مجھے عریاں قطار میں کھڑا کیا گیا: ہالی وڈ اداکارہ جینیفر لارنس

،تصویر کا ذریعہFILIPPO MONTEFORTE
ہالی وڈ کی معروف اداکارہ جینیفر لارنس نے کہا ہے کہ کریئر کے آغاز میں فلم پروڈیوسرز نے عریاں قطار میں کھڑا کیا اور انھیں کہا گیا کہ وہ اپنا وزن کم کریں۔
ہالی وڈ میں ایک تقریب میں بات کرتے ہوئے 27 سالہ اداکارہ نے کہا کہ انھیں شہرت ملنے سے پہلے ان جگہوں پر کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں تھا۔
انھوں نے کہا کہ جوں جوں ان کی شہرت بڑھتی گئی، انھیں اس قسم کی حرکتوں سے پناہ ملتی گئی۔
یہ بھی پڑھیے

انھوں نے کہا: 'میں اپنی آواز کسی بھی لڑکے، لڑکی، مرد، عورت کے لیے بلند کروں گی جو محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپنا تحفظ نہیں کر سکتے‘۔
2013 میں 'سِلور لائننگز پلے بک' کے لیے آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والی اداکارہ نے لوگوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ ایک فلم کے لیے آڈیشن دینے گئیں تو انھیں ایک خاتون پروڈیوسر نے کہا کہ وہ عریاں ہو کر قطار میں کھڑی ہو جائیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لارنس نے کہا کہ یہ تجربہ 'باعثِ ذلت' تھا کیوں کہ ان کے قریب کھڑی لڑکیاں ان سے دبلی پتلی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
'جب میں چھوٹی تھی اور (اپنا کریئر) شروع کر رہی تھی تو مجھے ایک فلم کے پروڈیوسرز نے کہا میں دو ہفتوں میں اپنا وزن 15 پاؤنڈ کم کر لوں۔
'مجھ سے پہلے ایک لڑکی کو جلد وزن کم نہ کرنے کی وجہ سے نکال دیا گیا تھا۔'
وہ بتاتی ہیں کہ پروڈیوسر نے انھیں کہا کہ وہ اپنی عریاں تصاویر لیں اور انھیں اپنی خوراک کم کرنے کے لیے بطور 'تحریک' استعمال کریں۔
جینیفر لارنس نے کہا کہ وہ خود کو 'قید میں' محسوس کر رہی تھیں اور انھوں نے اس وقت اس کی مذمت اس لیے نہیں کی کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ ہالی وڈ میں کریئر بنانے کے لیے یہی کچھ کرنا پڑتا ہے۔
جینفر لارنس کا یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا ہے جب ہالی وڈ کے پروڈیوسر ہاروی وائن سٹین کے خلاف پے در پے جنسی ہراسانی کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ اس سے فلمی صنعت اور دوسرے شعبوں میں عورتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر بحث شروع ہو گئی ہے۔











