چین میں حکام اتنے معروف ڈرامے ’یان شی پیلس‘ کے خلاف کیوں ہوگئے؟

،تصویر کا ذریعہIQIYI
یہ سنہ 2018 میں چین کے مقبول ترین ڈراموں میں سے تھا لیکن اب پورے ملک میں اس کو سکرین سے ہٹا دیا گیا ہے۔
چین کے سامراجی دور میں زندگی سے متعلق ڈرامہ ’یان شی پیلس‘ گذشتہ برس ریلیز کیا گیا تھا اور اس نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دیے تھے۔
چین میں یہ لگاتار 39 دن تک آن لائن سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ڈرامہ تھا اور نیٹ فلکس جیسے چینی ورژن آئیچی ای پر 15 ارب سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
تاہم جنوری کے اختتام پر صورت حال اس وقت بدلی جب سرکاری ذرائع ابلاغ میں سامراجی دور پر بنائے گئے ڈراموں کے 'منفی اثرات' پر ایک مضمون شائع ہوا، اور پھر اسے فوراً ہی سکرین سے ہٹا دیا گیا۔ تو اتنامقبول ڈرامہ بند کیوں ہوا؟
'چینی معاشرے کے لیے برا'
ایسا اس وقت ہوا جب ریاستی اخبار بیجنگ ڈیلی سے منسلک تھیوری ویکلی نے ایک مضمون میں تاریخی ڈراموں کو بالعموم اور یان شی پیلس کو بالخصوص حدفِ تنقید بنایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس میں بہت سے ایسے 'منفی اثرات' کا ذکر کیا گیا جو کہ ان ڈراموں کی وجہ سے چینی معاشرے پر پڑ رہے تھےـ پرتعیش زندگی کی تشہیر کرنا، سامراجی دور میں زندگی کی ستائش اور بادشاہوں کی مدح سرائی کرنا جو موجودہ وقت کے قومی ہیروز کو پسِ منظر میں دھکیل رہے تھے۔
رسالے میں اور بھی مشہور تاریخی ڈراموں کا نام لیا گیا ہے جن میں 'رویی رائل لو ان دی پیلس'، 'سکارلیٹ ہارٹ اینڈ دی لیجنڈ آف می یو'شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس مضمون کی اشاعت کے فوراً بعد یان شی پیلس اور 'رویی رائل لو ان دی پیلس‘ تمام ریاستی ٹی وی چینلز کی سکرینز سے اتار دیے گئے۔
بہرحال یہ ڈرامے آئیچی ای پر اب بھی موجود ہیں۔ یان شی پیلس پہلی مرتبہ آئیچی ای ہی سے نشر ہوا تھا۔
متضاد تاریخی بیانیے
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں چین کے امور کے ماہر پروفیسر سٹینلی روسن نے بی بی سی کو بتایا کہ 'ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے۔'
'لیکن میں کہوں گا کہ سینسر شپ یقیناً بڑھی ہے۔'
'یان شی پیلس کے بارے میں خیال کیا گیا کہ یہ غلط اقدار، کمرشل ازم اور صارفین میں اضافے جیسی قباحتوں کی فروغ دے رہا ہے، نہ کہ اشتراکیت پسندی کی بنیادی اقدار کی جن کا فروغ بیجنگ دکھانا چاہتا ہے۔'
'وٹ از آن ویبو' کی مدیرِ اعلیٰ مانیا کوئٹسی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ 'وہ افراد جو ایسے ڈرامے دیکھتے ہیں ان کے لیے اس میں ہمیشہ کچھ تعلیمی اور چینی ثقافت کی اقدار اور اہم تاریخی بیانیہ ہوتا ہے۔'
ہانگ کانگ بیپٹسٹ یونیورسٹی کے پروفیسر زو ینگ نے بی بی سی کو بتایا 'سینسر کرنے والے غیر سنجیدہ تفریحی پروگراموں سے جانتے بوجھتے صرفِ نظر کرتے ہیں۔‘
'لیکن یہ صرف اس وقت تک ہوتا ہے جب تک ایسے پروگرام بہت زیادہ مشہور نہ ہو جائیں اور سماجی، اخلاقی، اور نظریاتی اقدار کے لیے خطرہ نہ بن جائیں۔ یان شی پیلس اس طرح کے پروگراموں کی ایک عمدہ مثال ہے۔'
یان شی پیلس کی شہرت کے پسِ منظر میں تھیوری ویکلی کا مضمون متوقع طور پر انٹرنیٹ پر بحث کا موضوع بن کر ابھرا۔ اس پر رائے کا اظہار کرنے والوں کی جانب سے ناقدین کی مذمت اور انٹرنیٹ پر اس حوالے سے ہونے والی گفتگو سے حکام زیادہ خوش نہ تھے۔
مانیا کوئٹسی کہتی ہیں کہ خبروں کی ویب سائٹ فیونکس کی ایک پوسٹ دس ہزار سے زیادہ مرتبہ شیئر ہوئی اور اس پر 32 ہزار سے زیادہ افراد نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔
یہ تمام آراء اب بلاک کر دی گئی ہیں اور کمنٹ سیکشن کو بند کر دیا گیا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ 'بہت سے رائے کے اظہار کے سیکشنز کو بند کر دینا بذاتِ خود بہت کچھ بتاتا ہے۔'
بیرون ملک بہت زیادہ مقبول؟
بیرون ملک صارفین میں اس ڈرامے کی مقبولیت ایک اور مسئلہ بنی۔
روسن کہتی ہیں کہ ’دوسرے ممالک میں اسے کامیابی ملی مگر اس کے ذریعے دیے گئے پیغام کو کنٹرول کرنا بھی ضروری تھا۔'
بیجنگ یہ چاہتا ہے کہ چین سے باہر اس کی ثقافت کی ترویج ہو لیکن صرف ان چینی اقدار کی جو وہ چاہتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہIQIYI
تاہم اگر ایک پروگرام چین سے باہر مشہور ہو رہا ہے مگر اس میں غلط اقدار کا اظہار ہے تو حکام شاید یہ چاہیں گے کہ اس کو مکمل طور پر نہ دکھانا ہی زیادہ بہتر ہو گا۔
بیجنگ ماضی اور حال کے حوالے سے چین کے بیانیے کو کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے۔
صدر شی جن پنگ ابھرتے ہوئے امن پسند چین کے خیال کو فروغ دیتے ہیں اور یہ کہ چین ہم آہنگی میں یقین رکھتا ہے۔
یان شی پیلس چین کے حوالے سے ایک مخفی پلان بنانے والا اور پیٹھ میں چھرا گھونپنے والا تصور قائم کر رہا تھا۔
سٹینلی روسن کہتی ہیں اس بندش کے ذریعے ابھرتے ہوئے امن پسند چین کا پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
خود احتسابی پر مبنی سینسر شپ
اگرچہ یان شی پیلس ابھی انٹرنیٹ پر موجود ہے تاہم بیجنگ کے لیے یہ ناممکن ہے کہ بظاہر اس پروگرام کے ذریعے ہونے والے ’نقصان‘ کو پورا کرسکے۔
لیکن عوامی تنقید نے بہرحال آئندہ آنے والے پروگراموں کو ایک پیغام ضرور دیا ہے۔
عموماً صرف ایک حکومتی شخصیت کسی پروگرام کو دیکھتی ہے اور اگر اس کو پسند نہ آئے تو وہ پروپیگینڈا کرنے والے محکمہ کو رابطہ کر کے اس کے خلاف ایک تنقیدی مضمون شائع کروانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔
مضمون شائع ہونے کی صورت میں ہر کوئی جانتا ہے کہ اس کو طاقت کے مراکز کی حمایت حاصل ہے اور اس کے بعد ٹی وی چینلز ایسے پروگرام کو یا تو خود ہی سینسر کر دیتے ہیں یا مکمل ختم کر دیتے ہیں۔
کوئٹسی کے مطابق 'نوے کی دہائی سے چین میں تاریخی ڈرامے مشہور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سینسر افسران کی نظر میں موجودہ دور کے ڈراموں اور تاریخی ڈراموں کے حوالے سے معیار مختلف ہیں۔
'لیکن اگر ان ڈراموں کا محور سازش، طاقت کے حصول کی لڑائی اور تصادم ہو تو میرے خیال میں یہ چین کی وہ تاریخ نہیں ہے جسے وہ دکھانا چاہتے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک پیغام یہ بھی ہے کہ آئندہ آنے والے پروگراموں کے ہدایت کار محتاط رہیں۔
سٹینلی روسن کہتی ہیں کہ 'میں کہوں گی کہ سینسر شپ بہت سخت ہوتی جا رہی ہے اور یہ صرف ڈراموں اور فلموں تک محدود نہیں ہے بلکہ موسیقی جیسا کہ ریپ میوزک کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘
مثبت اثر و رسوخ کی کوشش
جب بات مثبت اثر و رسوخ بڑھانے کی ہوتی ہے تو چین بسا اوقات اپنے راستے میں خود ہی کھڑا نظر آتا ہے۔
اس کی مثال وہ فلمیں ہیں جو یہ آسکر کی غیر ممالک کی کیٹگری میں مقابلے کے لیے بھیجتا ہے۔
گذشتہ برسوں میں بہت سے مضبوط امیدوار سامنے آئے لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان فلموں کے ذریعے وہ کہانی بیان کی جاتی ہے جو بیجنگ کے خیال میں چین کی منفی تصویر پیش کرتی ہے۔
سنہ 2017 کی فلم ’اینجلز ویر وائٹ‘ بچوں سے زیادتی کے بارے میں تھی جبکہ گذشتہ سال 2018 کی فلم ’ڈائنگ ٹو سروائیوو‘ ایک کینسر کے مریض کے متعلق ہے جو انڈیا سے غیرقانونی طور پر دوائیں درآمد کرتا ہے۔
یہ دونوں فلمیں چین میں کامیاب ہوئیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی تعریف کی گئی لیکن یہ چین کا وہ پہلو دنیا کو نہیں دکھاتیں جو بیجنگ دکھانا چاہتا ہے۔
سٹینلی روسن کہتی ہیں کہ 'اگر وہ (چین) تھوڑی مزید تنقید برداشت کر لیں تو وہ اپنا زیادہ دوستانہ پہلو دنیا کو دکھا سکتے ہیں۔
'لیکن وہ پریشان ہیں کہ اگر ایک دفعہ انھوں نے اس کی اجازت دے دی تو پھر اس پر وہ اپنا کنٹرول قائم نہ رکھ پائیں گے۔'








