انڈیا میں بوسہ لینے کا انوکھا مقابلہ تنازعے کا باعث

بوسہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈین میڈیا کے مطابق ملک کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں منعقدہ ایک دیہی میلے میں بوسہ لینے کے ایک انوکھے مقابلے کا انعقاد کیا گیا جو کہ بعد میں تنازعے کا شکار ہو گيا ہے۔

اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق جھارکھنڈ کے پاکڑ ضلع میں یہ روایتی میلہ منعقد ہوا تھا جس میں مقامی سیاسی پارٹی جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کے دو ممبرانِ اسمبلی بھی شریک تھے جہاں قبائلی شادی شدہ جوڑوں کے لیے بوسہ لینے کا مقابلہ منعقد ہوا تھا۔

ریاست میں حکمراں جماعت بی جے پی نے دونوں ممبران اسمبلی کو برطرف کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کی یہ دلیل ہے کہ ان دونوں ممبرانِ اسمبلی نے مقامی روایت کی توہین کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

جبکہ دوسری جانب اس مقابلے کو منعقد کرانے والے جے ایم ایم کے رکن اسمبلی سائمن مرانڈی نے کہا ہے کہ ’قبائلی سماج میں شادی شدہ جوڑوں میں محبت پیدا کرنے اور طلاق کی روز بڑھتی ہوئی تعداد کو روکنے کے لیے اس مقابلے کا انعقاد کیا گیا ہے۔‘

خیال رہے کہ سائمن مرانڈی سنتھال پرگنہ لٹّی پارا سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔

بوسہ

،تصویر کا ذریعہHindustan Times

،تصویر کا کیپشناخبار کے مطابق 18 مختلف عمر کے جوڑوں نے اس میں شرکت کی

اس موقعے پر جے ایم ایم پارٹی کے دوسرے رکن اسمبلی سٹیفن مرانڈی بھی وہاں موجود تھے۔ ریاستی دارالحکومت رانچی سے تقریباً 300 کلومیٹر دور قبائلی علاقے سنتھال پرگنہ کے ڈمریا گاؤں میں یہ انوکھا مقابلہ منعقد کیا گیا تھا۔

اخبار کے مطابق بوسہ لینے کے اس مقابلے میں تقریباً 18 شادی شدہ جوڑوں نے شرکت کی۔ اطلاعات کے مطابق مرانڈی گذشتہ 37 سال سے 'ڈمریا میلہ' کا اہتمام کرتے رہے ہیں جس میں روایتی قبائلی رقص، تیر اندازی اور دوڑنے کے مقابلے ہوتے رہے ہیں۔ یہ دو روزہ میلہ جمعے کو شروع ہوا اور سنیچر کو اختتام پزیر ہوا۔

اس مقابلے کی ویڈیو سماجی رابطے کی سائٹوں پر وائرل ہو گیا ہے جس میں قبائلی جوڑوں کو بھیڑ کے درمیان بوسہ لیتے دیکھا جا سکتا ہے۔