ایما واٹسن: ہیری پوٹر فلوں کی اداکارہ کہتی ہیں وہ اکیلی ہی خوش ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہالی وڈ کی معروف اداکارہ ایما واٹسن کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی 30ویں سالگرہ سے پہلے ذاتی زندگی کے حوالے سے دباؤ کی وجہ سے ’پریشانی اور بےچینی‘ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ایما واٹسن فی الحال 29 برس کی ہیں لیکن اگلے سال اپریل میں 30 برس کی ہو جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ذہن میں اس سے جڑے کئی خدشات ہیں اور ذہن آپ کو اشارے دینا شروع کر دیتا ہے۔
ان کے مطابق وہ اپنے آپ سے ایسے سوال پوچھتی ہیں کہ ’آپ کو اس عمر تک کیا کچھ حاصل کر لینا چاہیے تھا۔‘
میگزین ’برٹش ووگ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا ’اگر آپ کی شادی نہیں ہوئی تو آپ کے بچے نہیں ہو سکتے۔۔۔ اس سے ناقابل یقین حد تک اضطراب اور بےچینی بڑھ جاتی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن برطانوی اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ اکیلے خوش ہیں اور ’اپنی پارٹنر آپ‘ ہی ہیں۔
ہیری پوٹر فلوں سے شہرت پانے والی اداکارہ نے بتایا کہ وہ پہلے کبھی اس بات پر یقین نہیں کرتی تھیں کہ آپ اکیلے خوش رہ سکتے ہیں۔
’مجھے اس میں بہت وقت لگا، لیکن اب میں تنہا خوش ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایما خود خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن بھی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ 2018 ان کی زندگی کا ایک مشکل مرحلہ تھا۔
’میں اکثر سوچتی تھی کہ ہر کوئی 30ویں سالگرہ پر اتنا شور کیوں مچاتا ہے؟ یہ کوئی اتنی بڑی بات تو نہیں۔‘
’اور اب 29 برس کی ہونے پر میں دباؤ اور بےچینی محسوس کرتی ہوں اور یہ اس لیے ہے کیونکہ اچانک ہر جگہ سے مجھے اشارے مل رہے ہیں۔‘
’اگر آپ نے گھر نہیں بنایا، آپ کا خاوند نہیں ہے، آپ کی اولاد نہیں ہے اور آپ 30 برس کے ہو رہے ہیں اور آپ اپنے کریئر میں محفوظ اور مستحکم جگہ پر نہیں ہیں، یا اب بھی ان چیزوں کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔۔۔ اس سے بےچینی ناقابل یقین حد تک بڑھ جاتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایما واٹسن نئی آنے والی فلم ’لٹل ویمن‘ میں جلد نظر آئیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں لورا ڈرن اور میرل سٹریپ کے ساتھ کام کرنا بہت اچھا لگا۔
’ہم تینوں ایک دوسرے کو لٹل ویمن سے کافی عرصہ پہلے سے جانتی ہیں۔‘
’ہماری ملاقات انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہوئی۔ ہماری دوستی انسانی ہمدردی کے کارکنان کی حیثیت سے ہوئی اور ہم ایک ساتھ کام کرنے سے پہلے ایک تحریک کا حصہ رہ چکی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایما واٹسن اقوام متحدہ کی خواتین کے لیے ’گڈول سفیر‘ ہیں اور ’ہی فار شی‘ نامی مہم کا بھی حصہ تھیں جسمیں عالمی صنفی مساوات کے لیے آواز اٹھائی گئی۔
اس مہم کے لیے انھوں نے نوبل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کا بھی انٹرویو کیا تھا۔
ملالہ کا کہنا تھا کہ وہ ایما واٹسن کی ہی وجہ سے خود کو ’فیمنسٹ‘ کہنے لگیں اور پھر انھیں اپنی اس شناخت پر کوئی شک نہیں رہا۔











