کیریئر تباہ کرنے پر ایشلے جوڈ کا وائن سٹائن پر ہرجانے کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہReuters
اداکارہ ایشلے جوڈ نے آسکر انعام یافتہ ہاروی وائن سٹائن بدنام کرنے اور جنسی ہراس کا مقدمہ دائر کیا ہے۔
اداکارہ کا کہنا ہے کہ وائن سٹائن نے ان کی جنسی خواہشات کی تکمیل نہ ہونے کے بعد ان کے کیریئر کو نقصان پہنچایا۔
اس مقدمے میں وائن سٹائن پر بدنام کرنے، جنسی ہراس اور کیلیفورنیا ان فیئر کمپیٹیشن لا کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
اسی بارے میں
ایشلے جوڈ ان خواتین کے پہلے گروہ میں سے تھیں جو فلم ساز کے خلاف جنسی ہراس کے الزامات کے ساتھ سامنے آئیں۔
وائن سٹائن پر ریپ، جسمانی قربت اور ہراساں کیے جانے کے متعدد الزامات ہیں۔
لاس اینجلس کی عدالت میں دائر مقدمے میں کہا گیا ہے کہ وائن سٹائن نے انڈسٹری میں اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ایشلے جوڈ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا اور ان کے کام تلاش کرنے کی اہلیت کو محدود کیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بات اس وقت سامنے آئی جب گذشتہ سال لارڈ آف دی رنگز کے ڈائریکٹر پیٹر جیکسن نے کہا کہ وہ اپنی فلم میں ایشلے جوڈ کو لینا چاہتے تھے لیکن وائن سٹائن کی کمپنی سے بات کرنے کے بعد علم ہوا کے انھیں بلیک لسٹ کیا گیا تھا۔
انھوں نے کہا وائن سٹائن نے انہیں بتایا تھا کہ اس اداکارہ کے ساتھ کام کرنا ایک برے خواب جیسا ہے۔
تاہم وائن سٹائن کا کہنا تھا کہ پیٹر جیکسن کی کاسٹنگ کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں تھا اور ایشلے جوڈ کا کریئر تباہ کرنے میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں۔
جنوری میں بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں بات کرتے ہوئے ایشلے جوڈ نے کہا تھا کہ انھیں لگتا ہے کہ وائن سٹائن نے انہیں نشانہ بنایا کیونکہ وہ ان سے خوفزدہ نہیں تھیں۔
’اسی لیے انھوں نے مجھے بلیک لسٹ کیا اور بدقسمتی سے انتہائی کامیابی سے میرا کریئر سبوتاژ کیا۔‘
ایشلے کا کہنا ہے کہ اگر یہ مقدمہ جیت جاتی ہیں تو وہ ہرجانے کی رقم ’ٹائمز اپ لیگل ڈیفینس فنڈ‘ میں جمع کروائیں گی۔
’ٹائمز اپ‘ نامی مہم جنسی ہراس کے خلاف ہے جو جنوری میں میڈیا، فلم اور براڈ کاسٹگ میں ہونے والے جنسی ہراس کے واقعات کے خلاف شروع ہوئی۔
اس مہم سے بنایا گیا فنڈ ایسے لوگوں کی مدد کرتا ہے جنھیں کام کی جگہ پر جنسی ہراس، استحصال یا توہین کا نشانہ بنایا گیا ہو۔










