

،تصویر کا ذریعہTWITTER

صالحہ ناصر نے لکھا کہ دونوں ہی غلط ہیں۔ 'ارطغرل بین الاقوامی کی سطح کی بہترین سیریز ہے جو میں نے دیکھی۔ جبکہ قومی سطح پر بھی کافی اچھی پروڈکشن موجود ہیں۔'

سلیم سید نے یاسر حسین کے ڈراموں کے نام لیتے ہوئے ان پر تنقید کی۔ 'کیا جھوٹی بہت اچھا خیال ہے؟ کیا جلن بہت اچھا پراجیکٹ ہے؟ کیا عشقیہ اچھا ڈرامہ ہے؟'

ارطغرل

،تصویر کا ذریعہTWITTER

عبدلباسط نے یاسر حسین کی بات کا جواب شعر سے دیا کہ: 'تمنا وہ تمنا ہے جو مرنے تک پوری نہ ہوئی، جو دل ہی دل میں رہ جائے اسے ارمان کہتے ہیں۔'

لیکن ایسا نہیں کہ یاسر کی مدد کو کوئی نہ آیا۔ اقصیٰ خالد لکھتی ہیں کہ ’یاسر ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ ہمیں صرف حکومت کو قصوروار نہیں ٹھہرانا چاہیے۔ ہمیں قوم بن کر (پاکستان میں بننے والے) قومی چیزوں کی بھی تشہیر کرنے چاہیے۔‘

ارطغرل

،تصویر کا ذریعہTWITTER

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ یاسر حسین سے متعلق شوبز کی دنیا میں کوئی تنازع کھڑا ہوا ہو۔

جولائی 2019 میں جب انھوں نے اقرا عزیز کو شادی کی پیشکش کی تھی تب ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں انھوں نے اقرا کو گلے لگا کر بوسہ دیا تھا۔

پاکستانی صارفین کی جانب سے اس پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا جس میں بعض صارفین نے اسے غیر اسلامی' ، 'غیر اخلاقی‘ اور 'تہذیب کے خلاف' قرار دیا تھا۔

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے موضوع پر بننے والے ڈرامے 'اڈاری' کے ولن اداکار احسن خان کے بارے میں انھوں نے مئی 2019 میں ایک ایوارڈ شو کے موقع پر کہا تھا کہ 'اتنا خوبصورت چائلڈ مولیسٹر؟ کاش میں بھی بچہ ہوتا۔'

اس کے بعد بھی یاسر حسین کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔