کامیڈین یاسر حسین کا اداکارہ اقرا عزیز کو بوسہ دینے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل

،تصویر کا ذریعہLux Style Awards
- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اردو
کامیڈین یاسر حسین اور اداکارہ اقرا عزیز کی جانب سے ان کے شادی کے اعلان کا ان کے فینز کو تو کافی عرصے سے انتظار تھا لیکن شاید یہ کسی کو توقع نہیں تھی کہ وہ کسی ایونٹ کے دوران اقرا کو پروپوز کریں گے۔
لکس سٹائل ایوارڈ کی تقریب کے دوران یہ پروپوزل تو ہو گیا اور اقرا نے منگنی کی انگوٹھی بھی قبول کر لی۔ لیکن اسکے بعد جو ہوا وہ شاید اس جوڑے کے لیے خاصا مشکل مرحلہ ہو۔
پروپوزل کے بعد یاسر حسین نے اقرا کو گلے لگایا اور انہیں بوسہ بھی دیا۔ ان کی یہ ویڈیو اب انٹرنیٹ پر وائرل ہے اور جیسے ایک طوفان برپا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سوشل میڈیا پر ان کے کئی فینز نے انھیں مبارکباد تو دی مگر شاید کئی فینز ایسے بھی ہیں جنہیں ان کا محبت کا یہ اظہار ایک آنکھ نہیں بھایا۔
وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یاسر حسین نے اقرا عزیز کو منگنی کی انگوٹھی پیش کی، جسے انھوں نے قبول کیا جس کے بعد وہ گلے ملے اور یاسر نے اقرا کو اس موقع پر کِس بھی کیا۔ اسی بات پر عوام ان سے ناراض ہیں۔
کئی ٹوئٹر صارفین نے قانون کی جانب اشارہ کیا تو بیشتر نے ان کے اس عمل کو 'غیر اسلامی' ، 'غیر اخلاقی` اور ’تہذیب کے خلاف' قرار دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن ہمیشہ کی طرح اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد میمز بھی شیئر کی گئیں۔ جن میں سب سے زیادہ بچوں کے مشہور کارٹون ٹام اینڈ جیری کی تھیں۔
شہزاد اخلاق نامی ٹوئٹر صارف نے ایسا ہی ایک کلپ شیئر کیا اور لکھا کہ یاسر حسین اور اقرا عزیز کی فل ویڈیو لیک ہو گئی ہے۔
نورین شمس کہتی ہیں کہ 'ہم بس لوگوں کی خوشیوں سے جلتے رہیں گے'۔

،تصویر کا ذریعہNoreen Shams
وہیں کچھ اقرا عزیز کے فینز ایسے بھی تھے جنھیں اس منگنی کا ’دکھ‘ بھی تھا۔ جیسا کہ احمد ساندھو نے یہ ٹویٹ کی۔

،تصویر کا ذریعہAhmad Sandhu
احسن تبسم کی یہ میم سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین کی شاید درست ہی نمائندگی کر رہی ہے:

،تصویر کا ذریعہAhsan Tabassum

،تصویر کا ذریعہAsfandyar Jehangir
اسفندیار جہانگیر کہتے ہیں کہ 'آپ کی دو، تین، چار بوائے فرینڈز یا گرل فرینڈز تو ہو سکتے ہیں، فرینڈز وِد بینیفٹس بھی ہو سکتے ہیں، اس میں کوئی شرم نہیں، آپ بند دروازوں کے پیچھے کچھ بھی کر سکتے ہیں لیکن آپ اپنی ہونے والی بیوی کو سب کے سامنے بوسہ نہیں دے سکتے کیونکہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ واہ ہیپاکریسی!'
اسرفیل آفریدی کہتے ہیں کہ 'ہر پاکستانی لبرل میں ایک تنگ نظر مولوی چھپا ہوا ہے'۔
جبکہ انیقہ کہتی ہیں کہ اپنی منگیتر یا بیوی کو پبلک مقام پر بوسہ دینا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آپ کو اپنی منگیتر، بیوی کو ضرور بوسہ دینا چاہیے اور اور ان سے یہ سوچے بغیر محبت کا اظہار کرنا چاہیے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اور ویسے یہ ایک فرینڈلی کِس تھی۔ خود بھی جیئیں اور دوسروں کو جینے دیں'۔
لیکن ان کے اس عمل کی مخالفت کرنے والے خاصے غصے میں نظر آئے اور ان میں سے بیشتر پاکستان کے 'اسلامی جمہوریہ پاکستان' ہونے کی دلیل سامنے رکھتے رہے ہیں۔ جیسا کہ مختیار خان نامی صارف نے کہا کہ ’کیا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ ہم مسلمان ہیں اور ایسا عوامی مقامات پر نہیں ہونا چاہییے'۔
ایک ٹوئٹر صارف فاطمہ بٹ نے لکھا کہ 'یاسر حسین نے اقرا عزیز کو ایل ایس اے کے موقع پر پروپوز کیا۔ استغفراللہ، انھوں (اقرا) نے کیسے یاسر کو ایسا کرنے دیا؟ میرا مطلب ہے کہ شادی شدہ افراد ہر کسی کے سامنے ایسا نہیں کرتے حالانکہ انہیں حق بھی حاصل ہے۔ کیوٹ کہنے والوں پر بھی افسوس ہے۔ یہ کیوٹ نہیں ہے۔ بے حیائی کی انتہا ہے'۔

،تصویر کا ذریعہFatima Butt
دوسری جانب پاکستانی قوانین کے مطابق پی ڈی اے یعنی پبلک ڈسپلے آف افیکشن کی پاکستان میں اجازت نہیں ہے۔ قانون کے مطابق 'کوئی بھی شخص جو دوسروں کے لیے اس وقت پریشانی کا باعث بنے جب وہ 1 کسی عوامی مقام پر کوئی قابل اعتراض عمل کرے، 2 کسی عوامی مقام پر یا اس کے قریب کوئی قابل اعتراض گانا، نظم یا الفاظ ادا کرے، ایسے شخص کو تین ماہ کی قید یا جرمانہ یا دونوں ہوں گے'۔











