انڈیا میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف مظاہرے: بالی وڈ کے چند فنکاروں کے خدشات اور کئی کی خاموشی پر سوال

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں شہریت کے متنازع قانون اور جامعہ ملیہ کے طلبہ پر پولیس ایکشن کے خلاف اب بالی وڈ سے بھی زیادہ آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ انڈسٹری کے کئی فلسمازوں اور فنکاروں نے طلبا کے خلاف کارروائی کی مذمت کی ہے۔ جبکہ امیتابھ بچن، سلمان خان، عامر خان اور شاہ رخ خان سمیت کئی بڑی ہستیاں خاموش ہیں۔ خود شاہ رخ خان اسی جامعہ سے فارغ التحصیل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بالی وڈ کے کچھ ناموں نے سماجی رابطوں کی سائٹس پر اپنا ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اداکارہ ہما قریشی اور پرینیتی چوپڑہ کو ان کے ٹویٹ کے لیے ٹرول کیا جا رہا ہے جبکہ اداکار سوشانت سنگھ کا کہنا ہے کہ انھیں متنازع قانون کی مخالفت پر ایک سیریئل سے نکال دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فلم 'گینگز آف واسع پور' کی اداکارہ ہما قریشی نے لکھا 'آپ ایک کلہاڑی لے کر ان سب طلبہ کو ذبح کیوں نہیں کر دیتے؟ ایک فائرنگ سکواڈ کو حکم دیں؟ آپ کا ضمیر باقی ہے یا مر چکا ہے؟'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
ایک دوسری ٹویٹ میں انھوں نے نریندر مودی اور امت شاہ کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا 'یہ حقیقت نہیں۔ ہم لوگ سیکولر جمہوریت ہیں۔ طلبا سے نمٹنے میں جس تشدد کا پولیس نے مظاہرہ کیا ہے وہ خوفناک ہے۔ شہریوں کو پرامن احتجاج کا حق ہے۔ نریندر مودی اور امت شاہ کیا اب یہ آپشن بھی نہیں ہے؟'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اداکارہ پرینیتی چوپڑہ نے لکھا 'جب بھی کوئی شہری اپنے خیالات کا اظہار کرے اور ایسا ہی ہو تو کیب (شہریت ترمیمی بل) کو بھول جائيں ہمیں ایک بل منظور کرنا چاہیے اور اپنے ملک کو اب جمہوری نہیں کہنا چاہیے۔ اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے بے قصور لوگوں کا پیٹا جانا بہیمانہ ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اداکار وکی کوشل نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ 'جو بھی ہو رہا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔ لوگوں کو پر امن طریقے سے اپنی آواز اٹھانے کا حق ہے۔ جمہوریت پر ہمارا یقین کسی صورت میں ختم نہیں ہونا چاہیے'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
اداکارہ کونکنا سین نے واضح طور پر لکھا ’طلبہ ہم آپ کے ساتھ ہیں! دلی پولیس شرم کرو‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا اکشے کمار نے غلطی کی؟
نہر وھو نامی ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا 'دو طرح کے بالی وڈ سٹار ہیں۔ ایک اکشے کمار کی طرح کے جو جامعہ کے طلبہ پر پولیس تشدد کے ٹویٹ کو لائک کرتے ہیں اور دوسرے سوشانت سنگھ جیسے جنھوں نے جامعہ کے طلبہ کی حمایت کرنے کے لیے 'ساودھان انڈیا' (ایک ٹی وی سیریئل) کا کنٹریکٹ کھو دیا۔ یہ ہے ریل ہیرو اور ریئل ہیرو کے درمیان فرق۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سارے ہنگامے کے دوران اکشے کمار کا سوشل میڈیا پر ایک ردعمل زیر بحث آ گیا۔ اکشے کمار نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کو لائیک کیا، اس ویڈیو میں پولیس طلبا کی پٹائی کر رہی تھی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
اس کے بعد لوگوں نے سوشل میڈیا پر اکشے کمار کو ٹرول کرنا شروع کردیا۔ معاملے کو بڑھتا ہوا دیکھ کر اکشے کمار نے بھی ٹوئٹر پر وضاحت پیش کی۔
اکشے کمار نے کہا ’جامعہ ملیہ کے طلبا کی ویڈیو غلطی سے لائیک ہو گئی۔ میں یونہی سکرول کر رہا تھا کہ غلطی سے لائیک دب گیا لیکن جیسے ہی مجھے احساس ہوا میں نے اسے ’ان لائیک‘ کر دیا۔ میں ایسی کسی کارروائی کی حمایت نہیں کرتا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5
نغمہ نگار ورون گروور نے لکھا ’اس کے بعد جو بھی ہو لیکن یہ حقیقت ہمیشہ تاریخ کا حصہ رہے گی کہ کچھ مکار لوگوں نے اس عظیم ملک کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش کی، لائبریری میں پڑھنے والے طالب علم، جو یونیورسٹی کا سب سے مقدس مقام ہے۔ آنسو گیس، لاٹھی اور لڑکیوں کے ساتھ زیادتی۔ حال دھندلا جائے گا، تاریخ رقم ہوگی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 6
فلم ساز انوراگ کشپ جو کافی عرصے سے ٹوئٹر سے غائب تھے سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے ٹویٹ میں کہا ’یہ معاملہ بہت بڑھ گیا ہے اب مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔ یہ حکومت پوری طرح فاشسٹ ہے۔ میں اس بات پر ناراض ہوں کہ جن لوگوں کی باتوں سے فرق پڑ سکتا ہے وہ خاموش ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 7
اداکار راج کمار راؤ نے ٹویٹ کی ’میں پولیس کی جانب سے طلبا پر تشدد کے استعمال کی مذمت کرتا ہوں۔ جمہوریت میں سب کو احتجاج کا حق حاصل ہے۔ میں عوامی املاک کو نقصان پہنچائے جانے کی بھی مذمت کرتا ہوں۔ تشدد سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ ‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 8
مہیش بھٹ نے جے کرشن مراٹھی کا قول ٹویٹ کیا ’اگر آپ کو پیار نہیں تو جو جی میں آئے کرو، زمین کے سارے خداؤں کے پیچھے جاؤ، تمام سماجی کام کرو، غریبوں کا بھلا کرو، سیاست کرو، کتابیں لکھو، نظمیں، تم ایک مردہ انسان ہو، محبت کے بغیر آپ کے مسائل بڑھتے رہیں گے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 9
ہدایت کار انوبھو سنہا نے بھی استہزایہ انداز میں ٹویٹ کی ’فلم، آرٹ، کھیل، سیاست اور ادب کے نامور لوگوں ہم نے وہ بننے کا انتخاب کیا جو ہم سب ہیں، اس لیے کیونکہ ہم سرکاری ملازم نہیں بننا چاہتے تھے۔ لیکن اب سب سرکار کے ملازم ہیں۔ ہاہاہاہا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 10
اداکارہ تاپسی پنوں نے لکھا ’یہ آغاز ہے یا اختتام ہے۔ جو بھی ہے، لیکن نئے اصول لکھے جارہے ہیں۔ جو ان میں پورا نہیں اترتا اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 11












