سُشانت سنگھ راجپوت کی موت اور ریا چکرورتی کا میڈیا ٹرائل: ’میڈیا ایک لڑکی کو شیطان کے طور پر پیش کر رہا ہے‘

سُشانت سنگھ راجپوت

،تصویر کا ذریعہSarang Gupta/Hindustan Times/Sujit Jaiswal/AFP

فلم ہدایتکار رام گوپال ورما نے اداکار سُشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد میڈیا میں ریا چکرورتی کے خلاف جاری ’میڈیا ٹرائل‘ پر ایک بار پھر سوال اٹھائے ہیں۔

انھوں نے ٹویٹ کیا کہ’ریا چکرورتی کو انصاف دلوانے اور میڈیا میں چھائے پاگل پن کے خلاف ابھی تک صرف اداکارہ تاپسی پنوں، ودیا بالن، شیبانی دانڈیکر، لکشمی منچو اور سوارا بھاسکر سامنے آئی ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بالی ووڈ کی خواتین انڈسٹری کے مردوں سے زیادہ ہمت والی ہیں۔‘

’ستیہ‘ اور ’کمپنی‘ جیسی کامیاب فلمیں بنانے والے رام گوپال ورما پہلے بھی اس کیس میں میڈیا ٹرائل پر آواز اٹھا چکے ہیں۔

اس سے پہلے انھوں نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’اگر آپ کسی ایسے شخص کا ساتھ نہیں دیتے جسے غلط ڈھنگ سے پھنسایا جا رہا ہے تو آپ کے برے وقت میں بھی کوئی آپ کا ساتھ نہیں دے گا۔‘

انھوں نے لکھا تھا کہ ریا نے میڈیا سے بات کر کے بہت صحیح قدم اٹھایا ہے۔

سوشل میڈیا پر کچھ لوگ ریا کے انٹرویو اور اس کے بعد شروع ہونے والی ’جسٹس فار ریا‘ مہم کو ایک سوچا سمجھا منصوبہ قرار دے رہے ہیں۔

یہ کیس ابھی تک عدالت کے کٹہرے میں نہیں پہنچا ہے لیکن ہر روز ایسی خبریں آتی رہتی ہیں جو عدالت کے فیصلے سے پہلے ہی محض شک کی بنیاد پر کسی کو قصوروار ٹھہراتی نظر آتی ہیں۔

ریا چکرورتی کے بارے میں میڈیا کے رویے کی مخالفت کرنے والوں میں ودیا بالن، تاپسی پنوں، وشال ڈنڈلانی، شبانی ڈنڈیکر سے لے کر منیشا لامبا اور ہرشوردھن کپور جیسی بالی ووڈ کی مشہور شخصیات شامل ہیں۔

یہ لوگ بنیادی طور پر ایک سوال اٹھا رہے ہیں کہ نیوز چینلز تحمل کے ساتھ تفتیشی اداروں کی رپورٹ کا انتظار کیوں نہیں کر رہے ہیں۔

ریا چکرورتی کے خلاف مبینہ میڈیا ٹرائل کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ریا چکرورتی نے کیا کیا ہے اور اس کیس میں وہ کتنی ذمہ دار ہیں یہ طے کرنا تفتیشی اداروں اور عدالتی نظام کا کام ہے اور یہ ان پر چھوڑ دیا جانا چاہیے۔

اس بارے میں

سواچھ بھارت مہم کی سفیر لکشمی منچو نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا ’میں نے راجدیپ سردیسائی کے ساتھ ریا چکرورتی کا پورا انٹرویو دیکھا۔ میں نے اس بارے میں بہت سوچا کہ مجھے اس پر کیا ردعمل دینا چاہیے۔ میں کافی لوگوں کو اس بارے میں خاموش تماشائی بنا دیکھ رہی ہوں کیونکہ میڈیا ایک لڑکی کو شیطان کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ مجھے نہیں معلوم حقیقت کیا ہے۔ میں سچ جاننا چاہتی ہوں۔ اور مجھے امید ہے کہ سچائی ایمانداری کے ساتھ سامنے آئے گی۔ مجھے عدالتی نظام پر مکمل اعتماد ہے اور ان تمام اداروں پر پورا اعتماد ہے جو سُشانت سنگھ راجپوت کو انصاف دلانے کے عمل میں مصروف ہیں۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

وہ مزید کہتی ہیں ’لیکن اس وقت تک ہم حقائق کو جانے بغیر کسی فرد اور اس کے پورے خاندان کی ’لِنچنگ‘ میں شامل ہونے سے اپنے آپ کو روک سکتے ہیں؟ میں تصور کر سکتی ہوں کہ اس پورے خاندان کو اس مبینہ میڈیا ٹرائل کے سبب کن حالات سے گزرنا پڑ رہا ہوگا۔ اگر میرے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوتا تو میں چاہتی ہوں کہ جو میرے ساتھ کام کرتے ہیں وہ میرا ساتھ دیں اور کم از کم جو مجھے جانتے ہیں وہ میرے حق میں آواز اٹھائیں۔ میں آپ سب سے بھی یہی کہنا چاہوں گی کہ جب تک کہ پوری حقیقت باضابطہ طور پر سامنے نہ آجائے اس وقت تک انھیں تنہا چھوڑ دیا جائے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

ودیا بالن نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے پر لکشمی منچو کا شکریہ ادا کیا اور ٹویٹ کی کہ ’یہ بہت ہی بدقسمتی کی بات ہے کہ ایک اچھے اداکار سُشانت سنگھ راجپوت کی بے وقت اور اذیت ناک موت میڈیا سرکس بن چکی ہے۔ آئیے ہم سب ایک شہری کے آئینی حقوق کا احترام کریں اور قانون کو اپنا کام کرنے دیں۔‘

اداکارہ تاپسی پنوں نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’میں سُشانت سنگھ راجپوت کو ذاتی طور پر نہیں جانتی تھی اور میں ریا کو بھی نہیں جانتی ہوں۔ یہ جاننے کے لیے صرف ایک انسان ہونا ضروری ہے کہ عدل و انصاف کے تقاضوں کو درکنار کر کے کسی ایک انسان کو مجرم قرار دینا کتنا غلط ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

آروشی، شینا بورا اور جسلین کور کا معاملہ

سُشانت سنگھ کے کیس کے معاملے میں ہر روز نئی معلومات سامنے آرہی ہیں اور میڈیا اسے اپنے ہی انداز سے پیش کر رہا ہے۔ اور اگر ہم میڈیا ٹرائل کے بارے میں بات کریں تو پھر آروشی اور شینا بورا کے کیس کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔

2015 میں دلی کے جسلین کور بنام سربجیت سنگھ کا معاملہ دیکھنے میں آیا جب ایک غلط تصویر کے استعمال کی وجہ سے سربجیت سنگھ کو ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے۔

سربجیت سنگھ نے 2015 سے لے کر 2019 تک قانونی جنگ لڑ کر اس معاملے میں اپنی بے گناہی ثابت کی تھی۔

2017 میں اس وقت کے چیف جسٹس کے ایس کھہر نے میڈیا ٹرائل کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا اور بتایا تھا کہ عدالت پہنچنے سے قبل پولیس میڈیا کو کتنی معلومات دے سکتی ہے اور ایسے معاملات کی رپورٹنگ کا اثر منصفانہ اور آزادانہ سماعت پر پڑ سکتا ہے۔

سُشانت سنگھ راجپوت کیس

سُشانت سنگھ راجپوت 14 جون کو ممبئی میں واقع اپنی رہائش گاہ میں مردہ پائے گئے تھے۔

ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر ان کی موت پر جاری بحث کے علاوہ تفتیشی ایجنسیاں اپنا کام کر رہی ہیں۔

یاد رہے کہ ممبئی پولیس اس واقعے کو خودکشی قرار دے چکی ہے۔

اس سلسلے میں منشیات کنٹرول بیورو کی ایک ٹیم نے جمعے کو ممبئی میں ریا چکرورتی کی رہائش گاہ کا بھی دورہ کیا ہے۔

سُشانت سنگھ کی موت کے کچھ ہفتوں بعد ان کے والد کے کے سنگھ نے پٹنہ پولیس میں ایف آئی آر درج کروائی اور ریا چکرورتی پر دیگر سنگین الزامات کے ساتھ خودکشی پر اکسانے کا الزام لگایا۔

بہار حکومت نے سی بی آئی سے ان کی موت کی تحقیقات کرنے کی سفارش کی تھی جسے مہاراشٹرا حکومت نے چیلنج کیا تھا۔

تاہم سپریم کورٹ نے سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ قبول کرلیا تھا۔ سی بی آئی نے اس معاملے میں ایک مقدمہ درج کیا ہے اور ریا چکرورتی سے بھی کئی دنوں سے پوچھ گچھ جاری ہے۔